.

بیس کروڑ پاکستانیوں کے لیے ’سزائے موت‘

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش نے جو بیس کروڑ پاکستانیوں کے لیے اب تک مشرقی پاکستان ہے اس کی حکومت نے اپنے ہاں مقیم کچھ لوگوں کے لیے سزائے موت کا فیصلہ دیا ہے۔ اس سے قبل وہ عبدالقادر ملا کو یہ سزا دے بھی چکے ہیں‘ جرم تھا اور ہے متحدہ پاکستان کی حمایت۔ پاکستانیوں کو یہ سزائیں چونکہ بھارت کے حکم پر دی جا رہی ہیں اس لیے ان پر عمل بھی فوراً کیا جاتا ہے اور واپسی رپورٹ بھیج دی جاتی ہے کہ حکم حاکم کی تعمیل کر دی گئی ہے۔ اطلاعاً عرض ہے‘ بھارت کو جس قدر پاکستان کِھلتا ہے اور اس کے سینے کا کانٹا بنا ہوا ہے۔ اسی طرح ہر پاکستانی اور پاکستان کا نام لینے والا کہیں بھی ہو وہ گردن زدنی ہے محاورتاً نہیں حقیقتاً۔ بنگلہ دیش کی حد تک بھارت کامیاب ہے کیونکہ یہ ملک بھارت کی قطعاً ناجائز فوجی مداخلت سے قائم ہوا ہے۔ درست کہ اس کا میدان ہم پاکستانیوں نے خود تیار کیا تھا اور اس کے عوض ایک ملک اور وزارت عظمیٰ حاصل کی تھی لیکن اس میدان کو فتح بھارتی فوجوں نے کیا اور شکست کے اوزار بھارتی جرنیلوں نے وصول کیے۔

ایک بے حمیت پاکستانی جرنیل سے اور بے ضمیر پاکستانی حکمرانوں کی ٹولی اور اس کے ساتھی اور کارندے پاکستانی سیاستدانوں سے۔
دنیا نے ہماری اس قومی بے حسی کو تسلیم کیا اور پاکستان کا یہ مشرقی حصہ آج دنیا کا ایک آزاد ملک تسلیم کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی قوم خود ہی بے حس ہوجائے اور قومی حمیت ترک کر دے تو دنیا کو کیا پڑی کہ اس کو غیرت مند بناتی پھرے اور اسے غیرت مند تسلیم کرے۔ خصوصاً پاکستان کی وراثت کی دعوے دار حکومت جب یہ کہے کہ یہ ’بنگلہ دیش‘ کا اندرونی معاملہ ہے تو اس پر صف ماتم ہی بچھائی جا سکتی ہے۔ ہماری اس تاریخی بے حسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمیں مسلسل ایسے حکمران ملے ہیں جن کی حکومت میں ان کے ملک پر کھلم کھلا فضائی حملے ہوتے ہیں۔ پاکستانی مرتے ہیں اور ہم احتجاج بھی نہیں کرتے کیونکہ جس ملک کو ہم اپنے ہموطنوں سمیت فروخت کر چکے ہوں اس ملک سے ہم کس منہ سے احتجاج کر سکتے ہیں۔ ہماری اسی بے حسی زندگی کا ہی یہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ جس کا جی چاہتا ہے وہ ہمارے گھروں میں گھس آتا ہے اور ہم اس کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کرتے ہیں۔

دروازے کھولنے کا اعلان کرتے ہیں اور راستوں پر جھاڑو دے کر اپنے مہمان کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔ یاد ہے کہ بچپن میں ہمارے اسکول کے معائنے کے لیے انسپکٹر صاحب نے آنا تھا تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے ہمارے اسکول کے برآمدے کی پیشانی پر ایک فارسی شعر لکھا جس کا مطلب تھا کہ آپ کی آمد ہماری آبادی کا سبب ہے۔ اے آمدنت باعث آبادیٔ ما۔ بھارت کو ہم عام پاکستانیوں کی دلجوئی سے کیا مطلب وہ تو ہماری دل جلانے والی باتیں ہی کرے گا اور ہم تمام پاکستانیوں کو گردن زدنی قرار دے گا۔ جب سے بنگلہ دیش نے بھی کبھی پاکستان کا نام لینے والوں اور اسے متحد رکھنے کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو سزائے موت سے کم کسی سزا کا مستحق نہ سمجھا ہو تو ہم اس کی ان کارروائیوں پر کیا احتجاج کر سکتے ہیں جن کے پس منظر میں ہمارے پاکستان کو متحد رکھنے والا جرم کارفرما ہو۔

اپنے وطن عزیز کی خود اپنی ذات کے بارے میں اس کی بے بسی کو دیکھ کر مجھے بھارت کے ان چھوٹے پڑوسیوں کی بات یاد آتی ہے کہ جب کسی دورے میں ہم سری لنکا نیپال وغیرہ جاتے اور وہاں کے شہریوں سے گپ شپ ہوتی تو وہ باتوں باتوں میں ایک بات بلا تکلف کہہ دیتے کہ ہم اپنے تحفظ کے لیے پاکستان سے امید رکھتے ہیں کیونکہ وہ بھارت کا دوست نہیں ہے اور اس سے ٹکرانے کی ہمت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے جب بھارت ہمارے خلاف کوئی کارروائی کرے گا تو پاکستان ہماری مدد کرے گا۔ تب ان دنوں ہم پاکستانی یہ سن کر بہت خوش ہوتے اور اس خطے میں اپنے آپ کو ایک طاقت سمجھتے۔ ایک موقع آیا کہ ہم نے بھارت کی تخریب کاری کے خلاف سری لنکا کی مدد کی۔ وہاں تامل باغیوں نے تباہی مچا رکھی تھی لیکن بودھ مت کے پیرو کار سری لنکا والوں کے پاس ایک برائے نام سی فوج تھی۔

انھی دنوں صدر ضیاء الحق کے ہمراہ وہاں جانے کا اتفاق ہوا اور صدر صاحب نے ہمیں بتایا کہ میں نے سری لنکا والوں کی فوج کو اسلحہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی فوجی تربیت کا بندوبست بھی کیا ہے۔ بڑی مشکل سے انھیں فوج کے قیام پر آمادہ کیا ہے چنانچہ پاکستان کے تعاون سے سری لنکا کو ان بھارتی تامل باغیوں سے نجات مل گئی۔ برصغیر کے اس خوبصورت جزیرے والوں کو پاکستان کی مہربانی یاد ہے۔ مشرقی پاکستان میں جنگ کے دوران جب بھارت کے اوپر سے ہمارے جہاز پرواز نہیں کرسکتے تھے تو وہ ایک لمبا چکر لگا کر سری لنکا کے راستے سے جایا کرتے تھے۔ سری لنکا نے بھارت کی پروا نہیں کی تھی کیونکہ پاکستان اس کے ساتھ تھا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ برصغیر کے ان چھوٹے بھارتی پڑوسیوں کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا تو وہ ایسی کوئی بات اب نہیں کریں گے کیونکہ جو ملک اپنی حفاظت نہیں کر سکتا اور بھارت کی خوشنودی میں لگا ہوا ہے وہ بھارت کے کسی ستم رسیدہ چھوٹے ملک کی کیا مدد کرے گا۔

میں نے طالبان سے مذاکرات کے لیے راستہ کھلا چھوڑ کر اپنی چار رکنی کمیٹی کے لیے آسانیاں پیدا کرنی شروع کر دی ہیں اور اب یہ موضوع فی الحال ترک کر دیا ہے لیکن ایک میں کس باغ کی مولی ہوں یہ کام تو ہمارے اونچے درجے کے کالم نویسوں کی مدد سے ہی ہو سکتا ہے کہ وہ طالبان پر ذرا ہاتھ ہولا رکھیں اور کوشش کریں کہ ہماری یہ کمیٹی اگر بذات خود بھی وہاں جائے تو خیریت سے واپس آ جائے۔ طالبان نے ایک جواب تو اب دیا ہے کہ مذاکرات کریں یا جنگ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کر دیں لیکن مذاکرات اگر ہوتے ہیں تو خدا کرے ان میں سے امن کا کوئی راستہ نکل آئے بہر کیف اب یہ موضوع میری قلم فرسانی سے خارج ہے ایسے جب میں نے دوسرے موضوعات پر سوچا تو اندازہ ہوا کہ اصل موضوعات تو ہمارے اندرونی ہیں۔ بے روز گاری بد امنی اور گرانی وغیرہ اصل موضوعات ہیں کہ ان کے نتائج ہم عوام بھگت رہے ہیں۔ اب یہ باتیں ہوتی ہی رہیں گی فی الحال مذاکراتی کمیٹی کے حق میں دعائے خیر۔ اور ہاں ایک بات پس تحریر کہ ایک بچی کے بارے میں علاج کے لیے مالی امداد کی اپیل کی تھی ۔مشرق وسطیٰ سے تین چار پاکستانیوں نے تمام اخراجات اٹھانے کی پیش کی ہے اور جزوی طور پر تو لاتعداد لوگوں نے امداد کی خواہش کی ہے لیکن فون نہیں مل رہے جو نمبر دیے ہیں وہ شاید ناکافی ہیں۔ آیندہ بھی فون نمبر ایسے دیا کریں جو جواب دیا کریں۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.