.

پاک سعودی اسٹرٹیجک تعلقات

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں پانچ برس کے وقفہ کے بعد ایک بار پھر گرم جوشی دیکھنے میں آرہی ہے، سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل جو کافی عمر رسیدہ ہوچکے ہیں اور سفر سے گریز کرتے ہیں مگر پاکستان سعودی عرب کے تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر وہ پاکستان کے دورے پر آئے، اُن کے پاکستان کے دورے پر آنے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹرٹیجک اور سیکورٹی کے معاملات میں تعاون کا سلسلہ شروع ہوا، اگرچہ سلسلہ جن بانی پاکستان کے صدر ممنون حسین کے دورئہ سعودی عرب سے شروع ہوگیا تھا، اسی وجہ سے سعود الفیصل پاکستان کے دورے میں سب سے پہلے صدر پاکستان ممنون حسین سے آکر ملے اور اِس کے بعد انہوں نے دوسروں سے ملاقاتیں کیں۔

وزیرخارجہ سعود الفیصل کے دورے کے فوری بعد سعودی عرب کے ڈپٹی وزیر دفاع کی سربراہی میں 17رکنی دفاعی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ دورہ کئی روز پر محیط تھا، اِس میں اخباری اطلاعات کے بموجب سعودی عرب نے پاکستان سے F-17 تھنڈر طیارے، آبدوز شکن میزائل، طیارہ بردار جہاز کو تباہ کرنے والے میزائل کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس کے علاوہ اطلاعات کے بموجب انہوں نے مال کے بدلے مال بیچنے کے طریقہ کار کے طور پر پاکستان کو ڈھائی لاکھ بیرل یومیہ تیل کی پیشکش اِس مد میں کی ہے کہ اگر سعودی عرب کو ایک لاکھ ایکڑ زمین 99 برس کے لئے لیز پر دیدی جائے تاکہ وہ وہاں اپنے لئے اجناس کی پیداوار کرسکیں کیونکہ سعودی عرب میں پانی کی قلت ہے۔ وہ سعودی عرب میں گیہوں کی پیداوار بند کردیں گے اور پاکستانی سرزمین سے اپنی خوراک کی ضروریات پوری کریں گے، اس کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف 4 فروری 2014ء کو تین روزہ دورے پر سعودی عرب گئے، جہاں وہ شاہ عبداللہ، سعودی آرمی چیف اور دیگر حکام سے ملے اور اس بات کی تفصیل طے کی کہ کن شعبہ جات میں تعاون کیا جاسکتا ہے۔ جنرل راحیل شریف کے دورے کی اہمیت تو اس بات سے ہی واضح ہوجاتی ہے کہ اُن کا یہ پہلا غیرملکی دورہ تھا، دوسرے اُن کے دورے کا مقصد تو آرمی کے معاملات ہوسکتے ہیں، جیسے پاکستان اور سعودی افواج میں تعاون، جس میں افواج کی تعیناتی یا تربیت یا آرمی سے متعلق اسلحہ کی سپلائی سے ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بہت گہرے تعلقات رہے ہیں اور سعودی عرب پاکستان کو اپنی زمینی گہرائی سمجھتا ہے جیسا کہ انہوں نے 2010ء میں پاکستان کے سابق چیئرمین جوائنٹ اسٹاف کمیٹی جنرل احسان الحق سے اُن کے دورئہ سعودی عرب کے دوران کہا تھا۔ آصف علی زرداری کی کسی معاملے میں خصوصی شہرت کی وجہ سے سعودی پاکستان سے تعاون کرنے میں گریزاں رہے کہ اُن کی امداد ضائع ہو جائے گی ورنہ وہ پاکستان کو اپنے سے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ میں نے جب جدہ، مکۃ المکرمہ اور طائف کے درمیان مائیکرو ویو سسٹم لگانے میں حصہ لیا تھا، وہاں کے حکام سے اکثر رابطہ رہتا تھا تو وہ پاکستانیوں کو اچھی نگاہ سے دیکھتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ وہ پاکستانیوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں کہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں یا مکہ اور مدینہ کا رُخ کرتے ہیں۔ وہ سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے۔ میاں محمد نواز شریف کے برسراقتدار آنے کے بعد اُن کو بہت سی امیدیں وابستہ تھیں مگر اِس دفعہ میاں صاحب نے روایات کے برخلاف سعودی عرب کے دورے کی بجائے اپنا پہلا دورہ چین کا کیا اور وہاں سے وہ معاشی راستہ اور کھیل تبدیلی کی اصطلاحات لے کر آئے۔ چین اور پاکستان کے درمیان بھی گہرے مراسم ہیں،جو وقت کی کسوٹی پر پورے اترے ہیں۔

