.

سیاسی قیادت اور فوج ساتھ ساتھ

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی لیکن چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو بنوں پہنچنا تھا ۔ وہ ہیلی کاپٹر میں بنوں پہنچے۔ انہوں نے خودکش حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کی عیادت کی اور واپس راولپنڈی روانہ ہو گئے کیونکہ انہیں جی ایچ کیو میں وزیر اعظم نواز شریف کا استقبال کرنا تھا ۔ نواز شریف بھی موسم کی خرابی کی پرواہ کئے بغیر 21جنوری کی دوپہر کو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے ہمراہ جی ایچ کیو پہنچے تو جنرل راحیل شریف نے ان کا استقبال کیا اور یہ مختصر قافلہ گاڑیوں میں کمبائنڈ ملٹری ہاسپیٹل راولپنڈی روانہ ہوا ۔ اس ہاسپیٹل میں ایک روز قبل راولپنڈی کے آر اے بازار میں ہونے والے بم دھماکے کے زخمی زیر علاج تھے ۔ بنوں کے خودکش حملے میں زخمی ہونے والے کچھ جوانوں کی حالت تشویشناک تھی ۔ ان جوانوں کو بھی سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کیا جا چکا تھا ۔ وزیراعظم نواز شریف سب سے پہلے بنوں کے زخمیوں کے پاس پہنچے ۔ ان زخمیوں میں سے کسی کی ٹانگ کٹ چکی تھی کسی کا بازو ناکارہ ہو چکا تھا کسی کا جسم جلا ہوا تھا لیکن سب کے چہروں پر اطمینان اور لہجے میں حوصلہ محسوس ہو رہا تھا۔

نواز شریف زخمی جوانوں کی خیریت دریافت کر رہے تھے انکی زبانوں پر الحمداللہ تھا ۔ بنوں کے زخمیوں کی عیادت سے فارغ ہو کر نواز شریف آر اے بازار کے زخمیوں کی طرف آئے ۔ ان میں فوجی جوانوں کے ساتھ ساتھ سویلنز بھی شامل تھے ۔ فوجی جوان بدستور الحمداللہ، اللہ خیر کرے گا، آپ کا بہت شکریہ کے الفاظ ادا کر رہے تھے لیکن ایک بچے کی حالت دیکھ کر خواجہ محمد آصف کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر آئیں ۔ یہ ایک اسکول کا طالب علم تھا ۔ آراے بازار کے حملے میں اس کا بڑا بھائی شہید ہو گیا تھا اور وہ وزیراعظم کو کہہ رہا تھا کہ میں خیریت سے ہوں ۔ لکی مروت کے ایک فوجی جوان کا چہرہ جلا ہوا تھا ۔ حالت کافی خراب تھی نواز شریف رک گئے اور خیریت دریافت کی تو جوان نے مسکرانے کی کوشش کی ۔ نواز شریف نے پوچھا میرے لئے کوئی حکم ؟ جوان نے کہا سر میرے بیٹے کو کہیں بھرتی کرا دو میرا اب کچھ پتہ نہیں ۔ نواز شریف نے اثبات میں سر ہلایا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے جنرل راحیل شریف نے کہا فکر مت کرو تمہارے بیٹے کو ہم نوکری دیدیں گے۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف مل کر زخمیوں کی دلگیری کر رہے تھے ۔

ایک زخمی کا تعلق چونڈہ سے تھا وہ راولپنڈی کسی کام سے آیا تھا لیکن بم دھماکے میں زخمی ہو کر سی ایم ایچ پہنچ گیا۔ جیسے ہی نواز شریف اس کے پاس پہنچے تو اس زخمی نے پنجابی زبان میں بم دھماکے کرنے والوں کی ایسی تیسی شروع کر دی اور کہا کہ ان ظالمان نے کراچی سے خیبر تک تباہی مچا رکھی ہے ۔ پھر اس نے ایک موٹی سی گالی دی ۔ گالی دیتے ہوئے اسے کچھ زور لگانا پڑا تو درد کی ٹیسیں اٹھیں۔ اس نے اپنی آہ کو روکا اور پھنکارتے ہوئے بولا ’’میاں صاحب ان ظالموں کو ایسا سبق سکھائو کہ انکی آئندہ نسلیں بھی آپ کو یاد رکھیں ‘‘اس زخمی سے فارغ ہو کر ہم ایک اور وارڈ میں پہنچے ۔ جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم نواز شریف سے ایک نوجوان کا تعارف کرایا اور بتایا کہ یہ تیسری دفعہ بم دھماکے میں زخمی ہوا ہے اور ہر مرتبہ سی ایم ایچ ہی پہنچتا ہے۔ اب تو ڈاکٹر بھی اس کو نام سے جانتےہیں ۔ یہ زخمی نوجوان مسکرا رہا تھا لیکن میں سوچ رہا تھا کہ کیا یہ چوتھی مرتبہ پھر زخمی ہو گا ؟ کیا وزیر اعظم اور آرمی چیف مل کر اس نوجوان کو چوتھے بم دھماکے سے بچا سکیں گے ؟ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اور زخمی پھٹ پڑا ۔ یہ بھی ایک سویلین تھا وہ نواز شریف سے کہہ رہا تھا کہ مجھے اپنے زخموں کی پرواہ نہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا لیکن میں نے اپنے ارد گرد بچوں اور بزرگوں کی کٹی پھٹی لاشیں بکھری دیکھی ہیں مجھے تو نیند ہی نہیں آتی میں سوچتا ہوں ان ظالموں کو کون روکے گا ؟ پھر اس نے وزیر اعظم کو مخاطب کیا اور کہا میاں صاحب کچھ کرو، کچھ کرو اللہ کا واسطہ کچھ کرو ۔

