.

طالبان کے ساتھ امن کی شرائط

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنکوں سے لوہا اور گوبھی سے پروٹین حاصل نہیں کیے جاسکتے ، اور پھر ڈھائی سو سال پہلے پنجابی کے لازوال شاعر وارث شاہ نے بھی کہا تھا...’’مکھن پانیوں کسے نہ رولیا ای‘‘(پانی سے مکھن نہیں نکالا جاسکتا)، چنانچہ ہم بھی حقیقت پسندی کا دامن تھامتے ہوئے اُس صلح نامے کے مندرجات کو تسلیم کرنے کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کر لیں جو ہماری قیادت کو مشکل فیصلے کرنے کی زحمت سے بچا لیںگے اور ان کے دم قدم سے شاید طالبان بھی پاکستانیوں کی گردن زنی کے شغل سے دست کش ہو جائیں۔

اس صلح نامے کے علامتی اظہار کے لئے ضروری ہے کہ اب تک ریاست پاکستان نے طالبان کے خلاف دیدہ و دانستہ کبھی جو بھی کارروائی کی تھی، اس پر ندامت محسوس کرتے ہوئے طالبان کے سامنے نہایت صدق ِ دل سے غیر مشروط معافی کے لئے درخواست گزار ہوا جائے۔ تاہم پختون یا افغان کلچر میں صرف خیالی پلائو پکانے یا زبانی کلامی دعوتیں اُڑانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے، اس لئے معافی نامے کو قابل ِ قبول بنانے کے لئے خاطر خواہ زر ِ تلافی بھی پیش ِ خدمت کیا جائے ۔ اگرحکومت نہایت سرعت سے خالی خزانے کو جھاڑ پونچھ کربجلی بنانے والے، جو نجی شعبے میں بجلی پیداکرتے ہیں اور ان کے ہماری معیشت پر منفی اثرات شاید طالبان کی کارروائیوں سے بھی زیادہ شدید ہیں، کے لئے پانچ بلین ڈالر کا انتظام کرسکتی ہے تو طالبان کم از کم دس بلین ڈالر سے کم کیا قبول کریںگے؟ہو سکتا ہے کہ وہ رقم اور بادل ِ ناخواستہ معافی نامے کو قبول کرنے کو اپنا احسان ِ عظیم قرار دیں۔ اگریہ معاہدہ ہی طے کرنا مقصود ٹھہرا تو پھر کوئی مشکل باقی نہیں رہے گی، کیونکہ جس جہاز نے تیرنا ہی نہیں، اس کی غرقابی کا ڈر کیسا!

معاہدہ طے پانے کے بعد میری رائے میںملک میں نمایاں ہونے والی تبدیلیوں کی ایک جھلک کچھ اس طرح ہوسکتی ہے :ریس کورس گرائونڈ راولپنڈی کا نام تبدیل کرکے ’’حکیم اﷲ محسود شہید میموریل پارک‘‘، ایوب پارک کانام ’’بیت اﷲ محسود شہید نیشنل پارک‘‘ رکھ دیا جائے۔ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا نام’’نیک محمد شہید انٹر نیشنل ائیرپورٹ ‘‘ مناسب رہے گا۔ دیگر ممالک میں وطن پر جان نثار کرنے والے بہادر سپاہیوں کی یادگاریں پارکوں اور دیگر کھلی جگہوں پر قائم کی جاتی ہیں لیکن پاکستان شاید اس ضمن میں اپنی مثال آپ ہے کہ یہاں طالبان کے خلاف کارروائی میں شہید ہونے والے فوجیوں کی یادگاروں کو جی ایچ کیو کی محفوظ چار دیواری کے اندر بنایا جاتا ہے۔ تاہم طالبان کو تو کوئی خوف نہیں ہو گا کہ ان کے ’’شہدا‘‘ کی یادگاروں پر کوئی خود کش حملہ کرے گا، اس لئے وہ خم ٹھونک کرجی ایچ کیو کے سامنے میدان میں ’’فلیش مین ہوٹل ‘‘ کے قریب اپنی یادگاریں بنائیں گے۔ ہونے والے معاہدے کی روشنی ( یا اندھیرے؟) میں جغرافیائی خطوط میں بھی کچھ تبدیلی کرنا پڑے گی۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈلائن ویسے بھی خط ِ مردہ ہے اور اگر نہیں ، تو بھی طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس کے بعد دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ ، جیسا کہ افغانستان کا مطالبہ رہا ہے، ایک نئی سرحد تشکیل دینا ہوگی۔

