دو کمیٹیوں کا تماشہ

نجم سیٹھی
نجم سیٹھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

حکومت اور طالبان کی طرف سے قائم کردہ دو نوں کمیٹیاں امن مذاکرات کے آغاز سے ہی ابہام اور کنفیوژن، جس کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا، کا شکار ہوگئی ہیں۔ طالبان کے حوالے سے ملک میں پائی جانے والی منقسم رائے کی وجہ سے مذاکراتی عمل پر مختلف قسم کی تنقید میڈیا پر خاصا رش لے رہی ہے۔ طالبان مخالف گروہ کی طرف سے حکومت پر کی جانے تنقید کے دو پہلو ہیں: پہلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ طالبان سے بات چیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ان کے بہانے کسی ممکنہ فوجی آپریشن سے بچ کر وقت گزارتے ہوئے دہشت گردی کے مناسب مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ فی الحال طالبان کے طرز عمل نے تنقید کرنے والے اس گروہ کی رائے کو درست ثابت کیا۔ جس دوران مذاکرات کا آغاز ہوچکا تھا، اُن کی طرف سے منگل کو پشاور کے قصہ خوانی بازار، جب کہ مذاکراتی ٹیمیں اسی شہر میں موجود تھیں، میں بم دھماکہ کیا گیا۔

طالبان سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والے گروہ کے پا س دوسری دلیل یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے چنی گئی ٹیم میں وہ افراد شامل ہیں جو طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس سے یہ مذاکرات،جس میں میز کے دوطرف ایک جیسی سوچ رکھنے والے افراد ہی بیٹھے ہوں، ایک مزاحیہ ڈرامے میں بدل گئے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ چاروں افراد اپنے اپنے شعبے میں معتبر ہونے اور نیک نامی رکھنے کے باوجود کسی کی نمائندگی نہیںکرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کی رائے کے مطابق بہتر ہوتا اگر تحریک ِ طالبان پاکستان کو خوش کرنے کے لئے بھیجے جانے والے غیر منتخب شدہ افراد کی بجائے ایک چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی جاتی جس میں خورشید شاہ، عمران خان، فاروق ستار، مولانا فضل الرحمٰن، اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی شامل ہوتے، جبکہ ان کی قیادت وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کرتے تو یہ کمیٹی پاکستان کے تمام صوبوں میں موجود تمام اہم سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتی۔ ایسی کمیٹی کے قیام کو دہشت گردی کا حل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جاتا۔ یہ کمیٹی طالبان سے عوامی، نہ کہ رات کے اندھیرے میں،واضح طور پر مطالبہ کرتی کہ وہ اپنی ٹیم اسلام آباد بھیجیں تاکہ اس سے بات کی جاسکے۔ اگراس پر طالبان پس و پیش سے کام لیتے تو ان کا چہرہ عوام پر عیاں ہوجاتا۔ اگر وہ اپنے مطالبات سامنے رکھتے تو بھی وہ ’’کل جماعتی کمیٹی‘‘ ان کے مطالبات کی نوعیت کی سنگینی سے آگاہ ہوجاتی اور پھر فیصلہ کیا جاتا کہ کیا یہ مطالبات قابلِ قبول ہیں یا پھران کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دی جائے۔ ایسا کرنے سے مولانا سمیع الحق اینڈ کمپنی کا اصل چہرہ بھی عوام کے سامنے آجاتا۔تاہم اس وقت، جبکہ حکومت کی قائم کردہ کمیٹی میں شامل افراد کسی کی بھی نمائندگی نہیںکرتے، یہ تمام کارروائی ایک ایسے تماشے میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں دونوں ملاّ ہیں اور ان کی تمام ترکوشش کا محور ٹی وی کوریج ہے۔ کچھ نقادوں کا کہنا ہے کہ طالبان سے بات چیت کرنے کے سب سے بڑے حامی ، عمران خان اور منور حسن کو ایک ٹائم ٹیبل دے کر طالبان سے بات کرنے کے بھیجاجائے اور اگر وہ ان کو امن کی راہ پر لانے میں ناکام ہوجائیں تو پھر وہ آئندہ ’’مذاکرات، مذاکرات ‘‘ کی دہائی دینے کی بجائے ان سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرنے والوںکے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر مجبور ہوں۔

تحریک ِ طالبان پاکستان کے نقادوں کے پاس ایسا کرنے کے لئے ٹھوس مواد موجود ہے۔ طالبان کی طرف سے نامزد کردہ پانچ رکنی کمیٹی پہلے ہی تتر بتر ہوچکی ہے حالانکہ ابھی تک ایک تنکا بھی دہرا نہیںکیا گیا ۔ طالبان کے دو انتھک حامی ، عمران خان اور جے یو آئی کے مفتی نے طالبان کے ’’بنچوں‘‘ پر بیٹھنے سے معذرت کرلی۔ ایک اور رکن، لال مسجد والے مولانا عبدالعزیز نے پہلے ہی شرط عائد کردی ہے کہ شریعت کے نفاذ کے بغیر کوئی بات نہیںہوگی، چنانچہ وہ بھی مذاکرات سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسرے رکن مولانا سمیع الحق اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے دوران کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔ تحریک ِ طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو پس ِ پردہ رہ کر ان دونوں کمیٹیوں کی طرف سے کی جانے والی بات چیت پر نظر رکھے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ طالبان کی بیک وقت دو کمیٹیاں کام کریں گی. ایک سامنے رہے گی جب کہ دوسری پس ِ منظر میں رہتے ہوئے اس پر نظر رکھے گی۔

اس سے ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ طرفین کا مقصد امن قائم کرنا نہیں بلکہ وقت گزارتے ہوئے اپنے لئے کچھ سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔ اس دوران طالبان کو ممکنہ فوجی ایکشن کے خلاف مزاحمت کی بھرپور تیاری کا موقع مل جائے گا۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو فوج کو گرین سگنل دینے سے پہلے اتمام ِ حجت کرنا چاہتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے حکومت ِ پاکستان نے امریکہ سے کہا ہے کہ جب تک مذاکرات ہورہے ہیں ، ڈرون حملہ نہ کیا جائے تاکہ یہ عمل سبوتاژ نہ ہونے پائے۔ یہی وجہ ہے کہ دسمبر، جب سے یہ بات چیت ہورہی ہے، سے لے کر اب تک کوئی ڈرون حملہ نہیںہوا ہے۔ یہ 2011 سے لے کر اب تک ڈرون حملوںکے بغیر گزرنے والا طویل ترین دور ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وزیر ِ اعظم آخری وقت تک انتظار کریں اور پھر فوجی ایکشن کا حکم دے دیں... ایسا کرنا ہی پڑے گا۔ دراصل حکومت نے بہت تاخیر کردی، ایسا کئی ماہ پہلے کرنا چاہئے تھا تاکہ اب تک صورت ِ حال واضح ہوچکی ہوتی۔ تاہم یہ بھی کہا جاسکتا ہے ’’دیر آید درست آید ‘‘۔ اب وقت آگیا ہے جب اس مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کرلیا جائے۔ یقیناً طالبا ن کے ساتھ بات کی جانی چاہئے تھی لیکن جس طرح کی کمیٹی کا چنائو کیا گیا ہے، اس سے حکومت کی سنجیدگی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ دراصل اس تماشے کا منطقی انجام اس کے سوا اور کوئی نہیں ہو گا کہ پوری ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے غیر ریاستی عناصر کو کچل دیا جائے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں