کل کیا ہوگا؟

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

میں نے مضمون کے لیے اس عنوان کا چناؤ بنیادی طور پر دو وجوھات کی بنا پر کیا … پہلی وجہ یہ کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں برآمد نہیں ہوگا کیونکہ ان کے مطالبات ایسے نہیں جن کو تسلیم کیا جاسکے۔ مولانا سمیع الحق کا یہ بیان سب کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے کہ طالبان ملک کو مغربی طاقتوں کے نرغے سے چھڑانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور ان کا مطالبہ ملک میں شریعت کا نافذ اور تمام غیر ملکیوں کا انخلاہے۔ دوسری وجہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے مغربی تجزیہ کاروں کی طر ف سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اگرچہ وہ خبردار کرتے ہیں کہ ’’کچھ ہونے والا ہے‘‘ ، لیکن وہ اس وقوعے کی نوعیت اور وقت بتانے سے گریزاں ہیں۔

آج کل انٹر نیٹ پر ڈاکٹر سٹیفین کوہن، جو پاکستان کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور کئی مرتبہ پاکستان کا دورہ بھی کرچکے ہیں، کا ایک پرانا انٹرویو بہت رش لے رہا ہے۔ اُنھوں نے پاکستان کے بہت سے سیاسی، دفاعی اور سرکاری حکام سے ملاقات کی ۔ اڑھائی سال پہلے اُنھوں نے پاکستان کے حوالے سے ایک کتاب لکھی تھی…’’The future of Pakistan.‘‘۔ اس کتاب میں اُنھوں نے کچھ پیشین گوئیاں کیں، تاہم وہ بہت واضح نہ تھیں۔جب اُن سے انٹرویو میں پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق ہے تو مسٹر کوہن نے جواب دیا…’’نہیں، پاکستان کے وجود کوکوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ ا س کی فوج ایک منظم اور طاقت ور ادارہ ہے اور وہ اس کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اس ملک کو جغرافیائی طور پر تو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں لیکن اگر اس کی معیشت زوال کا شکار رہی تو ایسا ہو سکتا ہے۔‘‘ مسٹر کوہن کے مطابق اس ملک کاسب سے بڑا دشمن اس کی خراب معیشت ہے۔ انکی اس بات میں وزن ہے اور ہمیں اس کی حقانیت جاننے کے لیے کسی نجومی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں کہ خراب معیشت کے ہوتے ہوئے ایک سو اسی ملین نفوس پر مشتمل آبادی کن مسائل کا شکار ہو سکتی ہے، اور نہ ہی ہمیں اس الجھن میں پڑنا چاہیے کہ یہ ملک کب تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس کی معیشت میں کتنی سکت باقی ہے ۔ چناچہ ملک کا مستقبل کوئی نجومی نہیں، بلکہ سادہ سا کیلکولیٹر بھی بتا سکتا ہے۔ کچھ جمع تفریق سے ملک کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کوہن اس معاملے کومزید کنفیوژ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ملک اگلے پانچ یا سات سال تک کسی بڑی تبدیلی کے عمل سے نہیں گزرے گا، تاہم آگے چل کر وہ کہتے ہیں…’’پاکستان ایک تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تبدیلی کب آئے گی۔‘‘ایسا لگتا ہے کہ وہ نتیجے کی ذمہ داری ہم پر چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ یہ اس ملک کے معروضی حقائق ہیں اور ان حالات میں ان اقدامات کا نتیجہ یہ نکلے گا۔ تاہم جو بات اُنھوں نے زور دے کر کہی وہ یہ تھی کہ اسلامی انتہاپسند یا بلوچ علیحد گی پسند اس ملک کوجغرافیائی طور پر نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں… ہمارا سب سے بڑا دشمن خراب معیشت ہے۔

کوہن کی بات سن کر دل کو تسلی ہوتی ہے اور یقین ہونے لگتا ہے کہ طالبان اس ریاست پر کبھی بھی قابض نہیں ہوسکیں گے ، کیونکہ ان کے قبضے کا مقصد ملک کے آئینی اور جغرافیائی ڈھانچے کی تباہی ہے۔ کوہن اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ اسلامی ریاست انتہائی نظریات اور دھشت گردی کا مرکز ہے۔بعض حلقے اسے القاعدہ کا ’’غیرسرکاری ہیڈ کوارٹر ‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔ اس ہفتے ایک اور امریکی تجزیہ کار بھی اس رائے سے اتفاق کرتا دکھائی دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ القاعدہ کا رہنما ایمن الظواہری کا ٹھکانہ پاکستان میں تھا۔ کوہن پاک فوج کے بارے مین پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں…’’فوج ملک کو اچھے طریقے سے نہیں چلا سکتی اور اسے اس بات کا احسا س ہے ،لیکن مسل�ۂ یہ ہے کہ وہ کسی کوبھی ملک کو چلانے نہیں دیتی۔‘‘یہ ایک کڑوی بات ہے لیکن ہمیں اس پر چیں بجبیں ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے پاکستان کے حوالے سے ایک عالمگیر سچائی قرار دیا جاسکتا ہے۔ کوہن کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں جنرل مشرف کی مثال لے لیں …’’مشرف نے خود کو اور اپنے گرد موجود ہر کسی کو بے وقوف بنایا۔ ان میں بطور ایک فوجی جنرل سختی نہیں تھی ، بلکہ اُنھوں نے ہر کسی کو خوش کرنے کی پالیسی اپنائی، تاہم اپنے نظریات کے باوجود وہ پاکستان کو ایک لبرل ملک نہ بنا سکے۔ کچھ پاکستانیوں اور امریکیوں کا خیال ہے کہ مشرف پاکستان کے لیے امید کی آخری کرن تھے۔ ‘‘
اس وقت حکومتِ پاکستان ان افراد کے ساتھ افہام وتفہیم کرنے کی کوشش کررہی ہے جو جدیدیت کے خلاف ہیں اور ملک کو ماضی میں واپس دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ان گروہوں کے تقویت پانے اور ریاست کے ان کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کرنے سے ہچکچانے کے پیچھے ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ مختلف مقاصد کی خاطر ریاستی ادارے خود ان گروہوں کی آبیاری کرتے رہے ہیں۔ کوہن سوال اٹھاتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کو ماضی میں جانے سے کون روک سکتا ہے ؟اس پر کوہن خود ہی جواب دیتے ہیں کہ پاکستان کو اپنا سیاسی کلچر مضبوط بنانا ہوگااور یہ بات ہمیشہ کے لیے ذہن سے نکالنی ہوگی کہ فوج ملک کو کنٹرول کرسکتی ہے۔ فوج کا جو مخصوص کام ہے ، وہ اسے کرنے دیا جائے لیکن حکوت اور نظم و نسق قائم کرنا سیاسی افراد کا ہی کام ہے۔ سول محکموں میں فوجی افسران لگانے کی پالیسی نے بھی ملک کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ فوجی سے آئے ہوئے لوگ معیشت اور اس کے لوازمات سے بے خبر ہوتے ہیں۔ سیاست اور سپہ گری ، دو مختلف امور ہیں اور ان کے لیے مختلف تربیت ہی نہیں مختلف ذہنیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج طاقت کے زور سے کام کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے جبکہ سیاست دان کا کام عوام سے مل کو کچھ افہام و تفہم سے کام چلاناہوتا ہے۔ چناچہ عوام کے ساتھ طاقت اورملک دشمن عناصر کے ساتھ افہام و تفہیم کی پالیسی معاملات کو خراب کردیتی ہے۔

کوہن کی ایک اور پیشین گوئی غلط ثابت ہورہی ہے۔ اُنھوں نے اپنے ایک نٹرویو میں کہا تھا ( یہ انٹرویو پاکستان میں گزشتہ عام انتخابات سے پہلے لیا گیا تھا)کہ اُن کی خواہش ہے کہ ان انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو حکومت قائم کرنے کا موقع ملنا چاہیے تاکہ عوام دیکھ لیں کہ وہ کس حد تک کامیاب یا ناکام ثابت ہوتی ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا تھا…’’میر ی خواہش ہے کہ عمران خان جیسے افراد کو کامیاب ہونا چاہیے تاکہ وہ ذمہ دار ی کا بوجھ پڑنے پر خود کوتبدیل کرسکیں‘‘۔ تاہم ڈاکٹر کوہن دیکھ سکتے ہیں کہ عمران خان نے عوام کو بہت مایوس کیا ہے۔ آج بھی عمران کو غلط فہمی ہے کہ وہ طالبان کا مسلہ حل کرسکتے ہیں، تاہم جب طالبان نے اُنہیں اپنی کمیٹی میں بیٹھنے کے لیے کہا تو عمران نے معذرت کرلی۔ میرا خیال ہے کہ اس سے عوام کی ایک اورغلط فہمی دور ہو چکی ہوگی اور عمران کو بھی سمجھ آگئی ہوگی کہ بیان بازی کرنے اور حقائق کا سامنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کل کیا ہوگا، یہ تو کوئی نہیں جانتا ، لیکن ان مذاکرات سے ایک بات توا چھی سامنے آرہی ہے کہ کچھ لوگ پہنچانے جارہے ہیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے… اگر یہ پہچان برقرار رہے اور عوام کی یادداشت کچھ عرصہ تک ساتھ دے۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں