.

خاموشی جرم ہے

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر پاکستانی عوام کی جانب سے کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار نہ کرنا (اگرچہ چند ایک حلقوں کی جانب سے ردِعمل کا اظہار کیا گیا لیکن یہ ردِعمل پاکستانی قوم کے شایانِ شان نہ تھا) میرے لئے ناقابل فہم ہے۔

میں گزشتہ بائیس سال سے ترکی میں قیام پذیر ہوں اور اس دوران ترکی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان واقعات پر ترک عوام کے شدید ردِعمل کو اپنی نگاہوں سے دیکھ چکا ہوں۔ ترکی میں ایک دور وہ بھی تھا جب روزانہ ہی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ تقریباً چالیس سال جاری رہنے والی دہشت گردی جس میں چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں آخر کار قابو پا لیا گیا۔ ترکی میں طویل عرصے جاری دہشت گردی کی وجہ سے کئی ایک سیاسی جماعتیں اقتدار سے محروم ہو گئیں اور کئی ایک سیاسی جماعتیں اس پرقابو پانے کی وجہ سےعوام کی آنکھوں کا تارا بن کر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس کی ایک مثال مرحوم وزیراعظم بلنت ایجوت حکومت کی ہے۔ بلنت ایجوت حکومت ایک دور میں جب عوام میں اپنی ساکھ کھونے کے قریب تھی تو اس دوران ترکی کی دہشت گرد تنظم PKK کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کو گرفتار کئے جانے پر مرحوم بلنت ایجوت کو عوام میں زبردست پذیرائی حاصل ہو گئی اور ان کی جماعت اگلے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ برسراقتدار آ گئی۔ اسی طرح جسٹس اینڈڈیولپمنٹ پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد اس جماعت کو بھی ملک میں جاری دہشت گردی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک موقع پر دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے فوجیوں کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی تو عوام اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکےاور انہوں نے نماز ِجنازہ کی ادائیگی کے فوراً بعد اس جنازے میں شریک کئی ایک وزراء اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کا گھیراؤ کرلیا جس پر ان وزراء اور اسپیکر اسمبلی کو مسجد میں پناہ لینا پڑی۔ عوام کے اس شدید ردِعمل نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور حکومت نے اپنی تمام تر توجہ دہشت گردی پرقابو پانے کی جانب مرکوز کردی اور آخر کار دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیابی بھی حاصل کی۔ میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستانی عوام دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے اس ردِعمل کا اظہار کیوں نہیں کر پا رہے ہیں جس کا اظہار وقت کا اور وطن کا تقاضا ہے۔

پاکستانی عوام دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے صرف حکومت، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں پر ہی کیوں نگاہیں لگائے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ان کی اپنی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ خود آگے بڑھیں اور سیاسی رہنماوں کو دہشت گردی کے خلاف ایکشن لینے پر مجبور کریں؟ آج اگر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ عوام کی جانب سے ان واقعات پر خاموشی اختیار کیا جانا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں وہاں کے عوام اپنی اپنی حکومت اور ریاست کا کھل کر ساتھ دیتے ہیں۔ ترکی کے علاوہ اسپین جہاں پر طویل عرصے دہشت گردی جاری رہی اس دہشت گردی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا اور حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن لینے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پالیا گیا۔ اب اسی قسم کا فیصلہ پاکستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے لئے کرنا ہے۔وہ کب تک روز جیتے اور روز مرتے رہیں گے؟ ان کے خوف نے ان دہشت گردوں کے حوصلے بلند کررکھے ہیں اور دہشت گردوں نے اب تک پچاس ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ ان دہشت گردوں نے کسی عبادت گاہ، مسجد ، اسکول اورحتیٰ کہ جنازہ گاہ تک کو نہیں چھوڑا ہے ۔ عوام انہی حملوں کی وجہ سے شدید خوف میں مبتلا ہوچکے ہیں لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ "گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے"۔ اگر انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف اٹھتے ہوئے ریاست کے ہاتھ مضبوط نہ کئے اور حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور نہ کیا تو پھر وہ اپنی اور ملک کی بقا کو خطرے میں ڈالنے کا براہ راست حصہ بن جائیں گے۔