اس وارڈ سے فارغ ہو کر ہم سی ایم ایچ کی تیسری منزل پر واقع انتہائی نگہداشت کے وارڈ کی طرف روانہ ہوئے ۔ لفٹ میں اوپر جاتے ہوئے میں نے وزیر اعظم اور آرمی چیف سے کہا کہ فوجی جوان صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن سویلنز کا پیمانہ صبر سے لبریز ہو چکا ہے ۔ وزیر اعظم صاحب نے میری رائے سے اتفاق کیا۔ آرمی چیف خاموش رہے ۔وہ ان جرنیلوں میں سے ہیں جو بولتے کم ہیں اور کام زیادہ کرتے ہیں ۔ لفٹ سے باہر نکلے تو خواجہ محمد آصف نے میرے کان میں کہا کل رات آرمی اور ایئر فورس نے شمالی وزیرستان میں حساب برابر کر دیا ہے ۔ آئی سی یو میں زیر علاج تمام جوان بنوں سے لائے گئے تھے ۔کوئی ہوش میں نہ تھا ۔وزیر اعظم ہر ایک کے سرہانے کھڑے ہوئے اور ڈاکٹروں سے انکی حالت کے متعلق تفصیلات دریافت کیں ۔ دکھ اور پریشانی وزیر اعظم کے چہرے سے عیاں تھی ۔ سی ایم ایچ میں ایک گھنٹہ گزار کر واپس روانہ ہوئے تو جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا ۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف دونوں کو پتہ ہے کہ اس وقت قوم مدد طلب نظروں سے انکی طرف دیکھ رہی ہے۔ نواز شریف نے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ معاملات طے کرنے کی کوشش کی لیکن مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ناکام ہو گئے ۔ ستمبر 2013ء میں آل پارٹیز کانفرنس میں تمام اہم سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کی حمایت کی تھی لیکن چار ماہ میں بات آگے نہیں بڑھ سکی ۔ اب مذاکرات مشکل ہو چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے لیکن طالبان کی طرف سے بنوں اور آراےبازار راولپنڈی میں خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرکے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرنا دراصل مذاکرات کے نام پر حکومت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔حکومت کو اعتراف کرنا چاہئے کہ اس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری جن شخصیات کے حوالے کی وہ یہ ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہیں ۔ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے بہت پہلے یہ مذاکرات ناکام ہو چکے تھے ۔ اب حکومت کو جو بھی فیصلہ کرنا ہے جلد کرنا ہے۔

کچھ مہربان طالبان کے خلاف ایک نئی جنگ کے نام پر مشرف کو بچانے کی کوشش میں ہیں ۔ یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ مشرف کے مستقبل کا فیصلہ عدالت کریگی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد اگر حکومت چاہے تو مشرف کو کچھ رعایت یا معافی مل سکتی ہے ۔ عدالتی فیصلے سے پہلے مشرف کو معافی نہیں مل سکتی ۔ خواجہ محمد آصف کہتے ہیں کہ ہم آئین اور قانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ مشرف کا ٹرائل بھی ہو گا اور مشرف کی پالیسی سے جنم لینے والے دہشت گردوں کی سرکوبی بھی کی جائے گی ۔کابینہ کے ایک حالیہ اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف نے دوٹوک انداز میں یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرف کو عدالت میں پیش ہونا ہو گا اور ٹرائل کا سامنا کرنا ہو گا اور اس سلسلے میں وہ کوئی دبائو قبول کریں گے ۔وزیر اعظم کی تقریر کے بعد احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، خواجہ محمد آصف اور عبدالقادر بلوچ نے وزیر اعظم کی بھرپور تائید کر دی ۔ مشرف کو معافی دلوانے کیلئے سر گرم سیاست دانوں اور ٹی وی اینکرز سے گزارش ہے کہ ذرا بلوچستان کا چکر لگالیں ۔ٹھیک ہے کہ آپ کا مسئلہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ ہو گی لیکن بلوچ کہتے ہیں کہ ہمیں تباہی کے اندھیروں میں دھکیلنے کا ذمہ دار مشرف ہے ہمیں انصاف دو اگر مشرف کو سزا نہ ملی تو بلوچستان میں کبھی امن قائم نہ ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.