.

بھارت کا سیاسی منظر

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کا سیاسی منظر‘ اگرچہ خاصی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور جگہ جگہ پیوند کاری نظر آتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایک قسم کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ این جی اوز کی طرف سے قائم کی جانے والی عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سیاسی منظر پر ابھرنے نے‘ جسے حقارت سے جاہلوں کی پارٹی کہا گیا تھا‘ منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس نے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا متبادل پیش کر دیا ہے جس کی کہ اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جب کہ کانگریس اور بی جے پی کا یہ حساب ہے جیسے دو مختلف پرانی بوتلوں میں ایک ہی شراب ہو۔ علاقائی پارٹیاں‘ جن کا ریاستوں میں بہت عمل دخل ہے‘ وہ سب سے زیادہ خسارے میں رہی ہیں۔ ان کا لسانی‘ علاقائی، نسلی یا مذہبی حوالے سے جو اثر رسوخ تھا اس میں اب واضح کمی ہو گئی ہے‘ اے اے پی کے دہلی اسمبلی کے الیکشن میں کامیابی نے تقسیم در تقسیم کے عمل پر کاری ضرب لگائی ہے کیونکہ اس نے ذات پات‘ رنگ‘ نسل‘ علاقہ یا اس قسم کی دیگر ترجیحات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ جب کانگریس اور بی جے پی دونوں نے تسلیم کیا کہ انھیں وہ طریقہ سیکھنا ہو گا جس طرح اے اے پی نے کامیابی حاصل کی ہے جب کہ اصل بات یہ ہے کہ ان دونوں پارٹیوں کو اپنے آپ کو بدلنا ہو گا تاہم وہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی اسیر ہیں۔

رہا یہ سوال کہ اے اے پی کے حلقے میں مارکسسٹ اور نکسل باڑی بھی شامل ہیں تو اس بات کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک وہ عوام کی امنگوں پر پوری اترتی رہے گی۔ اور اس کا امتحان جلد ہی پیش آ گیا۔ اے اے پی غریبی کو مٹا رہی ہے جس نے آزادی کے 67 سال بعد بھی بھارت کی کم از کم آدھی آبادی کو دبوچ رکھا ہے۔ ایک چیز یقینی ہے کہ بائیں بازو کو غیر ضروری طور پر نہایت بیدردی سے کچل دیا گیا ہے۔ یہ بے شک ایک نقصان ہے لیکن اس کا الزام خود انھی پر آتا ہے کیونکہ اب ان کا بھی گراس روٹ سے پہلے جیسا مضبوط تعلق نہیں رہا۔ تعمیر و ترقی اور مساوات کا مقصد محض نعرے بازی اور زبانی جمع خرچ سے حاصل نہیں ہوتا۔ اے اے پی آدھی نچلی آبادی کے لیے ایک واضح ایجنڈے اور ٹائم فریم کے ساتھ باہر نکلی ہے۔ جب کمیونسٹ مغربی بنگال پر اپنی 35 سالہ حکومت کے دوران عام لوگوں کی زندگی کے معیار کو بہتر نہیں بنا سکے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کا مارکسزم بس زبانی دعویٰ ہی تھا۔ اب تو وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔ جب وہ کئی عشروں تک غریبوں کی حالت بہتر نہیں بنا سکے جب کہ اے اے پی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تقریباً 12 مہینے میں یہ کام کر دکھائے گی۔ دو بڑی پارٹیاں کانگریس اور بی جے پی تو اب مندروں کے مہنت کی مانند ہو گئی ہیں۔

انھوں نے کچھ نہیں سیکھا اور نہ ہی کچھ فراموش کیا ہے۔ اپنی پالیسیوں کو درست کرنے کے بجائے وہ اے اے پی کو ایک ایسا بُلبلہ سمجھتی ہیں جو اپریل میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات تک خود ہی پھٹ جائے گا۔ ان کی سوچ غلط ہے کیونکہ اس پارٹی نے عوام کے تصورات کو چھو لیا ہے اور یہ جنگل کی آگ کی مانند پھیل رہی ہے۔ لاکھوں لوگوں نے اے اے پی میں شمولیت اختیار کر لی ہے جو اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی طلسمی چھڑی اب پہلے جیسا ہجوم اکٹھا نہیں کر رہی حالانکہ میڈیا اب بھی اسے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس بی جے پی کو خبردار کر رہی ہے کہ کانگریس کو نہیں اے اے پی کو روکو۔ حالانکہ کئی سال تک کانگریس ہی بی جے پی کی سب سے بڑی مخالف رہی ہے۔ ایک طرف اے اے پی پر دیگر لیڈر ہر ہر قدم پر حملے کر رہے ہیں لیکن دہلی کی حکمرانی حاصل کر کے اے اے پی نے ثابت کر دیا ہے کہ اب کانگریس پھسل کر تیسری پوزیشن پر آ گئی ہے۔ کانگریس مبینہ طور پر اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ اسے مودی کی راہ روکنے کے لیے اے اے پی کی حمایت کرنا ہو گی۔

اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ کانگریس کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ اب وہ دوبارہ اقتدار میں نہیں آسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس ریاستوں میں مختلف پارٹیوں کے ساتھ اپنی قوت شامل کر کے مرکز میں اے اے پی کی حکومت سازی میں حمایت کرے گی۔ کانگریس مودی کو اقتدار سے باہر رکھنے کی خاطر کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔ سیاسی منظر میں سب سے زیادہ ڈسٹرب کرنے والا پہلو کرپشن ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں، بالخصوص موخر الذکر، کو بدنام لیڈروں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی ہچکچاہٹ نہیں ہو گی۔ کانگریس نے ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ ویر بندھرا سنگھ کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کر دیا جس نے کہ مبینہ طور پر ایک ایسی کمپنی کی حمایت کی تھی جس میں اس کے رشتے داروں کے بہت بھاری تعداد میں حصص ہیں۔ مودی عوام میں دیانتداری کی بہت باتیں کرتا ہے مگر اس کی کابینہ میں ایک ایسا وزیر بھی ہے جو باقاعدہ طور پر عدالت سے سزا یافتہ ہے۔ بہار کا لالو پرشاد یادیو اور کانگریس کا راشد محمود دونوں عدالت سے سزا پانے کے بعد پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم ہوگئے تھے۔ آخر بی جے پی گجرات میں مودی کی حکومت میں ایک سزا یافتہ رکن کی کیوں پردہ پوشی کر رہی ہے۔

ایک اور ڈسٹرب کرنے والی چیز شخصیت پرستی اور بعض شخصیات کے ساتھ اندھی عقیدت کا معاملہ بھی ہے۔ ملک کی جمہوریت کو صدارتی نظام میں بدلنے کی بات بھی ہوئی ہے۔ اس کے لیے مورد الزام مودی کو ہی ٹھہرایا جائے گا کیونکہ مضبوط آدمی اور مضبوط حکومت کا نعرہ اسی نے بلند کیا ہے۔ ایک حکمران جس نے بارہ سال قبل اپنے ہی شہریوں کے قتل عام کی صدارت کی ہو وہ ان عقاید کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جن کی آئین میں ضمانت فراہم کی گئی ہو۔ یہ حیرت کی بات نہیں گو کہ دل دہلا دینے والی بات ضرور ہے کہ پولیس نے احمد آباد میں مودی کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مودی کے بارے میں ایک اور سکینڈل بھی منظر عام پر آیا ہے کہ اس نے ایک لڑکی کی خفیہ جاسوسی کروائی جس سے اور بھی بہت سے سوالات سامنے آ گئے ہیں۔ سچ کی تلاش کے لیے ایک ایف آئی آر کا اندراج ضروری ہے۔ مرکز کی طرف سے اگر کوئی کمیشن قائم کر دیا جائے تو ممکن ہے کہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ مگر ریاستی مشینری تعاون کرنے پر تیار نہیں جس طرح کہ مقامی پولیس کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے۔ کانگریس کو چاہیے کہ مودی کے کھیل سمجھے جو 2014ء کے الیکشن کو شخصیات کے تصادم میں بدلنا چاہتا ہے نہ کہ مسائل کے حل کی سیاست کی جا رہی ہے۔ لیکن کانگریس بھی راہول گاندھی کو پروموٹ کرنے کی سزاوار ہے جیسے کہ انتخابات ان دو افراد کے مابین مقابلے پر ہی منتج ہیں۔

راہول گاندھی اکثر اوقات اہم پالیسی معاملات پر بولتا ہے اور حکومت نے فیصلے کو تبدیل کرا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال وہ آرڈیننس ہے جس میں ان سیاستدانوں کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر ایک رکن اسمبلی کو عدالت سے سزا ہو جاتی ہے تو وہ اپنی رکنیت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اور اس کے علاوہ ایک دوسرا ایشو مہاراشٹر میں ہائوسنگ سکینڈل کا بھی ہے۔ راہول گاندھی نے آندھرا پردیش ہائوسنگ رپورٹ کو جزوی طور پر تسلیم کر لیا ہے جسے کہ ریاست کی کانگریسی حکومت نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ملوث سیاستدان آزاد گھوم رہے ہیں۔ اس کا تمام ملبہ اب بیورو کریٹس پر ہی گرے گا۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو احساس ہونا چاہیے کہ اے اے پی کی حکومت اس کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ اس نے 16 محکمے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ جنتا پارٹی گاندھی کے پیروکار جے پرکاش نارائن کی طرف سے چلائی جانے والی تحریک کا سامنا نہ کر سکی تھی لیکن اس نے یہ فیصلہ ضرور کر لیا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی نہیں لگائی جائے گی۔ تب جمہوریت کی جڑیں مضبوط محسوس ہونے لگیں۔ اگر اے اے پی نظام کو صاف کر سکتی ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرا سکتی ہے کہ نظام صاف ہی رہے گا تو یہ اس کی بہت عظیم خدمت ہو گی خواہ وہ اس کے بعد حکومت میں رہ پائے یا نہ رہے۔

(ترجمہ: مظہر منہاس)

بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.