.

دنیا ہماری عزت کیوں نہیں کرتی

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اللہ کے آخری نبیؐ کا آخری خطبہ اللہ کے آخری دین کا آخری خلاصہ تھا‘ یہ خطبہ دین بھی تھا‘ دنیا بھی ‘ معاشرت بھی ‘ آخرت بھی اور انسانیت بھی ۔ یہ خطبہ بنیادی طور پر انسان‘ انسانیت اور انسانی حقوق کا چارٹر تھا اور یہ آج بھی چارٹر ہے‘ میرا ایمان ہے‘ دنیا کا کوئی انسان اس وقت تک اچھا انسان اور دنیا کا کوئی معاشرہ اس وقت تک اچھا معاشرہ نہیں بن سکتا جب تک یہ اس چارٹر پر عمل نہیں کرتا کیونکہ یہ چارٹر انسان اور انسانیت دونوں کا جوہر ہے‘ یہ دونوں کا ایٹم ‘ دونوں کی روح ہے‘ میں اس خطبے کے چند نقطے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اور اس کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ لوگوں اور دین کے دو کروڑ سپہ سالاروں سے ایک سوال کرتا ہوں‘ کیا یہ ملک‘ کیا آپ اور آپ کی تنظیمیں اس چارٹر پر پورا اترتی ہیں‘ اگر ہاں تو میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے تیار ہوں اور اگر نہیں تو پھر مہربانی کر کے پارسائی کے دعوے بند کر دیجیے کیونکہ آپ اور میں دونوں نبی اکرمؐ کی حکم عدولی کے گناہ گار ہیں۔

میرے رسول ﷺ نے 10 ہجری 9 ذوالحجہ کے دن عرفات کے میدان میں کھڑے ہو کر فرمایا ’’ اے لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئیں‘ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہے جیسی تمہارے اس دن کی اور مبارک مہینہ (ذوالحجہ) کی خاص کر اس شہر میں ہے‘ تم سب اللہ کے حضور پیش ہو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس فرمائے گا‘‘۔ آپ اپنے گریبان میں جھانکیے اور جواب دیجیے‘ کیا ہمارے ہاتھ سے دوسرے مسلمانوں کی جان‘ مال اور عزت محفوظ ہے؟ کیا ہم اپنے محترم مہینوں اور دنوں کا احترام کرتے ہیں‘ اگر ہاں تو پھر مسجدوں‘ امام بارگاہوں اور قبرستانوں میں بم پھاڑنے والے کون ہیں اور اسکولوں پر خودکش حملے کیوں ہو رہے ہیں؟ اور محرم اور ربیع الاول کے مہینوں میں ڈبل سواری پر پابندی کیوں لگتی ہے اور موبائل سروس کیوں معطل ہوتی ہے؟ فرمایا ’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو‘ تم نے انھیں اللہ کی امان کے ساتھ نکاح میں لیا‘ یہ تمہارے پاس اللہ کی امانت ہیں‘ تم رواج کے مطابق ان کے لباس اور خوراک کا بندوبست کرو‘ اچھے سلوک کی تاکید کرو کیونکہ یہ تمہارے زیر دست ہیں‘‘ آپ اپنے گریبانوں میں جھانکیے اور بتایئے‘ کیا خواتین بالخصوص بیگمات کے ساتھ ہمارا رویہ اس معیار پر پورا اترتا ہے؟ اگر ہاں تو پھر اس معاشرے میں ونی اور سورا کی رسمیں کیوں ہیں؟ عورتوں کے منہ پر تیزاب پھینکنے والے لوگ کون ہیں؟ بیویوں پر انسانیت سوز تشدد کون کر رہا ہے؟ اور اس معاشرے کی عورت کو مومن عورت کا حق کون نہیں دے رہا؟۔

فرمایا ’’ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے‘ کسی کے لیے جائز نہیں‘ یہ اپنے بھائی کے مال سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر لے‘ جو کام کرو اللہ کی رضا کے لیے کرو‘ حاکم وقت کو از خیر خواہی نصیحت کرنا‘ مسلمانوں کی جماعت میں شامل رہنا‘ غلام کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو‘ وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو‘ اس سے غلطی ہو جائے تو اسے سزا نہ دینا اور تین بار فرمایا‘ میں تمہیں پڑوسی کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں‘ پھر فرمایا وارث کے لیے جائیداد میں حصہ ہے‘ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت ہے اور نہ ہی سرخ رنگ والے کو کالے پر اور اللہ کی نظر میں صرف متقی مکرم ہیں‘‘۔ آپ گریبان میں جھانکیے اور بتایئے‘ کیا ہم دوسرے مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھ رہے ہیں‘ کیا ہم خود مسلمانوں کی جماعت میں رہتے ہیں اور کیا ہم دوسروں کو بھی رہنے دیتے ہیں؟ کیا ہمارے ماتحت‘ ہمارے ملازمین بھی ہماری طرح خوشحال ہیں؟ کیا ہمارے پڑوسی ہم سے خوش ہیں؟ کیا ہم اپنے تمام وارثوں کو حصہ دے رہے ہیں اور کیا اس معاشرے میں گورا اور کالا برابر ہیں؟ اگر ہاں تو پھر مسلمانوں کو کافر قرار دینے والے مسلمان کون ہیں‘ ہمارے ملازمین ہڑتالیں کیوں کر رہے ہیں؟ عدالتوں میں وراثت کے لاکھوں مقدمے کیوں چل رہے ہیں؟ ہمارے ہمسائے فون کر کے پولیس کو کیوں بلا لیتے ہیں؟ ‘ لوگ رنگ گورا کرنے کی کریمیں کیوں استعمال کرتے ہیں اور ہم اپنے ناموں کے ساتھ اپنے بلند مرتبت قبیلوں‘ خاندانوں اور مکاتب فکر کے حوالے کیوں لکھتے ہیں اور ملک کے علماء کرام اس دوڑ میں عام لوگوں سے آگے کیوں ہیں؟ یہ لوگ تقویٰ کے بجائے نقوی‘ بریلوی‘ نقش بندی‘ قادری‘ مشہدی‘ نجفی اور دیوبندی کو اپنی دستار کیوں بناتے ہیں؟بتائیے جواب دیجیے۔ فرمایا ’’ میرے بعد دشمن بن کر ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا‘ میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں‘ یہ تھامے رکھو گے تو کبھی نہیں بھٹکو گے‘ اللہ کی کتاب اور میری سنت‘‘۔

آپ اپنے گریبانوں میں جھانکیے اور جواب دیجیے‘ کیا ہم ایک دوسرے کے دشمن بن کر ایک دوسرے کو قتل نہیں کر رہے‘ کیا امت آج تک قرآن مجید اور سنت پر متفق ہوئی؟ کیا ہم چودہ سو سال سے قرآن مجید کے مطالب پر نہیں لڑ رہے؟ کیا ہم سنت میں سے فرقے نہیں نکال رہے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں؟ اللہ کے رسولؐ نے ہمارے لیے صرف کتاب اور سنت چھوڑی تھی لیکن ہم نے ان میں سنی‘ شیعہ‘ اہلحدیث اور بریلوی کو بھی شامل کر دیا‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی مسجد صرف مسجد تھی لیکن ہم نے اسے سنیوں‘ وہابیوں‘ شیعوں اور بریلویوں کی مسجد بنا دیا‘ ہم تو آج تک اس بات پر لڑ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہؓ دنیا سے رخصتی کے باوجود زندہ ہیں یا مکمل طور پر پردہ فرما چکے ہیں‘ ہمارے نفاق کی حالت تو یہ ہے‘ ہم آج تک داڑھی اور مسواک کا سائز طے کررہے ہیں‘ ہمارے ٹخنے نماز کے دوران ننگے ہونے چاہئیں یا ڈھکے ہوئے اور پردے کے لیے برقعہ لازمی ہے یا اسکارف سے بھی کام چل جائے گا ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے‘ ہم آج تک نماز کے دوران دونوں پاؤں کے فاصلے کا فیصلہ نہیں کر سکے‘ ہم سے شلوار اور پتلون کے مقدر کا فیصلہ نہیں ہو سکا‘ ہم نماز کے دوران آمین کی آواز کی پچ متعین نہیں کر سکے‘ ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکے صرف دینی علم کافی ہے یا پھر اس میں سائنس کی گنجائش بھی موجود ہے۔

اللہ کے رسولؐ نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا ’’ قتل نہ کرنا اور قرآن اورسنت کو تھامے رکھنا‘‘ لیکن ہم نے قرآن اور سنت کو اپنے مسلمان بھائیوں کے قتل کی وجہ بنا لیا‘ کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ شریعت ہے؟ اگر نہیں تو پھر مساجد کو فرقہ واریت‘ سنت اور قرآن کو اختلافات کا ذریعہ بنانے والے لوگ کون ہیں؟ آپ مسلمان ہیں اور عالم دین ہیں تو پہلے تقویٰ کو فضیلت کی بنیاد بنائیے‘ گورے اور کالے اور عربی اور عجمی کی تفریق ختم کیجیے‘ اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا دوسروں سے منسوب کرنا بند کیجیے‘ وارثوں کو پورا حصہ دیجیے اور وراثت میں اپنے حق سے زیادہ وصول کرنا بند کیجیے‘ مسجدوں اور درگاہوں کو وراثت بنانا بند کیجیے‘ پڑوسی سے وہ حسن سلوک کیجیے جس کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا‘ ملازموں کو معاف کرنا شروع کیجیے‘ اللہ کی رضا کو اپنے اعمال کا مرکز بنائیے‘ مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا بند کیجیے‘ بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کیجیے اور اللہ کے رسولؐ نے آخری خطبے میں چار مہینوںکو احترام کے مہینے قرار دیا تھا‘ کم از کم ان مہینوں میں نفاق اور نفرت کا کاروبار بند کیجیے‘ ان مہینوں کو اتنا احترام دے دیجیے کہ ریاست کو موبائل فون بند کرنا پڑیں‘ ایمرجنسی لگانا پڑے‘ پولیس تعینات کرنا پڑے اور نہ ہی ڈبل سواری پر پابندی لگانا پڑے اور مسلمانوں کی جان‘ مال اور عزت کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیجیے اور اس کے بعد میرے جیسے گناہ گاروں کی اصلاح فرمایئے‘ ہم جیسے دنیادار آپ کے سائے میں بیٹھنا عبادت سمجھیں گے۔

مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے‘ اللہ کے آخری نبیؐ کا آخری خطبہ دنیا کا عظیم چارٹر تھا لیکن ہم لوگ اس پورے چارٹر کو اپنی ذات اور اپنے معاشرے پر نافذ کرنے کے بجائے اس میں سے صرف سود کا حصہ اٹھاتے ہیں اور ریاست کو حکم دیتے ہیں ’’آپ فوری طور پر بلاسود بینکاری شروع کردیں‘‘ سود اسلام میں حرام ہے اور ہم جب تک اسے حرام نہیں سمجھتے ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا لیکن کیا عورتوں کے منہ پر تیزاب پھینکنا‘ مزارعوں کو غلام بنا کر رکھنا‘ خواتین کی شادی قرآن مجید سے کر دینا‘ معصوم بچیاں ونی کر دینا‘ نسل اور خاندان کی بنیاد پر انسانوں کو اچھا یا برا سمجھنا‘ مسجد‘ درگاہ اور مزار کو وراثت بنا لینا‘ کلمہ گو مسلمانوں کو کافر قرار دینا‘ عبادت کو اپنی اہلیت سمجھ لینا اور دوسروں کے قتل کے فتوے جاری کر دینا‘ کیا یہ حلال ہے؟ کیا یہ جائز ہے؟

ہمارے رسولؐ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا تھا لیکن ہم پچاس پچاس ہزار مرتبہ انسانیت کے قتل کے بعد بھی خود کو مسلمان کہتے ہیں‘ اللہ کے رسولؐ نے حضرت ابوسفیانؓ کے گھر میں پناہ لینے والوں کو پناہ دی تھی لیکن ہم مسجدوں میں بیٹھے مسلمانوں کو پناہ نہیں دیتے‘ اللہ کے رسولؐ نے آخری خطبے میں قتل معاف کر دیے تھے اور ان قتلوں میں ربیعہ بن حارث کے دودھ پیتے بیٹے کا قتل بھی شامل تھا مگر ہم صرف شناختی کارڈ دیکھ کر دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں‘ کیا یہ شریعت ہے اور کیا ہم اس ملک میں یہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں؟ خدا کو مانیں اسلام صرف تلوار‘ کوڑا اور پتھر نہیں تھا‘ یہ صرف داڑھی‘ تسبیح‘ سجدہ اور روزہ بھی نہیں تھا‘ یہ برداشت‘ انکسار‘ حلیمی‘ شائستگی‘ توازن‘ فرائض‘ عدل اور احترام کا مذہب تھا لیکن ہم نے اس سے عدل‘ فرض‘ توازن‘ شائستگی‘ حلم‘ انکسار اور برداشت نکال دی‘ہم نے انسانیت کا چارٹر الماری میں بند کر دیا اور پتھر‘ کوڑے اور تلوار میز پر رکھ دیے اور ساتھ ہی ہم حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں ’’ دنیا ہماری عزت کیوں نہیں کرتی‘‘ ہم کس قدر بے وقوف ہیں‘ ہم یہ تک نہیں جانتے ہم نے جب اپنے رسولؐ کے احکامات کی عزت نہیں کی تو دنیا ہماری عزت کیوں کرے گی؟

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.