.

طالبان سے مذاکرات ۔ ایک اور طریقہ

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نوازشریف کے ہمراہ سوات جانے کے لئے محترم سید طلعت حسین اور یہ طالب علم ہیلی پیڈ پہنچے تو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور اقبال ظفر جھگڑا پہلے سے پہنچ چکے تھے۔ یہ سفر خوشگوار اس لئے رہا کہ دوران سفر وزیراعظم ‘ پرویز رشید، سید طلعت حسین اور اس عاجز کے درمیان فقرے بازی کا کھیل جاری رہا۔ وزیراعظم اپنے خصوصی طیارے میں لاہور سے تشریف لائے جبکہ ہم اسلام آباد سے رسالپور پہنچے۔ چونکہ سوات (سیدو شریف) کا ہوائی اڈہ گزشتہ کئی برسوں سے فعال نہیں ہے اور وہاں وزیراعظم کا جہاز لینڈ نہیں کرسکتا ‘ اس لئے ہمیں آگے کا سفر ان کے خصوصی ہیلی کاپٹر میں کرنا تھا۔ یہاں مجھے یہ وجہ بھی سمجھ میں آگئی کہ سوات سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی برادر مراد سعید کیوں ہر ملاقات میں سید وایرپورٹ کا مسئلہ اٹھاتے ہیں۔

ہیلی کاپٹر میں بیٹھتے ہی میں نے وزیراعظم سے گزارش کی کہ اگر سوات ائرپورٹ فعال ہوتا تو آج آپ کو پہلے رسالپور اور پھر یہاں سے ہیلی کاپٹر میں جانے کی زحمت نہ اٹھانا پڑتی۔ پھر ان کو سید وائرپورٹ کی اہمیت سے جو برادر مراد سعید نے مجھے ازبر کرادی ہے‘ آگاہ کیا ۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ واپس جاتے ہی وہ اس سلسلے میں متعلقہ لوگوں کو ہدایات دیں گے۔ پی اے ایف رسالپور سے پرواز کا آغاز کرتے ہی ہم لوکو موٹیو فیکٹری رسالپور کے اوپر سے گزر رہے تھے تو وزیراعظم صاحب کو اس کی طرف متوجہ کیا۔

ان سے گزارش کی کہ یہ فیکٹری نہ صرف ریلوے بلکہ ملکی معیشت کے لئے بھی کلیدی اہمیت کی حامل ہے جبکہ میری ذاتی یادیں بھی اس سے وابستہ ہیں ۔ جاپان کے تعاون سے یہ فیکٹری اس لئے بنائی گئی تھی کہ یہاں پر سالانہ پچیس ریلوے انجن مقامی سطح پر تیار کئے جائیں گے لیکن حکومتوں کی غفلت کی وجہ سے آج یہاں انجن تیار نہیں ہورہے ہیں اور ہمیں باہر سے دو نمبر انجن خریدنے پڑرہے ہیں۔ اگر اس جانب توجہ دی جائے تو ہم چند سالوں میں ریل کے انجن برآمد کرنے کے بھی قابل ہو جائیں گے ۔

وزیراعظم صاحب نے اس طرف بھی توجہ دینے کا وعدہ کیا۔یوں تو اس سفر میں وزیراعظم صاحب کے ساتھ سیاستدانوں کے لئے سوات کے’’ سبائون‘‘ کے طرز پر ڈی ریڈکلائزیشن اکیڈمی کے قیام سے لے کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تک کے مسائل زیربحث آئے اور میں نے تجویز دی کہ ’’رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب‘‘ کے مصداق عمران خان صاحب کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا جائے لیکن ہماری گفتگو زیادہ تر عسکریت پسندی کے موضوع کے گرد گھومتی رہی۔ میں نے محسوس کیا کہ اس حوالے سے حکومت کے پاس آج بھی کوئی واضح پالیسی یا لائحہ عمل نہیں ہے ۔ اپنا تجزیہ ان کے سامنے رکھتے ہوئے عرض کیا کہ معاملہ نہایت خطرناک سمت جا رہا ہے۔ اس حوالے سے جو توقعات ان سے وابستہ کی گئی تھیں ‘ خاک میں ملتی نظر آ رہی ہیں۔

وزیراعظم صاحب نے اپنی نیک نیتی اور کوششوں کا ذکر کیا تو جواباً عرض کیا کہ یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن ایک صحافی ہونے کے ناتے میں جو کچھ دیکھتا ہوں ان کی بنیاد پر تجزیہ کرنے پر مجبور ہوں اور مجھے کوئی پالیسی یا حرکت نظر نہیں آرہی ہے ۔ انہوں نے مجھ سے استفسار کیا کہ میں تجویز کروں کہ کیا ہونا چاہئے ۔ جواباً عرض کیا کہ یہ حکومت اور سیاسی قیادت کا کام ہے کہ وہ کیا ہونا چاہئے کا جواب ڈھونڈ لے ۔ میں صرف اتنی گزارش کررہا ہوں کہ اس ایشو کی طرف توجہ دیں اور کچھ کریں۔ آپ لوگ مذاکرات کا ذکر تو بہت کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ بہتر آپشن غیرسیاسی مگر علمی اور جہادی شخصیات کے ذریعے مذاکرات کرنے کا تھا لیکن اس آپشن کو خراب کردیا گیا۔ دوسرا آپشن گورنر خیبرپختونخوا کے ذریعے سرکاری ذرائع سے جامع کوششوں کا تھا‘ لیکن حکومت اس طرف بھی نہیں آرہی ۔ اب تیسرا اور واحد آپشن یہی ہے کہ اس سیاسی قیادت (مولانا فضل الرحمٰن‘ سید منور حسن‘ عمران خان اور مولانا سمیع الحق وغیرہ) کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ٹاسک دیا جائے ‘ جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حامی ہیں۔ وہ بات منوا سکیں تو فبہا نہیں تو سیاسی اتفاق رائے کا حصول تو آسان ہوجائے گا۔ بعدازاں وزیراعظم صاحب نے اپنے انٹرویو میں اس آپشن کو آزمانے کا باقاعدہ اعلان کیا اور میری معلومات کے مطابق سوات سے واپس آتے ہی اس سلسلے میں مشاورت کا بھی آغاز کردیا ہے ۔ اب بدقسمتی سے ماضی کی بعض حرکتوں کی طرح یہ اقدام بھی میرے گلے پڑگیا ہے ۔ وہ سب لوگ جو الگ الگ چینل سے مذاکرات کے نام پر اپنی اپنی دکان چمکانا چاہتے تھے ‘ مجھ پر برہم ہیں کہ میں نے وزیراعظم کے منہ میں غلط تجویز ڈال کر ان کا کام خراب کردیا ۔ حکومت میں شامل بعض لوگ بھی مجھ پر برہم ہیں کہ میں نے وزیراعظم کے ذریعے ایک نئے آپشن کو شامل کروا کر ان کے سارے منصوبے کو خراب کردیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود ان لوگوں نے اس آپشن کے سوا اب مذاکرات کے لئے کوئی دوسرا راستہ چھوڑا ہی نہیں ۔ میری معلومات کے مطابق اب تک حکومت کی طرف سے ایک درجن کے قریب لوگوں کو مذاکرات کا ٹاسک دیا جاچکا ہے لیکن مولانا فضل الرحمٰن خلیل کے سوا کوئی بھی دوسرا چینل کوئی پیش رفت نہ دکھاسکا تھا۔ ان کی اس پیش رفت پر امریکہ نے نہیں بلکہ پاکستان کے اندر بعض لوگوں کی طرف سے ڈرون حملہ کیا گیا اور یوں وہ بھی اس معاملے سے الگ ہوگئے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر حکومت مولانا سمیع الحق کو ٹاسک دیتی ہے تو مولانا فضل الرحمٰن ناراض ہوجاتے ہیں اور اگر مولانا فضل الرحمٰن کو آگے کیا جاتا ہے مولانا سمیع الحق معاملہ خراب کرنے لگ جاتے ہیں ۔

قبائلی جرگے کو آگے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو فاٹا کے ممبران قومی اسمبلی و سینیٹ میدان میں آکر کہتے ہیں کہ فاٹا کے منتخب نمائندے تو وہ ہیں اور اگر انہیں ذمہ داری دی جاتی ہے تو قبائلی جرگے ان کی حیثیت کو چیلنج کرکے کہتے ہیں کہ یہ تو سرکاری لوگ ہیں ۔ کسی ایک ریاستی ادارے کو ٹاسک دیا جاتا ہے تو دوسری طرف سے آواز بلند ہوتی ہے کہ یہ مسئلہ تو اسی کا بنایا ہوا ہے اور اگر وفاقی حکومت کا کوئی فرد یا ادارہ آگے آتا ہے تو خیبرپختونخوا کی حکومت سب سے بڑے متاثر اور عوام کی نمائندہ ہونے کے ناتے اپنا حق جتانے لگ جاتی ہے ۔ اب ان حالات میں طالبان سے مذاکرات کے حامی سیاسی رہنمائوں کی کمیٹی کے ذریعے اعلانیہ مذاکرات کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ ۔ یا تو حکومت یہ اعلان کردے کہ وہ مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی لیکن اگر اب بھی مصر ہے کہ مذاکرات ہی کا آپشن آزمایا جائے گا تو پھر اس آپشن کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے ۔ کسی کے ذہن میں کوئی دوسرا آپشن ہے تو مجھے بھی آگاہ کردیں ۔ گزشتہ روز جماعت الدعوۃ کی ایک تقریب میں جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ صاحب کے ساتھ اسٹیج پربیٹھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ لگتا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مرغی دو مولویوں(مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق) کی آپس کی کشمکش میں مردار ہوگئی ۔ میں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر دو مولویوں کی بجائے صرف ایک مولوی (مولانا فضل الرحمٰن خلیل) کے ذریعے مرغی کو ذبح کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید حلال طریقے سے ذبح ہوتی بلکہ وہ اس میں سے اچھی یخنی بنا کر پوری قوم کو پلا بھی دیتے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.