.

کوئی ہے جو اس ظلم کا نوٹس لے؟؟؟؟

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بلاول زرداری بھٹو آج کل پاکستانی طالبان کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے پرجوش ہیں۔ وہ حکومت کی کاکردگی سے مطمئن نہیں اور تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو طالبان دوست ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔بلاول صاحب کے انہی بیانات کے بیچ ہمارے رپورٹر عمر چیمہ نے ایک خبر دی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے کس ـ’’خوبصورت ‘‘انداز میں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی۔یہ خبر پیپلز پارٹی دور میں وزارت داخلہ کے ادارہ نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل (National Crisis Management Cell) کے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مختص پچاس کروڑ روپیہ کے متعلق تھی کہ اس پیسہ کو کیسے خرچ کیا گیا۔ بلاول صاحب کی حکومت نے پچاس کروڑتو ضرور خرچ کیا مگر کیسے ذرا سنئیے۔

سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوے چیمہ نے لکھا کہ اتنی رقم میں سے ایک دھیلا بھی دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے استعمال نہیں کیا گیامگر بلاول صاحب کی حکومت کے ایک اہم وزیر کی بیگم صاحبہ کو جیب خرچ اسی سیکرٹ فنڈ سے دیا جاتا رہا۔ بیگم صاحبہ کے کپڑوں کی سلائی کے پیسے بھی دہشتگردی کے لیے مختص اسی فنڈ سے ادا ہوئے۔بلاول بھٹو صاحب کی پارٹی کے ایک وزیر اعظم کے بیٹے کی شادی کے لیے تحفہ خریدنے کے لیے بھی اسی فنڈ کو استعمال کیا گیا۔عوامی نیشنل پارٹی کے ایک سینیٹر کے بیٹے کی شادی پر تحفہ کے لیے پیسہ اسی فنڈ سے ادا کیا گیا۔ ایک وزیر صاحب نے اپنے بھتیجے کی شادی پر بھی اسی فنڈ سے خرچہ کیا۔ جب کہ پی پی پی کی ایک ایم این اے اور ایک مولانا صاحب کے لیے کرائے پر لی گئی گاڑیوں کا خرچہ بھی اسی فنڈ سے ادا کیا گیا۔جب بلاول صاحب کے وزیر کو ایک پیر صاحب کو خوش کرنا تھا تو انہیں پھول، مٹھائی اور نذرانہ بھی اسی فنڈ سے ادا کیا۔اور تو اور ایک سابق پولیس افسر جو ایف آئی اے کے ڈی جی بھی رہے اُن کے گھر کے فون کا بل (تقریباً چار لاکھ) بھی اسی فنڈ سے ادا کیا۔پی پی پی دور کے وزرائے اعظم سے منسلک ایک ملٹری سیکٹری صاحب کو اسی فنڈ سے لیپ ٹاپ تحفہ میں دے کر وزیر صاحب نے خوش کیا۔ اسی طرح کے تحائف اسی فنڈ سے کچھ دوسرے فوجی افسران کو بھی دیئے گئے۔

ایک سیکرٹری داخلہ صاحب نے بھی کروڑوں روپیہ اسی فنڈ سے reimbusement کے نام پر حاصل کیا۔بلاول بھٹو صاحب کے ایک وزیر مملکت صاحب نے اس فنڈ سے اپنی گاڑی کے پٹرول کے لیے پیسہ لیا۔ ایک وفاقی وزیر صاحب اس فنڈ سے ماہانہ پانچ لاکھ روپیہ اپنی گاڑی کے پیٹرول کے لیے اڑاتے رہے۔انہی وزیر صاحب کے بلیک بیری موبائل اور ان موبائل کی بیٹریوں کے لیے بھی دہشتگردی کے لیے مختص اسی سیکرٹ فنڈ کو استعمال کیا گیا۔ان وزیر صاحب کے اسٹاف اور ان کے دوستوں کو بھی اسی فنڈ سے نوزا جاتا رہا۔ نیب کی طرف سے ایک سزا یافتہ اور بعد ازاں نوکری میں متنازع طور پر بحال ایک وزیر کے ’’بچونگڑے‘‘ کو بھی اس پیسے سے خوب موجیں کروائی گئیں۔اس بچونگڑے کے فون بلز ، حتی کہ انٹرنیٹ کنکشن کے چارجز اسی فنڈ سے ادا کیے گئے۔ان وزیر صاحب کی گاڑی دھونے والے کی تنخواہ بھی اسی فنڈ سے ادا کی جاتی رہی۔ایک وزیر صاحب اور ان کے اسٹاف کو برطانیہ کے سیر سپاٹے کے لیے پیسہ اسی فنڈ سے دیا گیا۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد ایک ڈاکٹر صاحب جتنی مرتبہ بھی پاکستان آئے اُن کو اسلام آباد کے ایک بہترین ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ، اُن کو کرائے پر گاڑی بھی فراہم کی جاتی رہی۔ پھول بھی پیش ہوتے رہے مگر خرچہ سب کا سب دہشتگردی کے لیے مختص سیکرٹ فنڈ سے ادا کیا جاتا رہا۔مہنگے قالین، ٹی سیٹ اور دوسرے تحائف شادیوں میں تحفہ کے لیے بھی اسی فنڈ سے خریدے گئے۔ پاکستان کا ستیاناس کرنے والی ان اہم شخصیات کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ پھولوں کا پانچ سو روپے کا گل دستہ دینے کے لیے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالیں۔ اس کے لیے بھی دہشتگردی کے لیے مختص اس فنڈ کو لوٹا گیا۔

صحافیوں، سیاستدانوں، سفارت کاروں کو یہ گلدستے پیش کئے گئے۔ کچھ کو آموں کی پیٹیاں، مٹھائیاں، چاکلیٹ بھی اسی فنڈ سے خرید کر پیش کیے گئے۔عمر چیمہ بچارے کا رونا ہے کہ موجودہ حکومت اس معاملہ پر تمام دستاویزی ثبوت ہونے کے باوجود کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملہ کا نوٹس لے لیں تا کہ عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ ہمارے حکمران کس انداز میں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ بلاول بچارے کا تو المیہ ہے کہ وہ ٹوئیٹر کی سیاست کرتے ہیں۔ لگتا نہیں کہ وہ اخبار پڑھتے ہیں ورنہ اس مذاق پر شاید کچھ بولتے۔ اردو پڑھ نہیں سکتے، اس لیے یہ کالم بھی ان کے لیے بے کار ہے۔ ویسے بھی سیاست میں اپنے گریبان میں جھانکنے کی عادت نہیں ہوتی۔ باقی بچاری قوم کے اپنے نصیب۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.