.

جشن فتح۔۔۔؟

طارق محمود چوہدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بارہ سالہ جنگ کے بعد سپرطاقت افغانستان سے اپنے ٹائم ٹیبل کے مطابق دستبرداری کے مراحل سے گزررہی ہے۔ہمارے محاذ جنگ سے بہت دوربیٹھے دانشوراورتین عشروں سے زائد جاری جہاد سے فیض یاب ہونے والے علمائے کرام جشن فتح منانے کی تیاری کررہے ہیں۔

روس کے بعد ایک اورسپرپاورطاقت کو خیالی شکست سے دوچارکردینے کا کریڈٹ ایسی چیزنہیں کہ جشن فتح کی تیاری قبل ازوقت شروع نہ کر دی جائے۔رسم دنیا بھی ہے،موقع بھی اور دستور بھی۔ اس بارہ سالہ جنگ میں فتح کس کی ہوئی۔کون جیتا،کون ہارا۔اس کا فیصلہ تویہ ناقص العقل خبرنگار نہیں کرسکتا۔البتہ افغان باقی، کوہسارباقی، کے تصوراتی نعروں سے دل بہلانے والوں نے اطلاع دی ہے کہ سرخ ریچھ کے بعد اب سفید فام امریکی بھی شکست کا ذائقہ چکھ کر افغانستان سے فرارہو رہے ہیں۔افغان جنگ جیتنے کے بعد جشن فتح کی تیاریوں میں جتے احباب اس جنگ کے ایک اوراتحادی برطانیہ کوبھی نہیں بھولے۔

افغانستان کو برطانوی فوجیوں کا قبرستان اورمنی ویت نام بھی قراردیا جا رہا ہے۔ ایسا ہی ہو گا۔ بارہ سالہ افغان جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کا جانی نقصان حاصل اعدادوشمارکے مطابق اڑھائی ہزار سے زیادہ نہیں۔اسی جنگ میں ہلاک ہونیوالے برطانوی فوجیوں کی کل تعداد 447 تک ہے۔جنگوں میں شکست ہی نہیں،فتح کے شادیانے بھی انسانی لاشوں کے ڈھیرپرکھڑے ہو کرمنائے جاتے ہیں۔اس منزل تک پہنچنے کے لیے کتنے افغان مرد، عورتوں اور بچوں نے قربانیاں دیں۔ اس کے درست اعداد وشمار تواس بے خبرکے پاس موجود نہیں،لیکن یہ تعدا دہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہیں۔اقوام متحدہ کے افغانستان میں ریسرچ کرنے والے ایک مشن نے گزشتہ ہفتہ شورش زدہ علاقوں میں ہونیوالی ہلاکتوں کے متعلق اعدادوشمارجاری کیے ہیں ۔اس رپورٹ کے مطابق صرف دوہزارتیرہ میں آٹھ ہزارچھ سو پندرہ سویلین شہری جاں بحق ہوئے اورساڑھے پانچ ہزار سے زائد شہری شدید زخمی ہوئے۔ایک طرف بارہ سالہ جنگ میں ٹوٹل اڑھائی ہزارامریکی اور447برطانوی فوجیوں کا ضیاع اوردوسری جانب صرف ایک سال کے دوران ساڑھے آٹھ ہزارسویلین کی ہلاکتوں کے اعدادوشمار۔ صرف یہی نہیں،2009سے 2013 کے درمیانی عرصہ میں پندرہ ہزارافغان شہری ہلاک ہوئے ۔اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ بناتی ہے کہ گزشتہ سالوں کی بہ نسبت 2013میں حکومت مخالف عناصر کی کارروائیوں افغان آرمی ،پولیس اورڈرون حملوں میں ہلاک شدگان کی شرح میں چودہ فیصد اضافہ ہوا۔ان اعدادوشمارکے بعد بھی اگرجشن فتح منانے کا موڈ ہوتوپھرآپ کی مرضی۔

اقوام متحدہ کے افغانستان میں معاون مشن یواین اے ایم اے کے نمائندے جان کیوبس نے گزشتہ ہفتہ کابل میں یہ رپورٹ جاری کی۔اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ جیسے جیسے امریکی اورنیٹوفورسزکی واپسی کا عمل تیزہورہاہے،حکومتی اورافغان مزاحمتی گروپوں کے درمیان تصادم اورجھڑپوں میں ہلاک اورزخمی ہونیوالے شہریوں کی تعداد نئے ریکارڈ قائم کررہی ہے۔جیسے جیسے ناتجربہ کارافغان فوج اورپولیس فورس اینٹی طالبان کا روائیوں میں اپنا کرداربڑھا رہی ہیں۔ویسے ویسے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔رپورٹ میں اس بات پربھی تشویش کا اظہارکیا گیا ہے کہ افغان شہریوں کوتشد د،لوٹ ماراورافغان فورسز کے ہاتھوں پھانسی کی سزاؤں کاسامنا ہے ۔افغان شہریوں کیخلاف امریکی اورنیٹوفورسزکے فضائی حملوں میں بتدریج کمی آرہی ہے۔2013میں چون فضائی آپریشن کیے گئے ۔تاہم حملوں کی شرح میں دس فیصد کمی آئی ہے۔ان چون میں سے انیس حملے ڈرون اٹیک تھے۔جن میں خواتین اوربچے بھی ہلاک ہوئے۔یہی فضائی حملے اورڈرون کاروائیاں اس وقت افغان صدرحامدکرزئی اوربارک اوبامہ ایڈمنسٹریشن کے درمیان وجہ نزاع بنے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ افغانیوں کا سب سے بڑا قاتل اگرکوئی ایک عنصرہے تووہ حکومت مخالف قوتوں کی جانب سے عوامی مقامات ،مارکیٹوں ،سڑکوں پرنصب شدہ بم یاآئی ،ای ڈیز ہیں۔2013میں تین ہزارسویلین ان بموں کا نشانہ بن کرہلاک اورساڑھے پانچ ہزارزخمی ہوئے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت محتاط اندازمیں کہا گیا ہے کہ 74فیصد ہلاکتیں حکومت اورامریکہ مخالف جنگجوؤں کی کاروائیوں ،گیارہ فیصد پروحکومت فورسز ،جن میں افغان سیکیورٹی ادارے اورنیٹوفورسز کی حکومت مخالف عناصرکا روائیوں کے دوران ہوئیں۔

ان سویلین ہلاکتوں کا سب سے بڑا نشانہ کون ہے؟افغانستان کی سرزمین پربسنے والی عورتیں،نوعمرلڑکے اورکمسن بچے ،گزشتہ سال کے دوران 235خواتین جاں بحق اور511زخمی ہوکرہمیشہ کیلئے جزوی یا مکمل معذوری کا شکارہوکررہ گئیں۔خواتین کی ہلاکتوں میں دوہزارنوکی یہ نسبت چھتیس فیصد اضافہ ہوا۔اسی سال گزشتہ میں561بچے ہلاک ہوئے۔گیارہ سوپچانوے اپنے اعضاء سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔زیادہ ترہلاکتیں بم پھٹنے کے نتیجہ میں ہوئیں۔یواین رپورٹ بتاتی ہے کہ اکثرخواتین اوربچے اپنی معمول کی زندگی گزارتے ،گھروں میں کام کرتے ،سڑک پرچلتے ،سکول جاتے ،کھیتوں میں کام کرتے ہوئے اچانک پھٹنے والے بموں کی وجہ سے موت کے گھاٹ اترگئے۔
اقوام متحدہ کے نمائندے نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سویلین پرحملے ،قبائلی سرداروں ،انتخابی عملہ اورایسے تمام افراد جوبراہ راست جنگ میں فریق نہ ہوں،پرجان لیوا حملے بین الاقوامی کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں،افغانستان میں جاری تصادم کے تمام فریقین پرلازم ہے کہ وہ سویلین کونشانہ بنانے سے گریز کریں۔طالبان قیادت کی جانب سے سویلین کونشانہ بنانے سے گریزکی اپیلیں کافی نہیں۔یواین نمائندے نے طالبان قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جان بوجھ کرنہتے مرد ،عورتوں اوربچوں کے خلاف بموں اوربارودی سرنگوں کے استعمال اورسویلین ہلاکتوں سے ہاتھ کھینچ لیں۔علاوہ ازیں وہ سویلین کے حوالے سے اپنی ڈیفی نیشن بھی تبدیل کریں۔یواین نمائندے نے تمام متعلقہ عناصرکوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ اگرسویلین ہلاکت کاسلسلہ بند نہ ہواتوجلدیابدیرذمہ دارعناصرکوجنگی جرائم کاحساب عدالتی کٹہروں میں دینا ہو گا۔

یواین کا سادہ دل نمائندہ جنگجوعناصرکو بین الاقوامی قوانین سے ڈرارہا ہے۔ان جنگجوؤں کوجواپنی سرزمین سمیت دنیا کے کسی قانون کونہیں مانتے ۔افغانستان کی سرزمین پرصرف بندوق کا قانون چلتاہے۔ایسی گمراہ کن رپورٹوں کوردی کی ٹوکری میں پھینک کرجشن فتح کی تیاری کرنی چاہئے ۔سپرطاقت کو شکست سے دوچارکرنے کیلئے قربانیاں تواپنی ہی دینی پڑتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.