حکومت جو اس وقت دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے( وزیرستان میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے اور جس سے دہشت گردوں کو شدید نقصان بھی پہنچا ہے اور اسی وجہ سے طالبان حکومت سے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور بھی ہوئے ہیں) اس آپریشن کو متعدد سیاستدانوں کے بیانات اور عوام کو خوف میں مبتلا کرنے کی پروا کئے بغیر جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کے عوام کی بھاری اکثریت بھی اس فوجی کارروائی کے حق میں اور اب جبکہ ان کے حوصلے بلند ہیں اور فوج کی پشت پناہی کرنے کے لئے تیار ہیں کو پست قدمی پر مجبور نہ کریں۔طالبان جو پاکستان پر امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کو یا پھر براہ راست امریکہ اور مغربی ممالک کو اپنا نشانہ کیوں نہیں بناتے ہیں؟ کیا ان کا زور صرف نہتے پاکستانی مسلمانوں پر ہی چلتا ہے؟ اگر ان کو امریکہ اور مغربی ممالک سے اتنی نفرت ہے تو وہ خود کیوں امریکی اسلحہ اور مغربی ممالک کے تیار کردہ ٹیلی فون، کمپیوٹر اور دیگر سازو سامان استعمال کرتے ہیں؟ ان کو سب سے پہلے ان ہتھیاروں کو اپنے اوپر استعمال کرتے ہوئے دنیا کو اپنے قول و فعل میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہ ہونے سے آگاہ کر دینا چاہئے۔
آخر میں عمران خان سے ایک سوال۔ کیا آپ کبھی میچ کھیلے بغیر مخالف ٹیم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ تو پھر ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات پر اصرار کیوں؟ اگر آپ نے ان کو ایک دفعہ گھر کےاندر آنے کا موقع دے دیا تو پھر آپ اپنے گھر سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ میرا اگلا سوال ان تمام مذہبی جماعتوں کے رہنماوں سے ہے جو شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کر رہی ہیں اور وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے فوجیوں کی شہادت پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں۔ کیا آپ دنیا میں ایسے کسی اسلامی ملک کا نام بتاسکتے ہیں جہاں پر دہشت گردوں کو شہید کا رتبہ دیا جاتا ہو؟ خانہ کعبہ کے امام تک خودکش حملہ کرنے والوں کو "حرام کی موت مرنے" (کیونکہ اسلام میں خودکشی کرنا یا کسی کو خودکشی پراکسانا حرام ہے) کا فتویٰ دے چکے ہیں تو پھر یہ کیوں دہشت گردوں کو شہید قرار دیتے ہوئے ان کے حوصلے بلند کرتے ہیں؟وزیراعظم نوازشریف سے درخواست ہے کہ وہ بھی ترک وزیراعظم ایردوان کی طرح ملک میں مکمل طور پر دہشت گردی کا صفایا کرتے ہوئے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دہشت گردوں کے خلاف جس طرح اب کھل کر بیان دینا شروع کردیئے ہیں اس سے ان کے قد کاٹھ میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔کاش کہ ان کی پارٹی اپنے دور اقتدار میں ان کی طرح بہادری کا مظاہرہ کرتی۔ایم کیو ایم جو بڑے بڑے جلسے کرنے میں بڑی ایکسپرٹ ہے ایک بار صرف پاکستان کے لئے پورے پاکستان (خیبر سے کراچی تک) میں صرف پاکستانی پرچموں ( کسی بھی پارٹی کو اپنا پرچم اٹھانے یا نمائش کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے) پر مشتمل ملین مارچ کا بندوبست کرے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا سکے اور عوام کے کس قدر بہادر ہونے کا ثبوت فراہم کیا جا سکے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.