.

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز پہلے ان کالموں میں عالمی سروے رپورٹوں کے پیچھے کام کرنے والے سیاسی اور کمرشل مقاصد کا ذکر کیا گیا تھا۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جاری کی جانے والی ایک نئی سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں، علاقوں میں مذاہب کو ماننے والوں اور خاص طور پرمسلمان ملکوں میں منافرت اور تشدد کے رجحانات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

سروے رپورٹ میں اس ’’حقیقت‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ دنیا کے 198 ملکوں میں سے امریکہ کو چھوڑ کر ایک تہائی ملکوں میں مذہبی منافرت اور تشدد پسندی کے رجحانات نے نئی انتہائوں کو چھوا ہے۔ آتش زدگی کی وارداتوں میں عام طور پر یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ آگ لگانے والے خود جل مرنے سے بچ گئے ہیں۔ دوسروں کے لئے گڑھے کھودنے والے اگر خود کنوئوں میں گرنے سے بچ جائیں تو ان کا بچ جانا خبر نہیں بنتا مگر اس سروے رپورٹ میں امریکہ کے مذہبی منافرت اور تشدد پسندی سے محفوظ رہنے کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

زیر مطالعہ کالموں میں اس کی وجوہات بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی۔عالمی سروے رپورٹ میں اگر بتایا گیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ملکوں میں مذہبی منافرت اور تشدد پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے تو اس اضافے کی وجوہات بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس اضافے کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ تو بتایا گیا ہے کہ ان رجحانات میں اضافے کی ذمہ داری غربت، جہالت اور ناخواندگی پر عائد ہوتی ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ جہالت اور ناخواندگی کے پیچھے غربت اور افلاس کارفرما ہے اور غربت اور افلاس کے پیچھے عالمی سرمایہ داری نظام ہے جس کا سب سے بڑا کام قرضوں کا ہے اور اس نظام اور سب سے بڑے کام کو چلانے والے عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے (IMF) اور ان کی قرضےکی فراہمی کی شرائط اور پابندیاں ہیں جن کے تحت غیر ملکی قرضے لینے والے ملکوں پر پابندی ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کو دی جانے والی معاشی اور مالی سہولتیں واپس لے لیں گے۔

یہ سہولتیں عام طور پر تعلیم اور صحت کی فراہمی سے تعلق رکھتی ہیں چنانچہ جو ممالک غیر ملکی قرضوں کے محتاج بنا دیئے جاتے ہیں وہاں جہالت، ناخواندگی، بیماری اور غربت کا راج ہوتا ہے اور جہاں جہالت ناخواندگی اور غربت کا راج ہوتا ہے وہاں مذہبی منافرت اور تشدد پسندی کے رجحانات سے گلو خلاصی ممکن نہیں ہوتی اور آگ لگانے والے اکثر خود جل مرنے سے بچ نکلتے ہیں۔آج ہی اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی ہے کہ مشرق وسطی کی نام نہاد ’’بہار (SPRING)‘‘ کے ذریعے القائدہ تنظیم ان تمام ملکوں میں پہنچ چکی ہے جہاں اس تنظیم کی رسائی کسی طرح بھی ممکن نہیں تھی۔ افغانستان میں القائدہ روسی فوجوں کے خلاف امریکی جہاد کے ذریعے پہنچا اور عراق میں بھی القائدہ کو سابق امریکی صدر بش اور نائب صدر ڈک چینی کے ذریعے داخل ہونے کا موقع اور سہولت نصیب ہوئی اور عالمی سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ امریکہ کے سوا دنیا کے تمام ملکوں میں مذہبی منافرت اور تشدد پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہورہا ہے۔ٹرانس پرنسی انٹرنیشنل والوں کی رپورٹ ہے کہ گزشتہ صدی کے ابتدائی سالوں میں جب عالمی سرمایہ داری نظام کے خلاف ایک متبادل نظام ابھرا تو عالمی سرمایہ داری نظام کے محافظوں نے مسلمان ملکوں میں ڈالروں کی بوچھاڑ یا برسات کے ساتھ ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘ کے نعرے کو مارکیٹ کیا چنانچہ اس نعرے کے ساتھ آنے والے ڈالروں نے مسلمان ملکوں میں کرپشن اور بددیانتی کے بیج بوئے ہوس زر کو کاشت کیا اور عالمی سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ امریکہ کے سوا تمام ملکوں اور علاقوں میں مذہبی منافرت اور تشدد پسندی کے رجحانات نئی انتہائوں کو چھو رہے ہیں۔افغانستان اور عراق میں القائدہ کی رسائی کا کریڈٹ جارج بش اور ڈک چینی کو جاتا ہے اور مذہبی منافرت اور تشدد پسندی کے رجحانات کو لیبیا، مصر، انڈونیشیا، ایران اور مشرق وسطی کے دیگر ملکوں تک لے جانے کی ذمہ داری مشرق وسطیٰ کی نئی بہار (SPRING) کے سپرد کردی گئی ہے اور عالمی سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ امریکہ کے سوا دنیا کے تمام ملکوں اور علاقوں میں مذہبی منافرت اور تشدد پسندی کے رجحانات نئی انتہائوں کو چھونے لگے ہیں مگر ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ

؎
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.