.

فوج کی طرف سے سیز فائرکا فیصلہ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دی نیشن کی ایکس کلوسو خبر ہے کہ فوج نے سیز فائر کا اعلان کر دیا ہے۔ خبر کے مطابق یہ فیصلہ کور کمانڈرز کے پہلے روز کے اجلاس میں ہوا۔ فوج کے نئے چیف جنرل راحیل شریف نے یہ اجلاس اپنے سعودی عرب کے پہلے دورے سے واپسی پر طلب کیا تھا ۔کیا اس اجلاس کے فیصلوں اور چیف کے سعودی دورے کے مابین کوئی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے،کوئی اور خیال کے گھوڑے دوڑانا چاہتا ہے تو ضرور کوشش کر دیکھے مگر میرا خیال ہے کہ سعوی عرب کافی عرصے سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز کر رہا ہے، اور یہ اس وقت سے ہے جب میاں نواز شریف نے جلا وطنی ترک کر کے پاکستان اترنے کی کوشش کی تھی مگر ان کو ایک سعودی طیارے میں بٹھا کر جدہ روانہ کر دیا گیا تھا، اس وقت ہمارے ٹی وی چینلز پر رواں تبصرہ کرنے والے اینکرز نے بیک آواز مطالبہ کیا تھا کہ یہ ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کی واردات ہے اور اس میں سعودی عرب بھی برابر کا شریک ہے، سعودی عرب کو اس طرح کی بے نقط سننے کی عادت نہیں تھی ، سو اس کے بعد سے اس نے بہتر سمجھا کہ پاکستان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

ان دنوں سابق صدر مشرف پر غداری کا مقدمہ چل رہا ہے، اس دوران سعودی شہزادوں نے پاکستان میں شکار وکار ضرور کھیلا، لیکن مشرف کو شکار ہونے سے بچانے کی کوئی ظاہری کوشش نہیں کی، اور خفیہ طور پر کی ہو تو وہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آئی۔ سو مجھے تو ایک فیصد بھی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ جنرل راحیل شریف سعودیہ سے کوئی ڈکٹیشن لے کر آئے ہوں ، خاص طور پر طالبان سے مذاکرات کے بارے میں۔ہاں، دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی سوچ ضرور موجود ہے۔جنرل اسلم بیگ کے زمانے میں اس میں خرابی واقع ہوگئی تھی جب عراق امریکہ جنگ میںہم نے اپنی فوج سعودی دفاع کے لئے بھیجی لیکن اسے عراق سرحد کے بجائے یمن کی بے ضرر سرحد پر متعین کیا گیا ۔بعد کے دنوں میں پاکستان نے بہر حال سعودیوں کے دل جیتنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔

تو پھر فوج نے سیز فائر کا اعلان کیسے کیا ، کیوں کیا، کس کے کہنے پر کیا۔ ابھی تو مذاکراتی کمیٹی نے ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد طالبان کے مطالبات کی پوٹلی کھولی ہی نہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ حالیہ مذاکرات محض دکھاوے کے لئے ہو رہے ہوں اور اصل مذاکرات کب کے ہو چکے ہوں اور اس میں طے شدہ باتوں کے صرف اعلانات ہونے باقی ہوں ، ایک اعلان فوج نے کر دیا، باقی اعلان بھی ساتھ ساتھ ہوتے چلے جائیں گے۔ یعنی قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی، فوج کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے ہرجانے یعنی خون بہاکی ادائیگی، آبادی کے نقصانات کاازالہ، قیدیوں کی رہائی اور نجانے کیا کیا۔

آج ایک لشکر کے ساتھ سیز فائر کرنا مجبوری ہے تو کل کو کسی دوسرے لشکر کے ساتھ بھی سیز فائر منطقی بات ہو گی، بلوچستان لبریشن آرمی نے چند ہفتے گیس پائپ لائنیں اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا تو بلوچستان سے بھی فوج کی واپسی اور لاپتہ بلوچوں کے لئے خون بہا، اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ سامنے آ جائے گا۔ پھر کراچی میں بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے مشغلے کور وکنے کے لئے تیسرا سیز فائر،کراچی سے فوج کی واپسی، مرنے والوں کے لئے خون بہا، اتنے میں سندھو دیش والے بھی جاگ اٹھیں گے اور وہ چند روز ٹھاہ ٹھوں کر کے ایسی نوبت لے آئیں گے کہ ان کے ساتھ بھی سیز فائر اور باقی سب کچھ، اس سے ا ٓگے پنجابی طالبان نے بھی مورچے لگا رکھے ہیں ، وہ کیوں خاموش بیٹھیں گے۔لے دے کے پاکستان کی رٹ جاتی عمرہ کے نواح تک محدود ہو جائے گی،خدا نخواستہ اس سکڑے ہوئے علاقے میں فوج کی ساری چھاﺅنیاں سما بھی نہیں سکیں گی۔

اس انجام سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جلد بازی میں سیز فائر کرنے سے پہلے خوب سوچ بچار کر لی جائے، اگر شیر میسور نے سیز فائر نہیں کیا تھا، اگر سری لنکا کی فوج نے باغیوں کے مقابلے میں سیز فائر نہیں کیا تھا، اگر امریکی فوج نے جاپان کے ساتھ سیز فائر کرنے کے بجائے اس پر دو ایٹم بم دے مارے تھے، اگر معرکہ سبونہ میں میجر شبیر شریف نے بھارتی میجر نرائن سنگھ کی للکار کے جواب میں سیز فائر نہیں کیا تو ہمیں ایک دو کور کمانڈرز کانفرنسیں اور کر کے اپنے فیصلے پر بار بار غور کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔ مگر پہلی ہی کور کمانڈرزکانفرنس اور ساتھ ہی سیز فائر کا اعلان، میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ کنٹرول لائن پر ایسا ہی یک طرفہ سیز فائر کا اعلان وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی نے کیا تھا۔ اسے تو صدر اور آرمی چیف جنرل مشرف نے یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا ہو گا مگر اب کس نے مجبور کیا، کیا وزیر اعظم نواز شریف نے، فوج سول منتخب حکومت کے تابع ضرور ہے مگر اس حکومت کو مادرپدر آزادی حاصل نہیں۔ پشاور میں تلاوت کرتی ہوئی خواتین شہید ہوں اور دو سال کی معصوم بچی کا لاشہ تڑپے اور ہم یہ سمجھیں کہ چلئے کوئی بڑی واردات نہیں ہو رہی، یہ بڑی واردات کیا ہوتی ہے، کوئی سو دو سو افراد شہید ہو جائیں یا کوئی میجر جنرل شہید ہو جائے۔ کسی چرچ پر حملہ ہو جائے یا جی ایچ کیو کو محاصرے میں لے لیا جائے۔

امریکی فوج افغانستان سے جا رہی ہے، بھارت کو بھی یہاں سے بستر بوریا گول کرنا پڑے گا‘ یہی وہ قوتیں تھیں جو پاکستان میں خون کی ہولی کھیل رہی تھیں، جن لوگوں کی مدد سے کھیل رہی تھیں، وہ بے یارو مددگار رہ جائیں گی، سو ان طاقتوں کو تو سیز فائر اور امن چاہئے، ہمیں سیز فائر اور امن کی بھیک مانگنے کی ضرورت کیوں آن پڑی۔

اگر پاکستان کے کرنے کا کوئی کام ہے تو وہ ہے ڈیورنڈ لائن پر مضبوط حصار قائم کرنا اور اسے آر پار آمدورفت کے لئے بند کرنا۔ بھارت نے پہلے مشرقی سرحد پر باڑ لگائی، پھر کنٹرول لائن پر باڑ لگائی، اب وہاں اس نے کنکریٹ کی دیوار کھڑی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، چین نے ہزاروں سال قبل منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لئے پانچ ہزار میل لمبی دیوار چین کھڑی کی، اس دیوار کی تعمیر سے پہلے منگولوں نے ایک کروڑ کے قریب چینیوںکو تہہ تیغ کر دیا تھا۔ حضور نے بھی مدینہ کی حفاظت کے لئے خندق کھودی‘ امریکہ نے میکسیکو کے بارڈر پر حصار قائم کیا اور جرمنی کی منجینو لائن کے قصے کس کو بھولے ہوں گے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے وطن پر قبضہ کر رکھا ہے لیکن ان کی آزادانہ نقل و حرکت کو روکنے کےلئے اس نے کنکریٹ اور فولاد کی دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں۔ پاک فوج سیز فائر کا مطلب یہ نہ لے کہ فاٹا مادر پدر آزاد ہو جائے‘ بلکہ اسے ایک کور کمانڈرز کانفرنس کرکے یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ آگے بڑھ کر‘ اپنی جانوں پر کھیل کر ڈیورنڈ لائن سیل کر دی جائے، شمال کے خطرات کا ہمیشہ ہمیشہ کےلئے سدباب کرنے کی خاطر، ہو سکے تو ایک سر بفلک دیوار کھڑی کر دی جائے، اینٹوں کی کمی محسوس ہو تو مجھے اس دیوار میں چن دیا جائے۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.