پاکستان کے امریکہ کے اثر سے نکلنے کے بعد امریکہ کو اِس خطہ میں ایک اتحادی کی ضرورت تھی، لگتا ہے کہ اس نے اس سلسلے میں ایران کو اپنا اتحادی بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور آہستہ آہستہ راہ ہموار کررہا ہے، اگرچہ اس نے اٹلی، جرمنی، ناروے اور دیگر یورپی ممالک کو پابندیوں کے باوجود کام کرنے کی اجازت دیدی تھی تاکہ کھڑکی کھلی رہے جس کو بعد میں دروازہ بنا دیا جائے کہ جہاں سے امریکہ ایران کے اندر داخل ہو جائے سو اس نے وہ کام شروع کردیا ہے۔ ایران نے بھی پاکستان کو500 ملین ڈالرز امام خمینی فنڈز سے دینے کی پیشکش واپس لے لی، اس پر وزیر پیٹرولیم خاقان عباسی نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ایران پاکستان گیس بائپ لائن منصوبہ اب ختم ہوگیا ہے، اس کے باوجود امریکہ نے عظیم تر بلوچستان کے منصوبے کو تاحال ترک نہیں کیا اور تعلقات بڑھانے کے جلو میں وہ ایران میں تخریب کاری کو پروان چڑھائے گا۔ امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں ایران نے صیہونیوں کے ہولوکاسٹ کے نظریہ کو بھی قبول کرلیا ہے جس کو وہ پہلے رد کرچکے تھے۔ PS+1 یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین، جرمنی اور ایران کے درمیان ایٹمی معاملہ پر معاہدہ ہونے پر سعودی عرب کو یہ خیال پیدا ہوا کہ امریکہ اُس کو نظرانداز کررہا ہے اور ایران کو خلیج کی طاقت کے طور پر ابھار رہا ہے.

اِس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان سے بدلہ لینے کے بعد سعودی عرب کو نشانہ بنائے کہ 9/11 کے واقعہ میں سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب کے شہریوں کی تھی، اسی لئے سعودی عرب نے اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے کے ضمن میں نئے ساتھیوں کی تلاش شروع کی، جس میں فرانس اور بھارت اُس کے پیش نظر رہے، کئی انڈین جہاز خلیج میں موجود تھے، اِس دوران پاکستان پر الزام لگا کہ وہ ایٹم بم سعودی عرب منتقل کردے گا، اب یہ مغرب کی ایک متعصبانہ اور بے وقوفانہ بات تھی کہ ایٹم بم کوئی ایسے ہی منتقل نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے ایک پورے زمینی اور تکنیکی نظام کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں سعودی عرب، فرانس سے مدد حاصل کررہا ہے اور دوسرے ممالک بھی اس میں آگے بڑھ کر کام کررہے ہیں۔ ایران کے تجربہ کے بعد پاکستان مزید غلطی نہیں کرسکتا ہے کیونکہ جب ایران پر دبائو پڑا تو اس نے پاکستان کا نام لے دیا کہ اس نے مشین پاکستان سے خریدی ہے، چنانچہ 5 فروری 2005ء کو جنرل پرویز مشرف نے چیف آف آرمی اسٹاف آڈیٹوریم میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم سے تو کہا جاتا ہے کہ برادرانہ تعلقات ہیں اور وہی برادر ہمارا نام لے لیتے ہیں۔

امریکا اور مغرب کے دانشور یہ لکھتے رہے کہ اگر پاکستان نے ایسا کیا تو وہ سزا کے مرحلہ سے گزرے گا۔ البتہ وہ ایٹمی چھتری فراہم کرسکتا ہے۔ یہ تجویز تو ہم نے بہت پہلے دیدی تھی کہ ہمیں ایران سمیت سعودی عرب اور خلیجی ملکوں کو ایٹمی چھتری فراہم کردینا چاہے، اس لئے اگر ہم ایٹمی طاقت ہیں تو ہمارا ایٹمی دائرہ اثر بھی ہونا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف کے دورے کے دوران یہ بات بھی زیر بحث آئی ہو۔ پاکستان کے لئے یہ بات بھی اہم ہوگی کہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو نارمل سطح پر لائے اور امریکی اثرورسوخ کو خطہ میں کم کرنے کی کوششیں کرے ورنہ یہ ہوگا کہ پہلے پاکستان امریکہ کا کارندہ نظر آتا تھا اور اب وہ ایران کو اس مقام پر لے آئے اوربھارت کو بھی اس کام کے لئے استعمال کرے۔ بہرحال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات بڑھنے سے پاکستان کی معاشی مشکلات کم ہوں گی اور سعودی عرب کی دفاعی مشکلات گھٹیں گی تاہم بیرونی دبائو بڑھے گا۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.