اس نئی سرحد کے تین فوائد ہوں گے...طالبان کو قدم جمانے کے لئے خاطر خواہ جگہ مل جائے گی، افغانستان خوش ہو جائے گا کیونکہ اب تک کسی افغان حکومت نے انگریز دور میں کیھنچی گئی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کیا اور سب سے اہم بات یہ کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کوغیر ضروری بوجھ سے نجات مل جائے گی ، چنانچہ وہ نہایت دل جمعی سے اپنی پوری توانائیاں پنجاب، بلکہ لاہور، کی ترقی پر مرکوز کرسکیں گے۔ 1971 میں مشرقی ِ پاکستان میں بحران کے گہرے ہوتے ہوئے سایوں میں پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے ایک ذہین فطین حصے کے دل میں سوچ پیدا ہونا شروع ہوگئی تھی کہ بنگالی مسئلے کے بھاری پتھر کو ہمیشہ کے لئے سر سے اتار پھینک دیا جائے تو بہتر ہوگا۔ کون جانتا ہے، ہوسکتا ہے کہ آج کے ذہین دماغ بھی انہی خطوط پر سوچ رہے ہوںکہ ہم کب تک پختون یا افغان مسائل کو اپنی گردن پر سوار رکھیںگے ؟تاہم موجودہ صورت ِ حال، جو پیدا ہونے جا رہی ہے، کی اُن حالات سے کوئی مناسبت نہیں کیونکہ جب مشرقی ِ پاکستان بنگلہ دیش بنا تو تمام بنگالی آبادی اُس نئی ریاست کا حصہ تھی اور ایسا نہیں تھا کہ مغربی پاکستان میں موجود بنگالی آبادی کو ہجرت کرنا پڑے، لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ اگر اس بدترین خدشے کی تصدیق ہو بھی جائے اور خدا نخواستہ دریائے سندھ پر لائن کھینچ لی جائے تو بھی پنجاب میں موجود افغان آبادی کا کیا کیا جائے گا؟ کیا کسی کو علم ہے کہ یہاں آباد ہونے والے افغان تین، چار،پانچ یا کتنے ملین ہیں ؟چونکہ اُس وقت طالبان کے تمام احکامات کو تسلیم کرنا پڑے گا، اس لئے ہمیں اس آبادی کو ’’سرحد‘‘ کے آرپار آزادانہ’’ نقل و حمل ‘‘کی اجازت دینا پڑے گی۔

چونکہ طالبان کاغذی پر یقین نہیں رکھتے، اس لئے اگر پاکستان کے شہری دریائے سندھ پار کر کے فرض کریں چارسدہ سے چپل، مردان سے گڑ اور کہیں سے بھی نسوار خریدنا چاہیں گے تو اُنہیں کسی ویزے(جو سراسر بدعت کے زمرے میں آتا ہے)کی ضرورت نہیں ہو گی۔ہاں، اُنہیں نقد ادائیگی کے لئے کہا جائے گا کیونکہ طالبان مفتی ’’مفتا ‘‘ لگانے کی اجازت نہیں دیںگے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں، جیسا کہ پنجاب کے بعض حصوں میں پرانے زمانے میں زمیندار کہا کرتے تھے کہ...’’ دل جیتنے کے لئے زمین ہارنا پڑتی ہے‘‘...، کہ ہمیں فاٹا سے تمام فوجی دستے فی الفور نکالنا ہوںگے کیونکہ اس کے بغیر تو کسی معاہدے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جیسے ہی تمام قبائلی علاقوں سے فوجی دستے واپس آئیں گے، تمام فاٹا خودبخود طالبان کی اسلامی امارت میں شامل ہو جائے گا۔

حالات مزید یہی رہے تو ان لازمی جغرافیائی تبدیلیوں کے علاوہ کچھ انتظامی پیش رفت بھی دیکھنے میں آئے گی۔ اس کے لئے ’’نیپال ماڈل ‘‘ سامنے رکھا جائے گا۔ نیپال میں کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے شورش پسندوں کو نیپال کی باقاعدہ فوج میں شامل کر لیا گیا۔ یہاں بھی ایسا ہی کیا جاسکتا ہے۔ طالبان پاک فوج میں تو شامل ہونا پسند نہیں کریں گے لیکن چونکہ وہ تمام کے تمام جنگجو ہیں ، اس لئے اُنہیں دفاعی بجٹ سے ان کی من پسند تنخواہیں دینا پڑیں گی تاکہ ان کا مزاج برہم نہ ہونے پائے۔ اس کے علاوہ پشاور میں موجود فضائیہ بھی بے کار ہوجائے گی کیونکہ اس پار ہمار ا کون دشمن ہو گا جس سے ہمیں اپنی مغربی فضائی حدود کی حفاظت کرنی ہے؟ظاہر ہے کہ ہم نے طالبان، افغانستان یا روس سے تو جنگ نہیں کرنی، تو پھر لڑاکا طیارے اس شہر میں کیوں رکھے جائیں؟ ہاں یہ ہوسکتاہے کہ ہم گزرے وقتوں کی نشانی کے طور پر پشاور میں کچھ فضائیہ کی علامتی موجودگی رکھنا چاہیں لیکن اس کے لئے ہماری مذاکراتی ٹیم کو طالبان کو کسی نہ کسی فارمولے پر راضی کرنا پڑے گا۔ اگر بدقسمتی نے ہمیں گھیر لیا نوشہرہ میں موجود بکتر بند فوجی دستے اور توپ خانہ بڑی آسانی سے دریائے سندھ کے اس پار منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح چراٹ میں ایس ایس جی کمانڈوز کے کیمپ کی بھی اجازت نہیں ہوگی، لیکن اس کے لئے ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آزاد کشمیر میں ان گنت ’’تربیتی کیمپ ‘‘ موجود ہیں اور وہ کمانڈوز کی تربیت کے لئے نہایت موزوں ہیں۔ ایک حوالے سے یہ انتظام درست رہے گا کیونکہ ہماری اسپیشل سروسز اگر عملی نہیں تو بھی روحانی طور پر کشمیر کی آزادی سے قربت محسوس کریںگی۔ اگر بدقسمتی سے ایسا ہوا تو اُس نئی پیش رفت میں ہمارے لئے اچھی چیز یہ ہوگی کہ ہماری ایٹمی صلاحیت، جو ہماری قومی خودمختاری کی حتمی ضامن ہے، بھی اپنی جگہ پر ہی موجود رہے گی۔

اسی طرح ایٹمی لیبارٹریاں اور میزائل بھی پنجاب کی حدود میں ہی رہیںگے۔ چاغی میں تو صرف دھماکے ہی کیے گئے تھے، اصل ’’مال ‘‘ شمالی پنجاب میں انتہائی محفوظ مقامات پر ہے۔ اگر معاملات ایسے ہی چلتے رہے تو ان اقدامات سے مطمئن ہوکر طالبان کچھ مزید امور کو بھی اپنے ہاتھ میں لینا پسند فرمائیںگے۔ ان میں سے سب سے پہلے وہ بلوچستان کی ہزارہ برادری، جس کے عقائد سے وہ ناخوش رہتے ہیں، کو سبق سکھانے کے لئے فری ہینڈ لیںگے۔ اس کے بعد کراچی کے تجربے نے اُنہیں سکھایا ہے کہ وہ ’’ٹیکس اکٹھا ‘‘ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اسی طرح ملک بھر میں جرگہ طرزکی عدلیہ بھی قائم کی جائے گی اور جنوبی پنجاب میں واقع کالعدم تنظیموں کے مدرسوں کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا جائے گا۔

اس دوران اگر کبھی ہمارے دل میں قومی وقار کا خیال جاگے اور ہمیں احساس ہو کہ ہمیں کہیں نہ کہیں تو سرخ لکیر کھینچنی ہے تو ہمیں ایک اور چار رکنی ٹیم بھیج کر طالبان کو بتانا پڑے گا کہ وہ اپنی سرگرمیاں دریائے سندھ کے پار تک ہی محدود رکھیں اوریہ کہ اُنہیں پاکستان کی خود مختاری پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پہلا نیا پاکستان بنگلہ دیش کی تخلیق سے وجود میں آیا تھا، خدانخواستہ دوسرا پاکستان شمالی اور جنوبی حصوں میں اسلامی امارت کے قیام سے وجود میں آئے گا۔ اگر حکومت کو مذاکرات میں شکست ہوتی ہے تو صوبے کا موجودہ نام خیبر پختونخوا اس کا نام ’’طالبان پختونخوا ‘‘رکھ لیا جائے گا۔ ان اقدامات کے بعد ایک پرامن پاکستان وجود میں آئے گا۔ ایک طرف طالبان کی اسلامی امارت ہو گی اور دوسری طرف بھارت۔ طالبان سے جان کی امان پانے کے بعد پنجاب کے حکمرانوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں بجلیاں بھر جائیںگی۔ وہ ترقی کے نت نئے باب’’ رقم‘‘کریں گے، تاہم ایسا کرتے ہوئے وہ اس بات کو یقینی بنائیںگے کہ ترقی کی راہ میں ہاتھ پر لگنے والا میل (یعنی دولت) بیرون ملک بنکوں میں ہی جمع کی جائے کیونکہ پاکستان پاک ملک ہے، اسے ایسی آلائشوں سے بچانا ضروری ہے۔ نئے پنجاب کا طرّہ ِ امتیاز درانتی یاچانداور ستارہ نہیں، بلکہ انڈر پاس یا اوورہیڈ برج ہوں گے۔ چار دانا افراد کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی ہے۔ خدا کرے کہ وہ مذکورہ بالا اقدامات کو جلد از جلد کامیاب بنا کر سرخ رو ہوں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.