.

یہ ہنر تم نے سیکھا کہاں سے

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ چھٹی بار ہے کہ مولانا فضل الرحمن کسی اور کی حکومت میں شامل ہو رہے ہیں۔ رپورٹروں نے اسے چھکا کہا ہے۔ پاکستان میں حکومت کسی سیاستدان بے نظیر یا نواز شریف کی ہو یا فوج کی مولانا اس میں جگہ بنا لیتے ہیں، یہ ہنر انھوں نے کہاں سے سیکھا معلوم نہیں لیکن ہے بہت ہی کامیاب اور کار آمد۔

حضرت مولانا کا مشہور و معروف قول ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے لیکن وہ اس ملک میں اقتدار لے کر گناہ گار ہونے پر ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ مولانا تو اس بار چھکے سے بھی بڑھ کر ہاتھ مار رہے تھے، انھوں نے امریکی سفیر سے کہا تھا کہ انھیں وزیر اعظم بنوا دیں لیکن امریکی سفیر مولانا کو دیکھ کر ان سے ڈر گئے، ٹھٹھک گئے یا اس اندیشے کے تحت کہ امریکی بھی شاید اپنے سفیر کی پسند کو پسند نہ کریں۔ وہ مولانا کی عرضی کو قبول نہ کر سکے لیکن انھوں نے پاکستان کے متوقع وزرائے اعظم میں مولانا کا نام نامی درج کر لیا ہے کہ داشتہ آید بکار۔

حضرت مولانا باقاعدگی کے ساتھ الیکشن میں کامیاب حصہ لیتے ہیں۔ داؤ لگے تو خیبر پختون خوا میں حکومت بھی بنا لیتے ہیں جو مفتی صاحب نے بنائی تھی لیکن جو مزا وفاقی حکومت میں ہے وہ صوبائی میں کہاں۔ مولانا بدرجہ وزیر سابقہ حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن گئے اور اسلام آباد کے سفارتی محلے میں ایک اعلیٰ سرکاری گھر لے کر وہاں جم گئے۔ سارا خرچ حکومت کا۔ طویل سفر کا خرچ بھی اور چیئرمینی کے مزے بھی۔ ان کے مرید بھی اس وزارتی بنگلے میں مزے کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے ایک جگری ساتھی کو اسلامی نظریاتی یا ایسی ہی کسی کونسل کا چیئرمین بدرجہ وزیر بھی بنوا لیا تھا۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ مولانا کی نظریں بڑی کار آمد وزارتوں پر ہیں۔

رپورٹروں نے ایسی وزارتوں کے نام بھی دیے ہیں لیکن وزارت کوئی بھی ہو وہ اپنی تمام مراعات کے ساتھ وزارت ہی ہوتی ہے اور اس کے کم از کم مزے بھی عیاشی سے کم نہیں ہوتے۔ بہر کیف مبارک ہو کہ مولانا چھٹی بار اقتدار میں گھس رہے ہیں۔ خدا کرے وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں اور پاکستان کے گناہ کا مزا لیتے رہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ جو مزا گناہ میں ہوتا ہے وہ نیکی میں نہیں ہوتا۔ اللہ مولانا کے گناہ معاف کرے اور ان کا ضمیر مطمئن ہو جائے ویسے ایک بات عرض کر دوں کہ کشمیر کمیٹی کے ماضی میں چیئرمین مولانا کا مدرسہ اور مکتب فکر کشمیر کو پاکستانی نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ یہاں پشاور میں کچھ عرصہ پہلے دیوبند کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس طویل کانفرنس میں ایک بار بھی کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا تھا اور اس بارے میں خبروں میں نشاندہی بھی کی گئی تھی۔

کالم کے ختم ہونے پر ٹی وی پر مولانا کے وزراء کو حلف اٹھاتے بھی دیکھ لیا ہے۔ مبارک ہو لیکن ان کے وزیروں کو قلمدان مل جائیں تو مزید مبارک وغیرہ عرض کریں گے کہ مولانا کو اس بار کتنی کامیابی ملی ہے اور وزارتیں مفید اور ثمر آور ہیں یا نہیں اگر ہیں تو کتنی ہیں۔ اگرچہ روکھی سوکھی وزارت بھی بہت کچھ ہوتی ہے لیکن اس وزارت میں اگر محکمے بھی مفید ہوں تو کیا بات ہے۔

حضرت مولانا کی اس ہنر مندی کی داد دینے کے بعد لکھنا تو کچھ اور تھا لیکن عدالت میں احمد کی جذباتی اور جارحانہ گفتگو نے نیا موضوع دے دیا ہے۔ احمد یعنی احمد رضا قصوری کو دوستوں میں احمد کہا جاتا ہے، میرا اس خاندان سے بہت پرانا تعلق رہا لیکن احمد اسلام آباد چلا گیا اور اس کے بھائی بھی بہت دور چلے گئے۔ ان کے شہید والد نواب محمد احمد قصوری سچ مچ کے نواب اور شرافت کا نمونہ تھے۔ وہ قصور سے لاہور بذریعہ ریل آتے تھے اگر رش کی وجہ سے ٹکٹ نہ خرید سکتے تو واپس جا کر قصور اسٹیشن سے ٹکٹ خریدتے اور اسے پھاڑ کر پھینک دیتے۔ بھٹو صاحب کی ایف ایس ایف نے انھیں ٹھکانے لگا دیا لیکن یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہ اپنے اس آخری سفر کا ٹکٹ بھی نہ خرید سکے لیکن وہ بے ٹکٹ سفر نہیں کیا کرتے تھے اور سرکاری خزانے میں نہ خریدے گئے ٹکٹ کی رقم ضرور جمع کرا دیتے تھے مگر انھوں نے اب کیا کیا ہو گا۔

احمد کو میں نے کئی بار ایک دلچسپ سیاسی سرگرمی میں دیکھا وہ پیپلز پارٹی میں تھے۔ جب پارٹی کا کوئی جلسہ جلوس ہوتا تو اس کے ختم ہونے پر جب لوگ واپس جانے لگتے تو وہ ان لوگوں کا ایک جلوس بنا لیتے اور اکثر اس جلوس کو مال روڈ پر لے آتے۔ نعرے لگاتے اور آخر میں ایک تقریر کر کے جلوس کو ختم کر دیتے۔ جلوس کے اختتام کے بعد وہ اپنے ایک ایڈووکیٹ بھائی کے مال روڈ پر واقعہ دفتر میں آ جاتے جہاں وہ اپنے اس جلوس کی روداد سناتے۔ یہ دفتر ہمارا بھی اڈا تھا اور احمد سے خوب گپ لگتی تھی لیکن وہ گفتگو میں بہت شائستہ رہتے کہ ہم اس کے ایک بڑے بھائی کے دوست تھے، اب سپریم کورٹ میں انھوں نے ایک صحافی کو لفافہ صحافی اور بھارت کا ایجنٹ تک کہہ دیا۔ ان کے ساتھی وکلاء نے کتا بھی کہا، احمد شرم کرو شرم کرو بار بار کہتے رہے مگر صحافی اگر شرم کرنے لگیں تو رپورٹنگ کیسے کریں۔

عدالتوں میں دو فریق ہوتے ہیں ایک وکیل کسی ایک کی طرف سے دوسرا دوسری طرف سے لیکن ان کی باتیں قانون کے دائرے میں ہوتی ہیں اور بعد میں یہی وکلاء ایک ساتھ چائے پیتے بھی دیکھے جاتے ہیں اسی طرح ان کے مؤکل بھی مخالفت کے باوجود عدالت کے احترام میں گالی گلوچ نہیں کرتے۔ احمد ایک پر جوش شخص ہے لیکن بدتمیز نہیں معلوم نہیں یہ جنرل صاحب کا اثر ہے یا مقدمے میں ناکامی کہ وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہمارے ہاں مجلسی روایات بھی مجروح ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ عام معاشرے میں ایک اضطراب پھیل گیا۔ بدامنی اور گرانی اس کے بنیادی محرکات ہیں۔ اب تو کسی سیاستدان کی نہیں کسی مصلح کی ضرورت ہے جو پاکستانی معاشرے کو بکھرنے بلکہ برباد ہونے سے بچا لے۔ آس پاس کے غیر معمولی خطرناک حالات ہیں اور ملک کے اندر یہ بے چینی اور ذہنی انتشار کیا رنگ لائے گا اللہ ہی فضل کرے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.