امریکہ میں تارکینِ وطن کی ترقی

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

جس دوران پاکستان قدیم اور دقیانوسی سوچ رکھنے والے طالبان، جو9/11 سے اس سے حالتِ جنگ میں ہیں، سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے، آئیے دیکھیں کہ باقی دنیا، خاص طور پر امریکہ، میں کیا کچھ ہورہا ہے۔ اگر آپ کی نظر امریکی میڈیا پر ہے تو آپ کو احساس ہوگا کہ امریکی معاشرہ تیزی سے پرانی اقدار سے جان چھڑا کر نئی اور آزاد دنیا میں قدم رکھ رہا ہے۔ آج کل امریکی میڈیا کا فوکس ہم جنس پرستوں کی شادی پرہے اور اس موضوع پر بات کرنے میں وہ ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ بہت سی ریاستوں میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے پر غور کررہی ہیں۔ یہ اندازہ بھی لگایا جارہا ہے کہ یہ رجحان امریکی معاشرے کو کہاں تک لے جائے گا؟ اور تو اور، پوپ فرانسس نے بھی اس موضوع پر کہ دیا… ’’میں کسی کی جانچ کرنے والا کون ہوتا ہوں؟‘‘ ذرا تصور کریں کہ دنیا کے عظیم ترین مذاہب میں سے ایک کا رہنماکہہ رہا ہے کہ ہم جنس پرست شادی کرسکتے ہیں اور اُنہیں اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ اس سے یہ بات بڑے آرام سے سمجھی جاسکتی ہے مغربی دنیا کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ آپ نے جرمنی میں ایک ایورڈ کی تقریب کے آغاز میں ہونے والا ایک مشہور جوڑے کی طرف سے کیا جانے والا بھڑکیلا ڈانس بھی دیکھا ہوگا۔ یقیناًمغربی معاشرے کی بہت سے باتیں ہم ایشیائی باشندے ہضم نہیں کرسکتے ہیں، اس لیے اس موضو ع کو جانے دیں۔

اگر ہم امریکی معاشرے کے مثبت پہلو پر نظر ڈالیں تو احساس ہو گا کہ اس کی سب سے قابلِ تعریف بات اس میں رہنے والی مختلف قوموں کا ایک معاشرتی دھارے میں یک جا و یک جان ہونا ہے۔ درحقیقت اس معاشرے کی قوت کا باعث اس میں آباد مختلف اقوام کا ادغام ہے۔ آج کے امریکی معاشرے میں بھارتی، چینی، لبنانی اور ایرانی بہت زیادہ پیسہ کمارہے ہیں، تاہم پاکستانی نژاد اس صف میں دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ اگر ایک پاکستانی خاندان سالانہ پچاس ہزارڈالر کماتا ہے تو بھارتی خاندان نوے ہزار تک کمالیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ میں مقیم بھارتیوں کی اوسط سالانہ آمدنی اپنے ’’پاکستانی ہم منصبوں‘‘ سے کم و بیش دوگنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی اس معاشرے میں رہتے ہوئے بھی اس سے نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں۔ دراصل وہ گریز کا پہلو تلاش کرتے ہیں، چناچہ اسی کشمکش میں ان کی توانائی ختم ہوجاتی ہے۔

انڈیا اور چین سے امریکہ میں آنے والے تارکینِ وطن روزگار فراہم کرنے والے ذرائع سے آتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ یہ تمام لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، بلکہ ان میں سے بہت سے غریب اور کم تعلیم یافتہ افرادبھی شامل ہوتے ہیں، لیکن اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چینیوں، کوریائی اور ویت نامی تارکینِ وطن میں آگے بڑھنے کی صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ نیویارک ٹائمز کے ایک حالیہ کالم کے مطابق امریکہ میں کا میاب ہونے والے تارکینِ وطن تین خوابیوں کے حامل ہوتے ہیں…’’پہلی خوبی احساسِ برتری ہے۔ اس کا مطلب منفی رویہ نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ دوسری صلاحیت ، اس پہلی صلاحیت کے برعکس ، عدم تحفظ کا احساس ہے کہ جو کچھ آپ نے کیایا حاصل کیا، وہ کافی نہیں۔ تیسری صفت آگے بڑھنے کا جذبہ اور خواہشات پر کنٹرول ہے۔‘‘

احساس برتری سے کیا مراد ہے؟امریکہ میں مقیم تارکینِ وطن کا ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ اس کی حالت اپنے آباؤ اجداد سے بہتر ہے۔ یہی احساس اُنہیں زیادہ محنتی اور منظم اور حوصلہ مند بنا تے ہوئے ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ بظاہر بیان کی گئی دوسری خوبی پہلی خوبی سے متضاد دکھائی دیتی ہے لیکن یہ کم مائیگی کا احسا س بھی ضروری ہے کیونکہ جب آپ اپنے حالات سے مطمئن ہوجاتے ہیں تو آپ پیش قدمی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ امریکہ میں مقیم ہونے والے افراد اور ان کی اولاد کو احساس ہے کہ وہ ایک ڈھلوان پر ہیں۔ جہاں یہ اوپر جانے کا موقع مہیا کرتی ہے، وہیں پھسلنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ دراصل وہاں مسابقت کی دوڑ اتنی زیادہ ہے کوئی بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔ کامیابی کے تیسری شرط شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ خواہشات کو کنٹرول کیے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اُس مذکورہ کالم کے مطابق آپ حال کی خواہشات کا گلہ گھونٹے بغیر مستقبل کی تعمیر نہیں کرسکتے۔

امریکی معاشرے میں ایک اور دلچسپ حقیقت نائیجریا کے باشندے ہیں جو اس معاشرے کی سیاہ فام آبادی کا بمشکل ایک فیصد ہیں، لیکن 2013 میں ھاورڈ بزنس سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے سیاہ فام طلبہ میں سے ایک چوتھائی نائیجریا نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ میں مقیم نائیجریا کے باشندوں میں سے ایک چھوتھائی گریجوئیٹس ہیں یا کسی پیشہ ور ڈگری کے حامل ہیں۔ اسی طرح کیوبا سے تعلق رکھنے والے باشندوں، جن کی تعداد بہت کم ہے اور وہ زیادہ تر میامی میں رہتے ہیں،نے بہت غربت اور تکلیف دہ حالات کا سامنا کیا ہے۔ 1990 تک کیوبا سے تعلق رکھنے والے بہت سے تارکینِ وطن کی اولاد کی آمدنی سفید فام باشندوں سے زیادہ ہے۔ کوئی تعجب نہیں اگر کوئی کیوبا سے تعلق رکھنے والا امریکی کسی دن وائٹ ھاؤس میں پہنچ جائے۔

یہ صرف امریکہ ہی ہے جہاں غریب پسِ منظر رکھنے والے افراد بھی ترقی کرسکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُنہیں نسلی امتیاز کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور اُنہیں ایسے حالات میسر آتے ہیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق محنت کرتے ہوئے مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ پاکستان میں کسی غریب ملازم کا بیٹا کسی دن وزیرِ اعظم یا صدر بن جائے ؟ سیاسی عہدے تو ایک طرف، اعلیٰ ملازمتیں بھی استحقاق یافتہ طبقے کو ہی ملتی ہیں کیونکہ بڑا عہدہ حاصل کرنے کے لیے بنک میں بڑا اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں عام طور پر دولت مند افراد کے بچے سست ، کاہل، غبی اور نالائق ہوتے ہیں لیکن اعلیٰ عہدوں کے حق دار یہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمارے اعلیٰ عہدوں پر نالائق سے نالائق تر افراد فائز ہونے کی روایت جاری رہتی ہے۔ چاہے ملک میں جمہوریت ہو یا آمریت، اس کی بہتری یا تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہوتا ہے۔

اگر دولت مند افراد اپنے بچوں، جن کے ہاتھ ہی اس ملک کی باگ ڈور آنی ہے، اپنے بچوں کو محنت، دیانت داری، راست بازی اور سماجی اقدار کی تعلیم دیں تاکہ اس ملک کی کچھ بہتری کے امکانات پیدا ہوسکیں۔ ماضی میں مطلق العنان بادشاہ بھی اپنے بیٹوں، جنھوں نے ان کے بعد بادشاہت سنبھالنی ہوتی تھی، کوا خلاقیات کی تدریس کے لیے کسی استاد کے پاس بھیجتے تھے۔ آج کل کے ’’بادشاہ‘‘ بھی ایسا کرلیں تو کیا ہی اچھا ہو!

بشکریہ روزنامہ ' دنیا '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں