.

اور وزیر اعظم نے کار چلائی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پرانے زمانے میں طوطا توپ چلاتا تھا، نئے دور میں وزیر اعظم گاڑی چلاتا ہے۔

میں نے برٹش میوزیم کا سارا ریکارڈ کھنگال مارا۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ کس طوطے نے توپ چلائی۔ جھوٹ نہیں بولوں گا۔ مصری مخطوطات پڑھنے میں مجھے کامیابی نہیں ہوئی۔ البتہ البیرونی کی تاریخ ہند نامی کتاب میں لکھا تھا کہ طوطے نے بھنگیوں کی توپ چلائی اور یہ اس وقت بھی مال روڈ پر ہی زنگ آلود حالت میں رکھی تھی۔ البتہ اس زمانے میں مال روڈ کے بجائے یہاں ایک ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی ہوا کرتی تھی، طوطے کی طبیعت میں جانے کیا مستی آئی کہ اس نے توپ کا گولہ داغ دیا۔

رہا قصہ وزیر اعظم کے گاڑی چلانے کا۔ تما م مورخین کا اجماع ہے کہ کسی وزیر اعظم نے اپنی گاڑی بقائمی ہوش وحواس خود ڈرائیو نہیں کی۔ کچھ بادشاہ ایسے ضرور گزرے جو رعایا کا حال جاننے کے لئے بھیس بدل کر گلیوں بازاروں میں نکل جاتے تھے۔ انکا پھٹا پرانا لباس دیکھ کر کچھ لوگ سخاوت پر مجبور ہو جاتے اور ان کے ہاتھ میں درہم ،آدھا درہم رکھ دیتے۔ مسلم تاریخ میں حضرت عمر کا ذکر پڑھنے کو ملا جو اپنے موڈھے پر آٹے کی بوری لاد کر بیوہ خواتین کے گھروں میں ڈیلور کرتے۔ ایک مرتبہ وہ لانگ ڈرائیو پر نکلے، ان کا غلام بھی ان کے ہمراہ تھا، وہ باری باری اونٹ کی سواری کرتے، جب یہ مختصر سا کیول کیڈ تازہ تازہ مفتوحہ شہر بیت المقدس میں داخل ہوا توحضرت عمر نے مہار تھام رکھی تھی اور غلام اونٹ پر سوار تھا۔ شہر کے لوگوں نے غلام کو خلیفہ وقت سمجھ کر اس کے ہاتھوں پر بوسے برسا دیئے۔

مگر میری تحقیق کا سفر ابھی تھما نہیں اور میں نے میوزیم کے کمپیوٹر میں ایک اور صفحہ کھولا۔ یہ ابن خلدون یا امام طبری کے ہم پلہ مورخ کی عرق ریزی کا شاہکار تھا۔ اس میں انکشاف تھا کہ پاکستان میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے والے نواز شریف نے لاہور جیسے گنجان شہر میں خود کار چلائی۔ راستے میں وہ ٹریفک کے ہر سگنل پر رکتے رہے اور لوگ ان کو تنہا دیکھ کر حیران رہ گئے اور پریشان بھی ہوئے اور دعاگو بھی ہوئے کہ اس خطرناک ماحول میں اللہ خیر ہی کرے۔ ان کے آگے پیچھے محافظ کاروں کا لمبا چوڑا قافلہ بھی نہیں تھا۔ حتی کہ کسی ایمرجنسی سے نبٹنے کے لئے موبائل ہسپتال بھی ندارد۔ اس انوکھے انکشاف نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ پہلا تو یہ کہ اس سفر میں چونکہ کسی رکشے کو ہسپتال جانے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہوئی، اس لئے کتنی خوش قسمت خواتین ایسی تھیں جو گائنی وارڈ میں جا کر ماں بننے کی نعمت سے سر فراز ہوئیں اور وزیر اعظم اگر جاتی عمرہ سے چلے اور لمبا سفر طے کر کے فاطمہ جناح روڈ پر عطا قاسمی کے دفتر تک پہنچے تو کتنے ہزار لوگ روٹ نہ لگنے کی وجہ سے صعوبتوں سے محفوظ رہے اور اس روز سے وزیر اعظم کو دعائیں دے رہے ہیں۔

عام طور پر وی آئی پی روٹ کے لئے کئی متبادل سڑکوں پر پولیس کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے، مگر اس روز لاہور پولیس اس بھاگ دوڑ سے محفوظ رہی۔ اس روز شرطوں نے کھل کر موٹر سائیکل والوں کے یا تو چالان کئے ہوں گے یا مٹھی گرم ہونے کی صورت میں انہیں جانے دیا ہو گا۔

