.

جین زیب تن کرنے والی خواتین کی حکمرانی

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’جمعیت علمائے اسلام‘‘ میں اپنے گروپ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے ایک بیان میں جہاں پاکستان کے سابق شمال مغربی سرحدی صوبے کی حکمران جماعت ’’تحریک ِ انصاف‘‘ پر مغرب کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا الزام عائد کیا ہے وہاں یہ بھی بتایا ہے کہ خیبرپختونخوا صوبے میں ’’این جی اوز‘‘ کی حکمرانی ہے اور شکایت بھی فرمائی ہے کہ وہاں جین زیب تن کرنے والی خواتین کی حکمرانی چل رہی ہے۔

گویا مولانا کے مطابق ایک ہی صوبے میں ایک ہی وقت میں مغرب کے ایجنڈے کی پیروی بھی ہو رہی ہے۔ ’’این جی اوز‘‘ کی حکمرانی بھی ہے اور جین زیب تن کرنے والی خواتین کی حکومت بھی چل رہی ہے اور اس صوبے کی حکومت کے بارے میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ: ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ پوری طرح واضح نہیں ہوتا کہ مولانا موصوف کو مغرب کی پیروی پر اعتراض ہے یا ’’این جی اوز‘‘ کی حکمرانی اچھی نہیں لگ رہی یا جین پہن کر حکمرانی کرنے والی خواتین پر غصہ آ رہا ہے۔ اعتراض تو خواتین کے جین پہننے پر بھی ہو سکتا ہے اور جین کے اندر خواتین کی موجودگی بھی واجب اعتراض ہوسکتی ہے۔ پتہ چلنا چاہئے کہ اصل اعتراض کیا ہے؟ اور کیوں ہے؟خبر یہ جمائی گئی کہ سرخی سے پتہ چلتا ہے کہ اصل اعتراض خواتین کے جین کو پہننے یا زیب تن کرنے پر ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہننے سے زیادہ قابل اعتراض ’’زیب تن‘‘ کرنے کو قرار دیا گیا ہو کیونکہ خواتین کو زیبائش زیب نہیں دیتی۔ انہیں یعنی خواتین کو اپنے قومی یا مذہبی یعنی اسلامی لباس میں رہنا چاہئے مگر ہمارا، ہم پاکستانیوں کا قومی یا مذہبی لباس کون سا ہے؟ لباس کا قوم اور مذہب سے رشتہ جوڑنا مناسب اور موزوں نہیں رہے گا کیونکہ انڈونیشیا میں وہاں کے لباس میں بھی مذہب اسلام کو ماننے والے ہم پاکستانیوں سے کہیں زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ بنگلہ دیش میں مسلمان خواتین ساڑھی بھی پہن سکتی ہیں اور شلوار قمیص میں بھی کام کر سکتی ہیں بلکہ ان دنوں وہاں شلوار قمیص کو ساڑھی سے زیادہ ’’ورکنگ کلاس‘‘ کا لباس سمجھا جاتا ہے۔ افریقہ کے مسلمانوں کا اپنا اور اپنے موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والا لباس ہے جس کا مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔

ہمارے ایک مہربان بزرگ مولانا سعید ایڈیٹر پاکستان ٹائمز راولپنڈی بتایا کرتے تھے کہ مسلمان ہندوستان میں دو چیزوں سے آئے تھے۔ ایک تسمہ اور دوسرا تکمہ۔ تسمہ جو کہ جوتے یا بوٹ میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ آزار بند کے طور پر شلوار پاجامے کے کام بھی آتا ہے اور کمر کس یا پیٹی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تکمہ، بٹن کو کہتے ہیں جو لباس کا لازمی حصہ ہوتا ہے اور لباس کی ساخت اور لباس کے اندر جسموں کی حرکتوں کو آسان بناتا ہے۔برصغیر ہندوستان میں آنے والے مسلمان تسمے اور تکمے سے آراستہ لباس کے ساتھ اس علاقے میں آئے جو ساڑھی اور دھوتی کی صورت میں لپیٹے جانے والے لباس کے لوگوں کی آبادیوں پر مشتمل تھا۔ یہاں کے اصل پرانے لوگوں کے مقابلے میں تسمے اور تکمے والے لباسوں میں ملبوس لوگوں کو چلنے پھرنے، بھاگنے دوڑنے میں زیادہ آسانی میسر تھی اور حالات کار کا سامنا کرنے کی آسانیاں بھی حاصل تھیں چنانچہ یہ نئے لوگ پرانے لوگوں سے زیادہ کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ تسمہ اور تکمہ کے ساتھ برصغیر ہندوستان پر قبضہ یا غلبہ حاصل کرنے والوں کو پہلے کوٹ پتلون پہننے والوں نے اپنے تسلط میں لیا اور پھر جین جیکٹ والے اپنی جسمانی پھرتیوں کا رعب ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔

بنگلہ دیش میں اگر خواتین ساڑھی سے زیادہ شلوار قمیص میں دکھائی دیتی ہیں تواس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شلوار قمیص میں کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے اورآسانی بھی میسر آتی ہے اور بنگلہ دیش میں گارمنٹس (لباس) کا بیشتر کاروبار اوراس کی صنعت خواتین کی تحویل میں دے دی گئی ہے چنانچہ اس کی وجہ سے وہاں کی خواتین کے لباس کے علاوہ ان کی ’’باڈی لینگویج‘‘ (جسم کی زبان) بھی پہلے سے زیادہ معتبر اور محترم ہو گئی ہے۔ اپنے آپ میں اعتماد اور اعتبار بڑھ گیا ہے۔ کسی بھی خاتون کی خاتون ہونےکی معذرت دکھائی نہیں دیتی اور دکھائی دینی بھی نہیں چاہئے جیسے جین زیب تن کرنے والی خواتین کو معذرت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ معذرت کی ضرورت ان نگاہوں کو ہے جن کو تن پہلے دکھائی دیتے ہیں اور زیبائش کا خیال بعد میں آتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.