.

بدعنوانی، عقائد اور انتہا پسندی

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں عقائد اور انتہا پسندی کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو پرکھتے رہتے ہیں کہ اچھا مسلمان کو ن ہے یا کیا دھشت گرد مسلمان ہیں یا یا ان کے انتہا پسندانہ اور غیر لچک دار نظریات اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں یا نہیں؟ ان سوالات سے قطعِ نظر، عیاں صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان میں اپنی من پسند تشریح کردہ شریعت کے نفاذ کے لیے طالبان انتہائی طریقے، جیسا کہ خود کش حملے، استعمال کررہے ہیں۔ وہ ان کو بھی ہلا ک کرنے کی دھمکی دیتے ہیں جو ان کے نظریات سے ہلکا سا اختلاف رکھتے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان جو طالبان اور ان کے موقف کے حامی ہیں، انہیں مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن وہ ہار ماننے کے لیے تیار نہیں۔

اس منظر نامے کے دوسری طرف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیرہیں جو ہمیشہ اپنا موقف ببانگِ دھل اور دو ٹوک انداز میں پیش کرتی ہیں۔ حالیہ دنوں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق مس عاصمہ نے عمران خان پر طالبان کا حامی ہونے کا الزام لگایا۔ اُنھوں نے کہا…’’عمران خان کو سیاست کا مطلق علم نہیں۔ وہ براہِ راست یابلواسطہ طور پر دھشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ ریاست سے دشمنی کررہے ہیں۔‘‘ پی ٹی آئی کے سربراہ، جو یقیناًقومی سطح کے رہنما ہیں، پر مس عاصمہ کی طرف سے عائد کردہ الزامات بہت سنگین ہیں لیکن اگر ٹھنڈے سے سوچیں تو یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد دکھائی نہیں دیتے۔تاہم اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ عمران خان درست کہتے ہیں یا عاصمہ جہانگیر۔ ’’آفتاب آمد دلیلِ آفتاب‘‘ کے مصداق یہاں بحث کی گنجائش نہیں کیونکہ طالبان نے کسی کوئی ، عمران اور انکے چند ہم خیال افراد کے سوا، ابہام میں نہیں رہنے دیا۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ شہریوں اور سیکورٹی اہل کاروں کو ہلاک کررہے ہیں۔

پاکستان کے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب، ڈاکٹر رفعت حسین، جو امریکہ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اس گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں۔ وہ بھی عاصمہ جہانگیر کی طرح واشگاف انداز میں بات کرنے کے قائل ہیں۔ وہ پشتون ہیں اور اکثر اپنے شہر پشاور جاتے ہیں ایک کلینک میں کٹے ہوئے ہونٹوں کی مفت سرجری کرتے ہیں۔ اس دوران ان کا اپنے علاقے کے میڈیکل سے وابستہ افراد کے علاوہ مریضو ں سے رابطہ رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے …’’اسلام اپنے پیروکاروں کوجو بنیادی اصول سکھاتا ہے وہ سچائی اور دیانت داری ہے۔ تاہم افسوس، آج دنیا بھر میں مسلمانوں کا شمار انتہائی بددیانت افراد میں ہوتا ہے۔ ا س ضمن میں کسی سرچ انجن پر جانے کی ضرورت نہیں، اپنے وطن پاکستان کے حالات پر نظر ڈال لیں، سب کچھ واضح ہوجائے گا۔‘‘چونکہ ڈاکٹر صاحب خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ زیادہ تر اپنے صوبے کے بارے میں بات کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں مذہب کی شدت پسندی تو غالب دکھائی دے گی لیکن انصاف نہیں۔ درحقیقت وہاں انتظامیہ نامی کسی چیز کا کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ ایک شخص قتل کا ارتکارب کرتا ہے ۔ اگر قاتل کوئی گمنام شخص ہے تو جب مقتول کے مدعی ایف آئی آر درج کراتے ہیں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان افراد کا نام لگادیا جاتا ہے جن سے مقتول خاندان کی دشمنی ہوتی ہے۔ ایسا کسی واقعاتی شہادت کے بغیر بھی کردیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مدعی خاندان جانتا ہے کہ وہ شخص قاتل نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی جائیداد یا زمین کرائے پر حاصل کرتا ہے تو اس پر قبضہ جماکر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ کیس عدالت میں جاتا ہے اور وہاں وہ مجرم مہنگے وکلا کی خدمات حاصل کرتے ہوئے کیس کو لٹکا دیتا ہے۔ ہماری ماتحت عدالتیں بھی جلدی فیصلے سنانے کے خلاف ہیں، چناچہ وہ کیس سالوں تک چلتا رہتا ہے۔ اس دوران وہ شخص زمین پر بدستور قبضہ جمائے بیٹھارہتا ہے جبکہ اس کا جائزمالک دربدر خوار ہورہاہوتا ہے۔ ایک آدمی اپنی بیوی کوطلاق دیتا ہے لیکن وہ اسے واجب نان و نفقہ دینے سے گریز کرتا ہے۔ اس کے لیے وہ کسی شرعی قانون کا سہارا لیتا ہے۔ عام طور پر بھائی اپنی بہنوں کو زمین میں حصہ دینے کے مختلف بنانے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یہ تمام افراد اسلامی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن یہ تمام افراد طالبان کی اس لیے حمایت کریں گے کہ وہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر رفعت کا کہناہے…’’ملک میں جھوٹی گواہی دینا معمول کی بات ہے۔ اہم برانڈز کی نقل تیار کرکے فروخت کی جاتی ہیں اور اسے مذہب کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جاتا۔ سیکولر تعلیم کے نام سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے لیکن جب بات کریں تو ان کو یقین ہوتا ہے کہ ہر قسم کی سائنسی پیش رفت اور ٹیکنالوجی ان کے گھر کی باندی ہے۔ ان کا آئیڈئل سعودی عرب کا اسلامی نظام ہے ، لیکن ملکی قانون، جیسا ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی طرف نہیں دیکھتے۔‘‘

ڈاکٹر رفعت کی باتیں ہماری مسائل کی درست عکاسی کرتی ہیں۔ہم کئی عشروں سے ان معاملات سے واقف ہیں لیکن کوئی حکومت ان پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس ملک، جہاں شریعت کے نفاذ کے لیے لوگ ایک دوسرے کو ماررہے ہیں، میں آخری مرتبہ کوجعلی اشیا تیار کرنے پر کسی کو سزا کب ملی تھی؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منافقت سے باز کیوں نہیں آتے؟ تمام اقوام میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں لیکن ہمارے جیسی منافقت خال خال ہی دکھائی دیتی ہے۔ سابقہ حکومت سے کچھ نہ ہوسکا توا س صوبے کا نام تبدیل کردیا لیکن یہاں موجود مسائل کی نوعیت بدلنے کی کوئی کوشش کی؟ایک وقت تھا جب یہ انتہا ئی خوبصورت صوبہ تھا۔ اس کی بہت ہی رومانوی تاریخ تھی۔ اس کے شہر پشاور کے بازاروں، جیسا کہ موتی بازار، قصہ خوانی بازار، خیبر بازار، کے نام بھی تخیلات کی دنیا بسا دیتے ہیں۔ڈاکٹر عشرت کا کہنا ہے کہ تین دھائیاں پہلے وہ اکوڑہ خٹک ، جہاں مولانا سمیع الحق کا مدرسہ ہے، میں رہتے تھے۔ اُس وقت یہاں زندگی اتنی توانا اور جذبوں سے بھرپور تھی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب یہ علاقہ انتہا پسندی کا گڑھ بن جائے گا۔وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب معاملات خرابی کی طرف مائل تھے تو حکومتی ادارے اور سیکورٹی ایجنسیاں کہاں تھیں؟ اُنھوں نے یہاں آنے والی تبدیلیوں سے اغماض برتتے ہوئے معاملات کو خراب ہونے کی اجازت کیوں دی؟ ڈاکٹر رفعت کا کہنا ہے کہ اب تواٹک کا پل پار کرتے ہی خوف کے سائے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ ہر چارد پوش خودکش حملہ آور دکھائی دیتا ہے۔

کیا پانچ وقت کی عبادت اور جعلی سازی ایک ساتھ چل سکتی ہے؟ اگر ریاست ان معاملات سے اغماض برتتی رہی ہے تواس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ دھشت گردوں کو بھی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ اگر کسی برائی کا شروع میں خاتمہ نہ کیا جائے تو بعد میں اس کی بیخ کنی دشوار ہوجاتی ہے۔ ہمارے ساتھ شاید یہی کچھ ہوا ہے۔ کبھی یہ دھشت گرد نہایت معصوم بچے تھے۔ شاید ایک خود کش بمبار کی انگلی پر لگنے والے زخم سے بھی اس کی والدہ تڑپ اٹھتی تھی ،شاید اس کے والد نے خود بھوکے رہ کر اُسے جوس کا بسکٹ کا ایک ڈبا لا کر دیا تھا۔ درست کہتے ہیں کہ یہ ہمارے ہی لوگ ہیں، تو پھر تلاش کریں انہیں جنھوں نے ان کو ہماری جان کا دشمن بنا دیا۔ یقین کرلیں وہ بھی آپ کے آس پاس ہی ہیں ، لیکن ان کا نام لینے کی کوئی جرات نہیں کرے گا۔ہم کس آتش فشاں میں کود چکے ہیں کہ ہزاروں جانوں کا لہو بھی کھولنے والے آلاؤ کو سرد نہیں کرسکتا؟

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.