.

برما کے واقعات کی تحقیق ضروری ہے

ظہیر اختر بیدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برما (میانمار) میں ایک عرصے سے بدھوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان خونریز فسادات کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس سلسلے کے فسادات کا نیا سلسلہ جنوری کے تیسرے ہفتے میں شروع ہوا ہے۔ برما کی ریاست رخائین میں دونوں گروہوں کے درمیان فسادات میں 30 مسلمان شہید ہونے کی خبریں شایع ہوئی ہیں، ان ہی تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ برما کی ریاست رخائین میں پولیس اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، اس جھڑپ کے بعد بدھ شدت پسندوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کیے، جن میں 30 مسلمانوں کے قتل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم کے مطابق پچھلے دو سال میں بدھ انتہا پسندوں نے 25 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا، بے شمار خواتین کی عصمت برباد کی اور عبادت گاہوں کو نذرآتش کیا۔ رپورٹ کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ مسلمان برما سے، بنگلہ دیش، بھارت، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا ہجرت کر چکے ہیں۔ اس خبر میں یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ مذکورہ بالا ملکوں نے ان روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ہمارے قدامت پسند اکابرین کو یہ شکایت رہی ہے کہ روشن خیال لکھاری پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہونیوالے مظالم پر تو قلم اٹھاتے ہیں لیکن برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم انھیں نظر نہیں آتے۔ اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری دائیں بازوں کی قیادت کو جن لکھاریوں سے شکایت ہے ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بلا امتیاز مذہب و ملت ہر اس مظلوم کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں جو زیادتیوں کا شکار ہوتا ہے، وہ مظلوم کو صرف اس کے عقائد کے حوالے سے ہی نہیں دیکھتے بلکہ اسے اشرف المخلوقات یعنی انسان ہونے کے حوالے سے بھی دیکھتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی مظلوم کو اگر محض اس کے عقائد کے حوالے سے دیکھ کر اس کی حمایت یا مخالفت کی جائے تو اس سے دانستہ یا نادانستہ طور پر نفرتوں اور تعصبات میں اضافہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے اور روشن خیال لکھاری اپنی فطرت میں نفرتوں، تعصبات کا دشمن محبت اور بھائی چارے کا دوست اور پرچارک ہوتا ہے، یہی اس کی پہچان اور خصوصیت ہے۔ برما میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات اگرچہ لگاتار ہو رہے ہیں لیکن اس حوالے سے اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا انکشاف جس امریکی تنظیم نے کیا ہے ہو سکتا ہے وہ اپنی رپورٹ میں حق بجانب ہو لیکن اسے ایک وسیع تر تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ امریکی سامراج کے معروف خفیہ ادارے جب بھی ضرورت سمجھتے ہیں تشدد پسندوں کی خدمات اپنے مکروہ مقاصد کے لیے حاصل کر لیتے ہیں اور ان خدمات کے حصول کے لیے ڈالروں کو پانی کی طرح بہاتے ہیں۔ عراق میں جب تک صدام حسین کی حکومت قائم تھی عراق فرقہ وارانہ قتل و غارت گری سے محفوظ تھا، جب امریکا نے عراق پر قبضہ کیا تو عراق فرقہ وارانہ قتل و غارت کا مرکز بن گیا۔ آج پورا عراق قتل و غارت میں گردن تک دھنسا ہوا ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت امریکا اور اس کے حواریوں کو پسند نہ تھی کیونکہ شام ایران کا ایک قریبی اور قابل اعتماد دوست تھا، اس لیے شام میں جھگڑوں کو ہوا دی گئی۔ اب جب امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں تو شام میں بھی حالات کچھ بہتر ہو رہے ہیں۔

ان حقائق کے پس منظر میں برما میں ہونے والے فسادات کا تحقیقی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر بدھ جیسی امن پسند قوم تشدد پر کیوں اتر آئی ہے؟ بدھا کی تعلیمات امن اور بھائی چارے پر مشتمل ہیں، بدھ بھکشو گھر گھر امن و آشتی کا پیغام پھیلانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، گھر گھر بھیک مانگ کر گزارہ کرنے والی یہ قوم آخر اس قدر متشدد کیوں ہو گئی ہے؟ایسا لگتا ہے کہ یہاں بھی امریکا کا کار فرما ہے اور اس نے بودھوں میں اپنے ایجنٹ شامل کر دیے ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ برما کے بعض علاقے سخت تشدد کی زد میں ہیں اور تشدد کے یہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف خونریز لڑائیاں بھی لڑتے ہیں اور روایت کے مطابق کمزور فریق کو زیادہ نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، لیکن اس حوالے سے اصل بات یہ ہے کہ اس تشدد کے محرکات کیا ہیں؟ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم محض اس خوف سے کہ کسی فریق کی حمایت سے تشدد کی آگ اور بھڑکے گی سچ اور مظلوم کی حمایت سے دست کش ہو جائیں۔

بات صرف نیت کی ہے، اگر ہم ان متحارب فریقین میں اعتماد کی بحالی، نفرتوں کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمارا رویہ غیر جانبدارانہ اور آگ بجھانے والا ہونا چاہیے۔ اس کے برخلاف اگر ہم آنکھ بند کر کے ظالموں کے خلاف لڑائی کی تلقین کرتے ہیں تو پھر خون خرابے میں اضافہ تو ہو سکتا ہے کمی نہیں ہو سکتی۔ رجعت پسندی اور ترقی پسندی میں یہی بنیادی فرق ہے کہ رجعت پسندی دانستہ یا نادانستہ آگ بھڑکانے کا سبب بنتی ہے اور ترقی پسندی آگ بجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ہندوستان میں مسلمان ایک بڑی اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہندوستان میں بدھ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اگر برما کے واقعات کو نمک مرچ لگا کر ہندوستان میں پھیلایا جاتا ہے تو کیا اس امکان کو جھٹلایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں بھی مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان محاذ آرائی کا سلسلہ شروع ہو جائے؟ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو جو کچھ برما میں ہو رہا ہے ہندوستان میں اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا؟

یہ ایسی نازک اور حساس باتیں ہیں جن پر غور کرنے کی عموماً ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی لیکن یہ چنگاریاں عموماً شعلوں میں بدل جاتی ہیں اور ہم صرف ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔امریکا میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی جس تنظیم نے فسادات کے حوالے سے جو اعداد و شمار میڈیا کو فراہم کیے ہیں کیا یہ اعداد و شمار نہ صرف علاقائی مسلمانوں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پھیلانے کا سبب نہیں بن سکتے۔ حقائق کو نہ جھٹلایا جا سکتا ہے نہ انھیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن بعض حقائق اس قدر نازک اور حساس ہوتے ہیں کہ انھیں طشت ازبام کرنے کا مطلب آگ کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش وغیرہ مسلم ملک ہیں۔ اسی انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ان مسلم ملکوں نے روہنگیا برمی مسلمانوں کو پناہ دینے سے انکار کیا ہے۔ ظاہر ہے اس خبر کو پڑھنے کے بعد افسوس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان مسلم ملکوں نے ان مظلوم مسلمانوں کو پناہ دینے سے کیوں انکار کیا ہے؟ سوال یہ نہیں ہے کہ مظلوم کی حمایت صرف اس لیے ترک کی جائے کہ اس سے فساد خلق کا اندیشہ ہے بلکہ سوال حقیقت حال کے پوری طرح ادراک کا ہے کہ آخر بدھوں اور مسلمانوں میں اس خونریزی کا اصل سبب کیا ہے؟ او آئی سی اور اقوام متحدہ کو ایک مشترکہ وفد برما بھیج کر حقیقت حال کی پوری تخلیق کرانا چاہیے اور اگر ان واقعات میں صرف بدھ قصور وار ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ یہی ایک بہتر اور مثبت راستہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.