میں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی ویب سائٹ پر آن لائن چیٹ کے ذریعے پوچھا کہ جس وزیر اعظم نے چند روز پہلے اپنی مادر علمی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری لینے کے لئے خلق خدا کو جی بھر کے تنگ کیا ہو، اس نے اب تن تنہا گاڑی چلانے کا "شو" کیوں کیا۔ مجھے جواب ملا کہ پاکستانی میڈیا ہر حکومت پر تنقید کا عادی ہے، اس نے جی سی یونیورسٹی کے اسپیشل کانووکیشن پر ٹریفک کی بندش پر ایک ہی مضمون سو طرح سے باندھا، جس سے وزیر اعظم کی شہرت کو دھچکا لگا۔ اس نقصان کا ازالہ کرنا ضروی تھا۔ میڈیا مینجرز نے وزیر اعظم کی سولو ڈرائیونگ کی چند سطری خبر سے سارا "ڈیمیج کنٹرول" کر لیا۔

اس خبر کو معتبر بنانے کے لئے اسے ایک چہیتے نام کے ساتھ چھپوایا گیا۔ میڈیا کی اصطلاح میں اسے ایکس کلوسو نیوز کہا جاتا ہے یا اسے اسکوپ بھی کہہ دیتے ہیں۔ مگر میڈیا کا ایک مبتدی بھی حیران ہے کہ بھرے شہر میں وزیر اعظم کے سفر کی خبر ایکس کلوسو کیسے ہو گئی۔ اگر عطا قاسمی خود اپنے کالم میں وزیر اعظم کی طرف سے اپنی عزت افزائی کا ذکر نہ کرتے تو کسی نے بھی پہلی خبر پر یقین نہیں کرنا تھا۔ عطا قاسمی تو جھوٹ نہیں بول سکتے۔ وزیر اعظم کے اس رویے کی بھی ہر کوئی داد دے گا کہ انہوں نے عطا قاسمی کی کرسی نہیں سنبھالی اور خود ان کے سامنے صوفے وغیرہ پر بیٹھ گئے۔ مگریہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے اگر جی سی یونیورسٹی والی ٹریفک ہڑبونگ کا زہر زائل کرنا ہی تھا جس دوران ایک حاملہ عورت نے رکشے میں بچے کو جنم دیا تو وہ عطا قاسمی کے دفتر کیوں آئے، وزیر اعلی ہائوس یا نوے شاہرہ قائد اعظم کے جادو گھر کیوں نہ چلے گئے۔ اس سوال کا جواب عطا قاسمی کے کالم سے بھی نہیں ملتا۔ میرا خیال ہے کہ وزیر اعظم الحمرا والے امن کی آشا کے شو پر فیڈ بیک لینے آئے ہوں گے، عطا قاسمی وزیر اعظم کے ذاتی دوست نہ ہوتے تو انہیں خود اسلام آباد جا کر اس موضوع پر بریفنگ دینا پڑتی جیسے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو پی ایم ہائوس میں حاضری دی ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم اور جنرل صاحب دونوں ایک روز پہلے سی ایم ایچ میں بھی اکٹھے ہوئے، اس کی ساری تفصیل حامد میر نے اپنے کالم میں بیان کی ہے ۔ وہیں ایک کونے میں بیٹھ کر وہ سیکورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کر سکتے تھے مگر پروٹوکول کے بھی آخر کوئی تقاضے ہوتے ہیں اور راحیل شریف بہر حال عطا قاسمی نہیں ہیں۔ شاید حامد میر کی موجودگی بھی ایک وجہ بنی ہو کہ حساس معاملات ان کے سامنے زیر بحث نہیں لائے گئے۔

تواریخ میں مذکور ہے کہ نواز شریف کو جس حکمران نے اپنی زندگی عطیہ کی، اسے ایک روز اکیلے سائیکل چلانے کا شوق کودا۔ مگر ان کے لئے روٹ باقاعدہ لگا ہوا تھا اور ایس ایس جی کے کمانڈو، مشرف جیسے نہیں، اصلی والے کمانڈو، ان کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے، ظاہر یوں کیا گیا کہ آمر مطلق کا رابطہ باہر کی دنیا سے کٹ چکا ہے، اس دوران ایک ہجوم نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا، اور اسے خاک سیاہ کر کے دم لیا۔ مگر نواز شریف کی سیلف ڈارئیونگ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا اور تواریخ کے صفحات خالی کے خالی رہ گئے۔

میں چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم میری بھی ایک خواہش پوری کریں، کسی رات کے اندھیرے میں آٹے کا تھیلا کندھے پر رکھ کر کسی غریب بیوہ کی کٹیا میں پہنچائیں یا جس روز شمالی وزیرستان "فتح" ہو جائے تو کسی اونٹ یا خچر پر بیٹھ کر مفتوحہ علاقے کا دورہ کریں۔ پچھلے دور حکومت میں جب انہوں نے ایک آرمی چیف کو نوکری سے نکالا تھا تو ان کے قصیدہ خوانوں نے حضرت عمر کی مثال دی تھی جنہوں نے اپنے آرمی چیف کو بیک جنبش قلم بدل دیا تھا۔ کاش! نواز شریف، حضرت عمر کے ہر کارنامے کی تقلید کر دکھائیں۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.