.

پاکستانی ایٹمی اثاثے، آئی ایس آئی اور تازہ امریکی پروپیگنڈہ

تنویر قیصر شاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چار عشروں سے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف امریکا، مغربی ممالک اور بھارت مسلسل پروپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں۔ یہ مخالفت اور دشمنی اسی روز شروع ہوگئی تھی جب پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کے پہلے جوہری دھماکوں کے بعد پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان ظالمانہ پابندیوں کے باوجود نوازشریف کی قیادت میں باقاعدہ ایٹمی طاقت بن گیا۔ کانٹے سے کہوٹہ تک کی یہ کامیاب داستان اپنے دامن میں کئی نشیب و فراز لیے ہوئے ہے۔ اس میں بھٹو کے عزم، غلام اسحاق خان کی رازداری، ضیاء الحق کے استقلال، بے نظیر بھٹو کی سفارتکاری اور نوازشریف کے مستحکم فیصلے نے، اپنی اپنی جگہ، اپنے اپنے دور میں، شاندار کردار ادا کیا ہے۔ مخالف قوتوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بننے کی راہ میں بے شمار اور لاتعداد رکاوٹیں ڈالیں مغربی و امریکی مصنفین نے کتابیں بھی لکھیں لیکن یہ سب پاکستان کو ایٹمی اثاثوں کے حصول میں ناکام کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ الحمد للّہ۔

پاکستان ایٹمی طاقت تو بن چکا لیکن بھارتی و امریکی میڈیا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ، ان کی سیکیورٹی اور اس کے حساس کمان اینڈ کنٹرول سسٹم کے بارے میں آئے روز درفنطنیاں چھوڑتا رہتا ہے ۔باطنی طور پر سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے جملہ ایٹمی اثاثے نہایت محفوظ ہیں لیکن پاکستان اور پاکستان کے متعلقہ اداروں کو پریشانی میں مبتلا رکھنے کے لیے امریکی میڈیا اپنی مفسدانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ابھی چند روز قبل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے (دس جنوری 2014ء کو) ایس ڈی پی (اسٹرٹیجک پلانز ڈویژن) کا دورہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام ملکی دفاع میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ پاکستان آرمی کی سربراہی سنبھالنے کے تقریباً سوا دو ماہ بعد جنرل راحیل شریف کا یہ پہلا دورہ تھا جہاں انھیں ایس ڈی پی کے جنرل (ر) خالد قدوائی صاحب نے تفصیلی بریفنگ دی۔ جنرل راحیل نے اسی بریفنگ کے بعد ہی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی سیفٹی اور سیکیورٹی کے بارے میں اپنے گہرے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

جنرل راحیل شریف صاحب کے ’’ایس پی ڈی‘‘ کے مذکورہ پہلے دورے سے چند روز قبل ایک عالمی ادارے ’’این ٹی آئی‘‘ (Nuclear Threat Initiative)نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ اور ان کی سیکیورٹی و سیفٹی کے بارے میں اطمینان کا اظہا کیا تھا اور یہ کہتے ہوئے تعریف و تحسین بھی کی تھی کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے بھارت کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں اور یہ کہ پاکستان نے گذشتہ برسوں کے مقابل مزید احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔ ’’این ٹی آئی‘‘ نے اس سلسلے میں پاکستان کو 22ویں نمبر اور بھارت کو 23ویں درجے پر رکھا ہے جب کہ چین کا درجہ 20واں ہے۔ اور اس نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے دنیا بھر کی ایٹمی طاقتوں میں ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے سب زیادہ امپروومنٹ کی ہے۔

لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کے مقابل پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی سیکیورٹی و سیفٹی کی زیادہ تعریف امریکا میں موجود بھارتی لابی کو برداشت نہیں ہوسکی؛ چنانچہ امریکا کے ایک ممتاز تھنک ٹینک اور اس کے تحت شایع ہونے والے ایک مشہور جریدے نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ اس جریدے کا نام ’’دی نیشنل انٹرسٹ‘‘ (The National Interest) ہے جس کے اعزازی چیئرمین ہنری کسنجر ایسے یہودی دانشور اور عالمی شہرت یافتہ سفارتکار ہیں۔ مذکورہ جریدے، جس کی اشاعتی عمر تقریباً تیس سال ہے، نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں، جنرل (ر) خالد قدوائی صاحب اور ایس پی ڈی کے نئے سربراہ جنرل زبیر حیات کے بارے میں خواہ مخواہ تحفظات کا اظہار کرکے بے جا شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی اقرار و اعتراف کیا ہے کہ جنرل (ر) خالد قدوائی اور جنرل زبیر حیات، ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرنے کے حوالے سے، یکساں اہلیت و قابلیت کے حامل ہیں۔ امریکی جریدے کو نہ جانے اس بات میں زیادہ تکلیف کیوں ہوئی ہے کہ جنرل (ر) خالد قدوائی کو بار بار ایکسٹینشن کیوں دی جاتی رہی؟ یہ دراصل پاکستان کے حساس معاملات میں کسی امریکی ادارے کی براہ راست مداخلت ہے جس کے خلاف ہمارے متعلقہ اداروں اور حکومت پاکستان کو پرزور الفاظ میں احتجاج کرنا چاہیے۔

پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف بین السطور انداز میں ’’دی نیشنل انٹرسٹ‘‘ نے جس شرانگیزی کا مظاہرہ کیا ہے، بھارت اس سے خاصا خوش ہوا ہے۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی یہ خوشی بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ میں پوری طرح جھلک اور چھلک رہی ہے۔ ’’دی ہندو‘‘ نے مینا مینن کا مفصل آرٹیکل شایع کرکے ’’را‘‘ اور بھارتی حکمرانوں کی نیت کو آشکار کردیا ہے۔ امریکی میڈیا جب مفسدانہ لہجے میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ’’رسک‘‘ قرار دے گا تو ظاہر ہے اس سے سب سے زیادہ خوشی اور اطمینان بھارت ہی کو محسوس ہوگا۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب اسی امریکی جریدے نے یہ شوشہ بھی چھوڑا تھا کہ پاکستان خفیہ طور پر سعودی عرب کو بنے بنائے ایٹمی میزائل دے رہا ہے۔ پاکستان نے بروقت اور فوراً اس کی تردید کی اور سعودی عرب نے بھی۔ لیکن حیرت خیز بات ہے کہ امریکی میڈیا نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں جو نئی پروپیگنڈہ مہم شروع کی ہے، پاکستان کے بہت ہی کم سیاست دانوں نے اس کی مذمت کی ہے۔ ہاں، پاکستان تحریک انصاف کی محترمہ شیریں مزاری نے اس بارے میں غفلت نہیں برتی ہے۔ انھوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ جنرل (ر) خالدقدوائی صاحب کی باوقار رخصتی کے بعد امریکی میڈیا نے گمراہ کن انداز میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا آغاز کر دیا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں برس کے دوران چونکہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلاء ہونے والا ہے، اس لیے اس انخلاء کو محفوظ بنانے کی خاطر امریکی میڈیا نے اچانک پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف نیا محاذ کھولنے کی کوشش کی ہے تاکہ پاکستان کو دباؤ میں رکھا جاسکے۔ امریکی میڈیا کی طرف سے پاکستان کی ’’آئی ایس آئی‘‘ کے خلاف نئی مہم کا آغاز بھی اسی کا ایک شاخسانہ ہے۔ اس کا ایک تازہ اظہار سابق امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس کی طرف سے کیا گیا ہے۔ رابرٹ گیٹس نے Duty: Memoirs of a Secretary at Warنامی تازہ کتاب لکھی ہے جس میں اسامہ بن لادن کے حوالے سے ایبٹ آباد آپریشن کے پس منظر میں آئی ایس آئی پر گھناؤنے الزامات لگانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ رابرٹ گیٹس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کبھی پاکستان کو امریکا کا اتحادی نہیں سمجھا۔ اس کے نزدیک پاکستان نے ’’وار آن ٹیرر‘‘ اور ’’طالبان‘‘ کے حوالے سے امریکا کو دھوکہ دیا اور دعویٰ کیا ہے کہ اس ’’دھوکہ دہی‘‘ کے عقب میں آئی ایس آئی کار فرما تھی۔ اور بھارت کو بھی آئی ایس آئی کے خلاف دن رات کیسے کیسے خواب آتے رہتے ہیں، اس کی ایک تازہ مثال سترہ جنوری 2014ء کو سامنے آئی ہے۔

بھارتی وزیر ششی تھرور کی اہلیہ سونندا تھرور واویلا کررہی ہے کہ اس کے شوہر نے ایک پاکستانی خاتون صحافی کے ساتھ معاشقہ شروع کررکھا ہے اور یہ صحافی خاتون آئی ایس آئی کی ایجنٹ ہے۔ سونندا نے جس پاکستانی خاتون صحافی کا نام لیا ہے، اس نام کی خاتون ہمارے صحافتی حلقوں میں زیادہ جانی پہچانی نہیں جاتی۔ امریکا، مغربی ممالک اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور پاکستان کے ممتاز و مستحکم خفیہ ادارے کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی یہ جنگ نئی نہیں۔ افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف طاغوت نے جو محاذ کھول رکھے ہیں، ہمارا خیال ہے دنیا میں بہت کم ایسی افواج اور خفیہ ادارے ہوں گے جنھیں بیک وقت اتنے بہت سے محاذوں پر ، ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر بھی، کئی جنگیں لڑنا پڑ رہی ہوں۔ پاکستان کی شکل میں خدا نے جو چراغ روشن کررکھا ہے، دشمن ہوائیں اسے گل کردینے کی درپے ہیں لیکن اللہ کے فضل و کرم سے یہ چراغ ہمیشہ لَودینے کے لیے روشن کیا گیا ہے۔ افواج پاکستان اور اس کے خفیہ ادارے اس کے نگہبان ہیں اور پاکستان کے بیس کروڑ عوام ان کے پشتی بان۔ اطمینان کی بات یہ بھی ہے کہ موجودہ حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان کوئی خطِ تفریق بھی کھنچا ہوا نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.