The Secret US War in Pakistan

ارشاد احمد عارف
ارشاد احمد عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

1987-88ءمیں ایم کیو ایم اور جئے سندھ میں رومانس عروج پر تھا، سندھی مہاجر بھائی بھائی دھوتی نسوار کہاں سے آئی کے نعرے گونجتے تھے اور الطاف بھائی کی تصویریں سائیں جی ایم سید کے ساتھ طمطراق سے شائع ہوتیں۔ اچانک حیدرآباد میں دونو ں تنظیموں کے کارکن لڑ پڑے اورنوبت اتحاد ٹوٹنے تک جا پہنچی۔ اس کشمکش میں گیا ٹوٹ رشتہ چاہ کا۔

میں نے حیدرآباد میں ایک آبادگار لیڈر سے پوچھا ایم کیو ایم اور جئے سندھ میں جدائی کا سبب کیا تھا؟ بولے ویری سمپل دونوں نے شہر کے مختلف چوراہوں پر تحریک پاکستان کے فعال سندھی و مہاجر رہنمائوں کی تصویریں آویزاں کرنے کا فیصلہ کیا ۔الگ الگ کیمپ لگ گئے ایک میں لیاقت علی خان، چوہدری خلیق الزمان اور دوسرے میں عبدالمجید سندھی، جی ایم سید کی تصویروں کی پیٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ ہمارے کارکن گئے ایک دن مہاجر کیمپ اوردوسرے دن سندھی کیمپ میں تیار تصویروں کو توڑا پھوڑا اور مخالفانہ نعرے لکھ دیئے دونوں نے الزام ایک دوسرے پر لگایا اور پھر چل سو چل۔ یہ اکٹھے رہتے تو کوئی آبادگار اندرون سندھ سکھ چین کی زندگی بسر نہ کر پاتا۔

پشاور کے قصہ خوانی بازار اور سینما گھر میں بم دھماکے ہوئے تو مذاکرات مخالف میڈیا نے شور مچا دیا کہ طالبان دہشت گردوں نے امن کی حکومتی خواہش پر پانی پھیر دیا مگر تحریک طالبان پاکستان نے دونوں واقعات سے اظہار لاتعلقی اور شدید مذمت کے ذریعے اس غبارے سے ہوا نکال دی۔ یہ اور بات کہ شاہد اللہ شاہد اور احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان پر آمنا و صدقنا کہنے والوں کو اب اظہار لاتعلقی پر اعتبار ہے نہ شدید مذمت پر اعتماد۔ وہ اسے بھی چالاک طالبان کی چال قرار دے رہے ہیں کیونکہ طالبان سچ صرف اس وقت بولتے ہیں جب وہ کسی واقعہ کی ذمہ داری قبول کریں۔ اظہار لاتعلقی تو حکومت اور عوام کو دھوکہ دینے کی سازش ہے اور بس۔

عسکری اور گوریلا تنظیموں کے طریقہ کار انداز فکر اور مقاصد سے معمولی واقفیت رکھنے والا ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ اپنی کارروائی پر اعتراف اور ذمہ داری قبول کرنا کسی تنظیم کے لیے کس قدر اہم اور مفید ہوتا ہے اپنے کارکنوں، ہمدردوں اور سرپرستوں کا حوصلہ بلند اور مدمقابل فریق کے علاوہ عوام کو اپنی قوت، طاقت اور صلاحیت کار سے مرعوب کرنے کا یہ آزمودہ طریقہ ہے اور اپنی ساکھ برقرار رکھنے کا مجرب نسخہ۔ عسکریت پسند سیاستدانوں اور فلمی اداکاروںکی طرح محبوب و مقبول بننے سے زیادہ رعب و دبدبہ اور دہشت قائم کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور صرف ان کارروائیوں سے اظہار برأت جو واقعی انہوں نے نہ کی ہوں۔ اپنی صفوں میں اعتماد اور مخالفین میں خوف پیدا کرنے کے ہنر سے ناآشنا تنظیموں کا حشر الذوالفقار سے مختلف نہیں ہوتا ،جس نے جنرل ضیاء الحق کے طیارے کی تباہی کا دعویٰ کیا اور پھر امریکہ کے خوف سے صاف مکر گئی۔

اگر قصہ خوانی بازار اور سینما گھر کے سانحہ میں تحریک طالبان پاکستان یا اس سے وابستہ کوئی تنظیم ملوث نہیں تو پھر یہ کس کی کارستانی ہے؟ یہ حکومت، میڈیا، پولیس ، خفیہ ایجنسیوں اور دیگر اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ مذاکرات کے مخالف عناصر کا کیا دھرا ہے اور ابتدا ہی میں مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش؟ پاکستان کیلئے یہ پیغام کہ تحریک طالبان سے مذاکرات بے سود سعی لاحاصل ہے؟ یا پھر فوجی آپریشن پر اکسانے کی سعی؟ پاکستانی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کہ مذاکرات اگر کامیاب بھی ہوگئے تو امن کی منزل دور ہے اور کچھ اور فریقوں کو راضی کیے بغیر وقت کا ضیاع؟ ہر پہلو پر غور کرنا تقاضائے دانشمندی ہے۔

میں سازشی تھیوریوں پر یقین نہیں رکھتا اور ہر معاملے میں امریکہ و بھارت کو ملوث کرنے کی مریضانہ سوچ سے آزاد۔ بندر کی بلا طویلے کے سر ڈالنے کا عادی نہیں مگر عمران خان، سید منور حسن، مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمٰن امریکی سی آئی اے، بھارتی را اور افغان خاد کے حوالے سے جو موقف رکھتے ہیں اس کو یکسر مسترد کرنے کے حق میں بھی نہیں اور ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ فوج، ایم آئی اور آئی ایس آئی کے علاوہ دیگر حکومتی ایجنسیوں کو اکیڈیمی (Acedemi) کا اور چھور ضرور معلوم کرنا چاہئے اوراس کی پاکستان میں سرگرمیوں کا مکمل جائزہ لے کر وزیراعظم نوازشریف کے لیے جامع رپورٹ تیار۔

یہ اکیڈمی کیا ہے؟ بلیک واٹر (جس نے بعد میں XE کا روپ دھارا) کی جانشین تنظیم ہے جس کا سربراہ ایرک پرنس ہے اور یہ تنظیم بھی بلیک واٹر کی طرح افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں سرگرم عمل۔ یو ایس جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ (USJSOC) کے تحت کام کرنے والی اس تنظیم کے بارے میں اینڈریو مویس ، کیلسیاآرنلڈ اور بریٹنی گیٹس اپنی رپورٹ The secret us war in Pakistan میں ہرشربا حقائق افشا کرچکے ہیں۔ ڈرون حملوں کے لیے ٹارگٹ کا تعین اور سی آئی اے کی زمینی کارروائیوں کے لیے مناسب مدد فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے اور سی آئی اے کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ وہ دوست ممالک میں تخریبی کارروائیاں جاری رکھتی ہے۔

کراچی میں ایک ٹارگٹ کلر گرفتار ہو چکا ہے جس کی بندوق نے سنی عالم دین اور شیعہ عالم دین کو نشانہ بنا کر شیعہ سنی فسادات کی راہ ہموار کی۔ خدا کا شکر ہے دونوں طرف کے معقولیت پسند مذہبی رہنمائوں نے یہ سازش کامیاب نہ ہونے دی مگر یہ ان لوگوں کے موقف کی حقانیت کا ثبوت ہے جو برملا کہتے ہیں کہ موجودہ نسلی، لسانی، فرقہ وارانہ لڑائی اور دہشت گردی کے واقعات میں تیسرا فریق ملوث ہے۔

نیک محمد نے جنرل صفدر سے ہاتھ ملایا تو ڈرون حملے کا نشانہ بنا، حکیم اللہ محسود کو حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی مہنگی پڑی۔ اب برادرم عرفان صدیقی اور مولانا سمیع الحق کی ٹیمیں یہ چیلنج قبول کر کے اپنے آپ کو مشکل میں ڈال چکی ہیں۔ ایک عام دیہاتی کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ دو فریق باہم دست و گریبان ہوں اور ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی کا شکار تو لڑائی میں شدت پیدا کرنے، صلح کے امکانات معدوم کرنے اور خود بھر پور فائدہ اٹھانے کا طریقہ کیا ہے اور دونوں کو بدستور لڑائے رکھنے اور کمزور کرنے کے لیے کون سی تکنیک کارگر۔ مگر ہمارے اصحاب دانش بصیرت کا اصرار ہے کہ نہیں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے پر تیار فریق ہی اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں کیونکہ یہ صلح چاہتے ہیں نہ امن۔ امریکہ، بھارت، افغانستان اور دیگر امن پسند ممالک کی فاختہ صفت ایجنسیوں کو ہم مطعون کیوں کریں۔ ان کے ایجنٹ کو خیبر پختونخوا بلوچستان اور کراچی میں خیر بانٹتے ہیں اور آشتی و بھائی چارے کے لیے بے قرار۔ چلو یونہی ہی سہی۔ The secret us war in Pakistan کو اچھے بچوں کی طرح رد کردیتے ہیں۔ جھوٹ کا پلندہ سمجھ لیتے ہیں۔ ’’وچولے‘‘ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں