.

دنیا ہماری دشمن نہیں!

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے اردگرد غربت، بیروزگاری، مہنگائی ہے، بحرانوں میں گھری ہوئی معیشت اور دہشتگردی کا امڈتا ہوا طوفان ہے، سیاسی محاذآرائی اور دوسرے ملکوں سے کشیدہ تعلقات ہیں۔ ان عفریتوں کا سامنا کرنا اور حکومت میں رہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ حکومت کسی کی بھی ہو، تنقید کا ہدف بننا اس کا مقدر ہے۔ ایسی ہی صورتحال ان دنوں نواز شریف حکومت کو در پیش ہے ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبارات، کالم، خبریں، تجزیے اور مباحثے، سب کا ہدف ہیں۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ 12 مئی 2013ء تک پاکستان میں خوشحالی تھی، نوکریاں اور ملازمتیں بے روزگاروں کا تعاقب کیا کرتی تھیں، مہنگائی نام کی کوئی چیز نہیں تھی، معیشت میں ایسی اٹھان تھی کہ امریکا اور چین ہم سے حسد کیا کرتے تھے، ملک کے ہر کونے میں چین اور سکون کی بانسریاں بجائی جا رہی تھیں، قومی مفاد کے لیے تمام سیاسی جماعتیں شیر و شکر تھیں۔ گویا ساری قیامت 12 مئی 2013ء کے بعد برپا ہوئی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم ساری ذمے داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی بجائے یہ سوچیں کہ کہیں یہ حالات ہمارے غلط مفروضوں اور واہموں کا نتیجہ تو نہیں ہیں۔ ان دنوں پاکستان اپنی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہماری 66 سال کی تاریخ میں کامیابیوں اور کامرانیوں کے واقعات محض چند ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہماری تاریخ ناکامیوں سے عبارت ہے۔ یہ بات سمجھ لینی ہو گی کہ جب تک ہم غلط مفروضوں کی بنیاد پر دنیا کو دیکھنے کا عمل ترک نہیں کریں گے اس وقت تک ہماری ناکامیوں کا یہ سلسلہ نہیں تھمے گا۔

