.

آپریشن بلو اسٹار کے انجانے حقائق

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ برطانیہ نے امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر ’’بلو اسٹار آپریشن‘‘ کے نام سے کیے جانے والے فوجی حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد میں بھارتی حکومت کی مدد کی تھی۔ اس آپریشن میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور اس کے عسکریت پسند سکھ ساتھیوں کا صفایا کر دیا گیا تھا۔ برطانیہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ بھارت کا نو آبادیاتی آقا ہونے کی وجہ سے وہ ہر مشکل گھڑی میں اس کے ساتھ ہے۔ اور زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے لیے برطانوی آرکائیو کی خفیہ دستاویزات کو اب عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے جس میں وہ تمام مواد شامل ہے جسے ’’آپریشن بلو اسٹار‘‘ کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کر دیا گیا ہے۔ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے عسکریت پسندوں کے خوف کے باعث اس آپریشن کی منظوری دی تھی جنہوں نے کہ گولڈن ٹمپل کو اپنی پناہ گاہ بنا رکھا تھا۔ اس وقت کی برطانوی وزیراعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے مسز گاندھی کو فوجی امداد کی پیشکش بھی کی تھی تا کہ وہ اپنے منصوبے پر عمل درآمد کر سکیں۔

میں نے یہ نتیجہ اس بنیاد پر اخذ کیا ہے کہ مسز تھیچر اور اندرا گاندھی میں ہر روز ٹیلی فون پر بات ہوتی تھی۔ میں لندن میں بھارت کا ہائی کمشنر تھا اور مسز تھیچر نے خود مجھے بتایا کہ وہ مسز گاندھی کے ساتھ برطانیہ اور انڈیا کے باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کرتی ہیں، موسم پر بات چیت نہیں کرتیں۔ اس موقع پر سکھ عسکریت پسندوں کا ذکر یقیناً ہوتا ہو گا (ایک دفعہ میں نے مسز تھیچر سے پوچھا کیا وہ وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تو انھوں نے بڑی تنک مزاجی سے جواب دیا کہ وہ ایک مختلف شخص ہے) بہر حال میں بھارتی فضائیہ کی اسپیشل ایڈ سروسز (SAS) کی اس آپریشن میں شمولیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اگر یہ سچ ہوتا تو برطانیہ یا انڈیا کا میڈیا گزشتہ تیس سال میں یقیناً اس کو طشت ازبام کر چکا ہوتا۔ جیسے کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل کے ایس برار نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی کلی طور پر بھارتی فورسز نے کی تھی۔ ’’ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ برطانیہ سے کوئی یہاں آیا ہو اور ہمیں بتایا ہو کہ کارروائی کی منصوبہ بندی کس طرح کی جائے‘‘۔ بہر حال سچ کا پتہ اس وقت چل جائے گا جب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے حکم پر کی جانے والی انکوائری مکمل ہو جائے گی۔

وہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ 1984ء میں مسز تھیچر کی حکومت کا اس آپریشن میں کیا کردار تھا، تا کہ اصل حقائق کھل کر سامنے آ سکیں۔ بھارت کے اندر اور بیرون ملک رہنے والے سکھ بہت پریشان ہیں کیونکہ برطانوی حکومت ایسے ظاہر کر رہی ہے جیسے وہ اس آپریشن پر خوش نہیں ہے۔ بے شک مسز گاندھی نے فوج کو گولڈن ٹمپل میں بھیجنے سے قبل بدحواس ہو کر مختلف لوگوں سے ان کی رائے لینے کی کوشش کی تھی کہ آپریشن کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ مسز گاندھی کے ایک مشیر آر کے دھاون میرے پاس بھی آئے تھے تا کہ دربار صاحب میں فوجی دستے داخل کرنے کے سوال پر میرا ردعمل جان سکیں۔ انھوں نے مجھے واضح طور پر بتایا کہ مسز گاندھی نے انھیں میرے پاس بھیجا ہے۔ میں نے کہا میں جانتا ہوں کہ وہ میرے پاس مسز گاندھی کی اجازت کے بغیر نہیں آ سکتے تھے کیونکہ موصوفہ میری تحریروں کی وجہ سے میرے ساتھ کتنی سخت ناراض ہیں۔ میں نے انھیں خبردار کیا کہ گولڈن ٹمپل میں فوج کو بھیجنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ وہ سکھوں کے لیے اتنا ہی مقدس ہے جتنا کہ عیسائیوں کے لیے ویٹی کن۔ میں نے یہ بھی کہا اگر حکومت نے ایسا کر دیا تو سکھ اسے کبھی معاف نہیں کریں گے اور نہ کبھی فراموش کریں گے کیونکہ یہ ان کے مقدس ترین مقام کی بے حرمتی ہو گی۔

میرے انتباہ کے باوجود وہ فوجی کارروائی سے باز نہ آئیں۔ گیانی ذیل سنگھ اس زمانے میں ملک کے صدر تھے۔ میری ان سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔ وہ مجھے اپنے دل کی بات بتا دیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں گیانی ذیل سنگھ اور اندرا گاندھی میں بہت دوریاں پیدا ہو گئی تھیں۔ اس حد تک کہ مسز گاندھی نے ان کی طرف کوئی سرکاری کاغذ تک نہ بھیجا اور نہ ہی کبھی وزارتی کابینہ کی کارروائی کی رپورٹ بھیجی حالانکہ ایسا کرنا غیر آئینی تھا لیکن موصوفہ آئین کی خلاف ورزی سے قطعاً نہ ہچکچاتی تھیں۔ انھوں نے صدر کا جنوبی افریقہ کا خیرسگالی دورہ بھی منسوخ کر دیا۔ بہر حال صدر کو یہ یقین دہانی ضرور کروائی کہ گولڈن ٹمپل میں فوج کشی نہیں کی جائے گی۔ آئینی طور پر صدر فوج کے سربراہ تھے۔ انھوں نے کئی مرتبہ کہا تھا کہ جس طرح سے اندرا سکھوں کے معاملے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے وہ اسے پسند نہیں کرتے لیکن مسز گاندھی کی یقین دہانی پر کہ گولڈن ٹمپل کی بے حرمتی نہیں کی جائے گی صدر گیانی مطمئن ہو گئے۔ اندر کمار گجرال نے وزیر اعظم بننے سے پہلے اکالی سکھوں کے ساتھ افہام و تفہیم پیدا کرنے کی خاطر ایک ’’پنجاب گروپ‘‘ تشکیل دیا تھا جس کا میں خود بھی رکن تھا۔ لیکن اندرا گاندھی کی حکومت نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا۔

اس وقت کے وزیر خزانہ نرسمہا راؤ نے ہمیں دعوت دی کہ اکالی سکھوں کے ساتھ سمجھوتے کے لیے ہماری مدد کریں۔ اس کو یہ احساس نہیں تھا کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ حکومت اس سے پہلے ہی فوجی آپریشن کا فیصلہ کر چکی تھی۔ یہ فوج کے گولڈن ٹمپل میں داخلے سے ایک ہفتہ قبل کی بات ہے۔ اس فوجی آپریشن کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل برار نے مجھے بتایا کہ اس آپریشن کو اس کے وقوع سے دو ہفتے قبل مکمل کرنے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ یہ آپریشن زیادہ طویل نہ تھا اگرچہ فوج کو ٹینک بھی استعمال کرنے پڑے تھے کیونکہ عسکریت پسندوں کی طرف سے مزاحمت بہت سخت تھی۔ اس سلسلے میں مسز گاندھی سے مشورہ کیا گیا کیونکہ انھوں نے بطور خاص ٹینک استعمال کرنے کی ممانعت کر دی تھی۔ سکھوں نے اس واقعے پر خوب ہنگامہ کیا۔ دھاون ایک بار پھر میرے گھر مجھ سے یہ پوچھنے کے لیے آئے کہ سکھوں کے غیظ و غضب کو فرو کرنے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے انھیں بتایا کہ ان کے اس آپریشن نے خالصتان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ دھاون بولے کہ مسز گاندھی نے کہا ہے کہ کلدیپ کے پاس ضرور کوئی نہ کوئی حل ہو گا۔ تاہم میری نصیحت یہ تھی کہ فوجی دستوں کو ٹمپل کمپلیکس سے فی الفور نکل جانا چاہیے اور اکالی سکھوں کے تخت کی مرمت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

میں نے انھیں بتایا کہ جہاں تک میں ان لوگوں کو جانتا تھا یہ تباہ شدہ عمارت کی از خود تعمیر نو کر لیں گے اور حکومت کی اس سلسلے میں کوئی اعانت قبول نہیں کریں گے۔ حکومت نے فوجی دستوں کو واپس بلا لیا لیکن اکالی تخت کی مرمت کا کام بھی کروا دیا۔ سکھوں نے حکومت کی طرف سے کی جانے والی تعمیر نو کو مسمار کر دیا اور اکالی تخت کو رضا کاروں کے تعاون سے دوبارہ تعمیر کیا۔ صدر ذیل سنگھ سب سے ناخوش شخص تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے ایک نشرئیے میں صبر و تحمل اور درگزر کی تلقین بھی کی لیکن ساتھ یہ بات واضح کر دیا کہ مسز گاندھی کی حکومت نے سکھ کمیونٹی کا ناقابل تلافی نقصان کیا ہے اور ان کے جذبات کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ وہ انڈین ائر لائن کے طیارے میں بیٹھ کر امرتسر پہنچے کیونکہ وی آئی پی طیارہ مسز گاندھی کے استعمال میں تھا۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ آیا انھوں نے حکومت کے اس اقدام کی تحریری طور پر مذمت کی تھی یا اپنی بے بسی اور توہین کی کہانی کسی کو سنائی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسز اندرا گاندھی کو بھنڈرانوالہ کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے کوئی اور طریقہ تلاش کرنا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی طرف سے سکھ کمیونٹی سے معذرت کرنا اس برادری کے لیے کافی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ [ترجمہ:مظہر منہاس]

بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.