پاکستان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمان، ہندو اکثریت کے ساتھ رہنے کے بجائے ایک الگ وطن میں رہنا چاہتے ہیں۔ اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے ہندوستان کے مسلمان کے اکثریتی صوبوں پر مشتمل ایک الگ ملک تخلیق کیا گیا۔ دانش کا تقاضا تھا کہ ماضی کو بھلا کر ایک نئے سفر کا آغاز کیا جاتا لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔ پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا اور دونوں کے درمیان مذہب کے سوا ہر چیز مختلف بلکہ متضاد تھی۔ مشرقی پاکستان میں آباد بنگالی بولنے والے پاکستانی، ملکی آبادی کے اعتبار سے اکثریت میں تھے، یہاں نہ جاگیردار اور بڑے صنعت کار تھے اور نہ سول اور فوجی اشرافیہ میں ان کی کوئی خاص نمائندگی تھی۔ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کا طرز زندگی سادہ اور غریبانہ تھا۔ 18 ویں صدی سے سامراجی طاقتوں کے خلاف ایک طویل مزاحمتی عمل نے ان کے اندر غیر معمولی سیاسی شعور پیدا کیا تھا جس کی وجہ سے یہ کہاوت عام تھی کہ ہندوستان جو آج دیکھتا ہے بنگال اُسے 100 سال پہلے دیکھ چکا ہوتا ہے۔ اب آئیے ملک کے مغربی حصے کی جانب جو آج کا پاکستان اور اس زمانے کا مغربی پاکستان تھا۔ یہاں جاگیرداروں، نوابوں، سرداروں کی عمل داری تھی اور مسلم لیگ پر بھی ان ہی کا قبضہ تھا۔ سول انتظامیہ اور فوج کی شکل میں دو انتہائی منظم اور طاقتور ادارے پاکستان کو برطانیہ سے وراثت میں ملے۔ تقسیم کے بعد نو آزاد ملک میں طاقت کا جو خلا پیدا ہوا اُسے فطری طور پر مغربی پاکستان کے ان طاقت ور طبقات اور اداروں نے پُر کیا۔ یوں پاکستان کے دونوں حصوں کے درمیان ابتدائی دنوں سے ہی تصادم اور محاذآرائی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ جمہوریت مشرقی پاکستان کے عوام کی ضرورت تھی اور جمہوریت کی نفی مغربی پاکستان کے بالادست طبقوں اور اداروں کی بقا اور اقتدار کے لیے لازمی تھی۔ جمہوریت کا راستہ روکنے اور اقتدار پر اپنے قبضے کا جواز پیدا کرنے کے لیے، عوام کے ذہنوں میں بعض مفروضوں اور واہموں کو راسخ کرنا ضروری تھا۔ ابتداء اس مفروضے سے ہوئی کہ ہم نے چونکہ ہندوستان سے الگ ہو کر اپنا نیا وطن بنایا ہے اس لیے وہ ہمارے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا اور ہمیشہ ہم کو ختم کر نے کے درپے رہے گا۔ اسی طرح سول اور فوجی بیورو کریسی، جاگیردار سیاستدانوں اور مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کر نے والی جماعتوں اور ان کے حامی دانشوروں نے پاکستان کی قومی سلامتی کا ٹھیکہ لے لیا۔ پاکستان کو ایک فلاحی جمہوری ریاست بنانے اور ایک وفاقی نظام کے ذریعے قومیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کی جدوجہد کرنے والوں کو ملکی سلامتی کا دشمن، وطن کا غدار، ہندوستان اور اشتراکی ملکوں کا ایجنٹ قرار دیا جانے لگا۔ نصابی کتابوں اور ریاستی پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوں میں یہ خوف جا گزیں کر دیا گیا کہ ہم ہر لمحہ خطرے میں ہیں۔ ذہنی اور سیاسی طور پر حالت جنگ میں رہنے کے نتائج چھوٹی اور بڑی لڑائیوں کی صورت میں سامنے آئے جس میں ہم نے ہر جنگ ہاری یہاں تک کہ آدھا ملک بھی گنوا دیا۔

1970ء کے بعد دنیا میں امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ تیز ہونے لگی۔ پاکستان امریکا کے زیر اثر تھا جس نے اسے جنگ کا ایندھن بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تک مشرقی حصہ الگ ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا اور موجودہ پاکستان پر فوجی اشرافیہ، مذہبی شدت پسند، جمہوریت دشمن، سوویت مخالف اور امریکا حامی سیاسی قوتیں بہت مضبوط تھیں۔ سوویت بلاک کے خلاف جنگ میں امریکا کو ایسے ہی عناصر درکار تھے۔ اب اس مفروضے پر زیادہ زور دیا جانے لگا کہ سوویت نظام دراصل مذہب کے خلاف ہے، امریکا اور یورپ کے لوگ اہل کتاب ہیں اور ایک خدا کو مانتے ہیں۔ لہٰذا الحادی قوتوں کے خلاف جنگ میں ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد امریکا نے فوجی آمروں اور مذہبی شدت پسندوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور انہیں افغان جنگ میں پوری طرح استعمال کیا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے عوام کے اندر دوسرا یہ خوف راسخ کر دیا گیا کہ پڑوسی ملک تو ہماری سلامتی کا دشمن تھا ہی اب پورا اشتراکی بلاک بھی پاکستان کا مخالف ہو چکا ہے۔

سوویت انہدام کے بعد، امریکا اشتراکیت کے خوف سے آزاد ہوا۔ اس نے نئی حکمت عملی اختیار کی اور اپنے حامی فوجی آمروں اور مذہبی انتہا پسندوں سے منہ موڑ کر انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ سرد جنگ کے بعد دنیا میں نظریات کی جنگ بھی دم توڑنے لگی۔ انتہا پسند مذہبی نظریاتی جماعتوں اور شدت پسند گروہوں کے لیے راتوں رات تبدیل ہونا ممکن نہیں تھا، وہ امریکی سرپرستی سے بھی محروم ہو چکی تھیں اور غیر جمہوری قوتیں بھی امریکا اور مغرب کے لیے ناگزیر نہیں رہ گئی تھیں۔ لہٰذا اب عوام کے ذہنوں کو ایک تیسرے دشمن یعنی امریکا اور مغرب کے خوف میں مبتلا کرنے کا عمل شروع ہوا جو ان دنوں اپنے عروج پر ہے۔ اب ہر طرف یہی واویلا ہے کہ امریکا اور یورپ پاکستان کے مخالف ہیں اور وہ اُسے ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ اس وقت پاکستان کی پوری معیشت اور دفاع کا انحصار امریکی و یورپی سرمائے، ٹیکنالوجی اور اسلحے پر ہے۔ ملکوں کے درمیان دوستی باہمی مفادات کے تابع ہوتی ہے، امریکا اور یورپ نے ہم سے اپنے وسیع تر مفاد میں تعاون کیا، لیکن ہم نے جاپان، کوریا، ہانگ کانگ، سنگاپور وغیرہ کی طرح بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے سرمائے اور ٹیکنالوجی سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ آخر کیوں نہیں اٹھایا، ہمیں کس نے روکا تھا؟

آزادی کے فوراً بعد پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرنے والے بالادست طبقات اور طاقت ور اداروں نے مفروضوں کی بنا پر بیرونی دشمنوں کا خوف اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے نام پر جمہوریت کی راہ روکی اور عوام کو حکمرانی کے حق سے محروم رکھا۔ 1947ء سے لے کر 2014ء تک ملک کے عوام کو نفسیاتی اور ذہنی طور پر حالت جنگ کی کیفیت میں مبتلا رکھا گیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ پوری دنیا کو اپنا مخالف اور دشمن تصور کرنے لگے ہیں۔ ان رویوں کی بناء پر ہم نہ صرف اپنے خطے بلکہ پوری دنیا میں تنہا ہو کر رہ گئے ہیں۔ جمہوریت انسانوں کو خوف سے باہر نکالتی ہے کیونکہ اس نظام کی بنیاد کسی فرضی دشمن کے خوف پر نہیں بلکہ عوام کی طاقت پر استوار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی جمہوری عمل کا آغاز ہوتا ہے تو ملک کے تعلقات نہ صرف اپنے پڑوسی ملکوں بلکہ دنیا کے اہم ملکوں سے بہتر ہونے لگتے ہیں۔ علاقائی اور عالمی امن اور بہتر معاشی و سیاسی تعلقات کے براہ راست فائدے عوام کو ملتے ہیں لہٰذا عوام کے منتخب جمہوری رہنما یہ کام اپنا فرض اور سیاسی ضرورت سمجھ کر کرتے ہیں۔

مایوسی کی کیفیت سے باہر نکلنے اور ماضی کی فاش غلطیوں کی تلافی کا راستہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں خوف سے نجات پا کر زندہ رہنے اور ہر ایک کو اپنا دشمن سمجھنے کا رویہ ترک کرنا ہو گا، ساری ناکامیوں کی ذمے داری جمہوری حکومتوں اور سیاسی رہنماؤں پر عائد کرنے کی بجائے ہمیں مثبت تنقید کے ذریعے جمہوری نظام کو مستحکم کرنا ہو گا۔ 6 دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ ہم نے ضایع نہ کیا ہوتا تو آج ہم مختلف نوعیت کے بحرانوں سے دوچار نہ ہوتے اور ہمیں عالمی تنہائی کا سامنا بھی نہ ہوتا۔

بشکریہ روزمامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.