.

’’تینوں تاپ چڑھے تے میں ہُونگاں‘‘

سعید آسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرنیلی آمریتوں کو حاشیہ بردار سیاستدانوں کی جانب سے ہی نہیں، وکلاء برادری اور دیگر طبقاتِ زندگی کی جانب سے بھی مفاداتی عمل کے تحت یا رضاکارانہ طور پر کندھے فراہم کئے جاتے رہے ہیں۔ 2001ء میں جنرل مشرف نے پی سی او نافذ کر کے نظامِ عدل کو اپنے اس عبوری آئینی آرڈر کے ماتحت کیا تو اس وقت مشرف کے 12 اکتوبر 1999ء والے ماورائے آئین اقدام کے خلاف سپریم کورٹ میں سید ظفر علی شاہ کی درخواست زیر سماعت آئی، اس کیس میں ہی پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے عدالتِ عظمیٰ کے فاضل ججوں نے چیف جسٹس ارشاد حسن خاں کی سربراہی میں قائم فُل بنچ کے ذریعے مشرف کے ماورائے آئین اقدام کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ انہیں بغیر پارلیمنٹ کی توثیق کے آئین میں ازخود ترمیم کرنے کا اختیار بھی تفویض کر دیا اور یہ وہ ریلیف تھا جو اس کیس میں پیش ہونے والے حکومتی وکلاء کی جانب سے مانگا بھی نہیں گیا تھا۔ اسی کیس کی سماعت کے موقع پر ہمارے دوست رانا اعجاز احمد خاں ایڈووکیٹ کی زبان سے ادا ہونے والا یہ فقرہ زبانِ زدعام ہو گیا کہ ’’آپ دو سو کیس کا حوالہ دیں، ہم اس کے جواب میں پانچ سو کیس لے آئیں گے۔‘‘

عدالتِ عظمیٰ میں جنرل ایوب کے مارشل لاء کے خلاف دائر معروف دوسو کیس میں نظریۂ ضرورت ایجاد ہُوا تھا چنانچہ ماورائے آئین اقدامات کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات میں عدلیہ کے روبرو اس ’’دوسو کیس‘‘ کا بطور نظیر حوالہ دیا جاتا ہے مشرف کے خلاف دائر کیس کی سماعت کے دوران بھی درخواست دہندگان کی جانب سے بطور نظیر اس کیس کا حوالہ دیا گیا جسے رانا اعجاز احمد خاں نے مشرف آمریت کی حمایت کرتے ہوئے تضحیک آمیز لہجے میں استعمال کیا اور ’’دوسو کیس‘‘ کو ’’2 سو کیس‘‘ بنا کر اس کے مقابلے میں پانچ سو مقدمات لانے کا اعلان کر دیا۔ مشرف کے ساتھ رانا اعجاز احمد خاں کی وارفتگی کے پس منظر کا مجھے آج تک علم نہیں ہو سکا مگر ان کی زبان سے ادا ہونے والے اس ایک فقرے نے انہیں پنجاب حکومت میں وزارتِ قانون کا قلمدان سونپ دیا تھا۔ ایسے ہی کئی اور نامور وکلاء بھی مشرف کی انجمنِ ستائش باہمی کا حصہ بنے، ڈاکٹر خالد رانجھا پہلے لاہور ہائیکورٹ بار کی صدارت چھوڑ کر ہائیکورٹ کے جج کے منصب پر جا بیٹھے اور پھر اسی دور میں وفاقی وزیر قانون کا رُتبہ پا گئے مگر جب مشرف نے 2002ء کے عام انتخابات کے ذریعے اپنے ڈھب کی جمہوریت کا آغاز کیا تو اس پراسس میں ڈاکٹر خالد رانجھا اور رانا اعجاز احمد خاں دونوں کی دال نہ گل سکی رانا اعجاز کو وزارتِ قانون کے بعد چوہدری پرویز الٰہی کی کابینہ میں غیر منتخب مشیرِ قانون کے منصب پر ہی قناعت کرنا پڑی۔ اس محرومی نے شاید ان کی کایا بھی پلٹ دی اور وہ اپنی مشرف حمایت پالیسیوں سے دستکش ہو کر فوجی حکمرانی کے خلاف وکلاء کی تحریک کا حصہ بن گئے اسی بنیاد پر وہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے بعد شروع ہونے والی عدلیہ بحالی تحریک کا بھی سرگرم حصہ بنے اور اپنی کتاب افتخار پاکستان کے ذریعے مشرف آمریت کے خلاف چارج شیٹ تیار کر لی مگر اب ان کی پلٹی ہوئی کایا نے دوبارہ پلٹا کھا کر انہیں مشرف کے حامیوں کے پلڑے میں لا کھڑا کیا ہے۔

میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے اڑھائی تین ماہ بعد جب مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمہ دائر کرنے کا عندیہ دیا تو اس وقت مشرف کے حق میں سب سے پہلا مضمون رانا اعجاز احمد خان نے ہی تحریر کیا جو نوائے وقت میں شائع ہُوا۔ اس مضمون میں انہوں نے کسی قانون کی دلیل کی بجائے جذباتی دلیل پیش کی کہ میں خود بھی مشرف حکومت کا حصہ رہا ہوں اس لئے مشرف حکومت کے ماورائے آئین اقدامات کی میں بھی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔ ان کی یہ جذباتی دلیل مجھے اس لئے اچھی لگی کہ اس وقت مشرف کے اقتدار میں اپنا حصہ سمیٹنے اور انہیں آئندہ دس ٹرموں کے لئے بھی باوردی صدر منتخب کرانے کا اعلان کرنے والے چھوٹے چودھری ان کے آزمائش کے دنوں میں ان سے پہلو بچاتے نظر آتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب بعد کے حالات میں افواجِ پاکستان کے مشرف کے ساتھ کھڑا ہونے کا تاثر قائم ہُوا تو ان سے پہلو بچانے والے ان کے چُوری کھاتے مجنوئوں کے دل میں پھر مشرف کے ساتھ محبت عود کر آئی، اس مفاداتی سیاست میں رانا اعجاز احمد خاں کا یہ ’’پلس پوائنٹ‘‘ ہے کہ انہوں نے مشرف کا حلیف ہونے کے باوجود ان کے اقتدار کے عروج کے دور میں ان کے ماورائے آئین اقدامات کی مخالفت کی اور اب جب وہ میدان میں گرے ہوئے ہیں تو رانا اعجاز خود کو ان کا دستِ بازو بنا کر پیش کر رہے ہیں ایسے دوستوں پر ہی انگریزی زبان کا یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ
FRIEND IN NEED IS A FRIEND IN DEED
یہی رانا اعجاز احمد خاں مشرف کے خلاف زیر سماعت غداری کیس میں خصوصی عدالت کے روبرو گذشتہ روز یہ پیشکش کر رہے تھے کہ میں مشرف کا دوست ہوں ان کا وزیر رہا ہوں اس لئے ان کی جگہ مجھے سزا سُنا دی جائے، ان کی اس پیشکش سے مشرف کو غداری کیس میں کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں کہ اس کیس کا فیصلہ تو بہر صورت جذباتیت کے بجائے قانون کے مطابق ہونا ہے مگر رانا اعجاز احمد خاں نے ان کی مشکلات کے دنوں میں ان کی ممکنہ سزا خود بھگتنے کی پیشکش کر کے پنجابی کے اس جذباتی محاورے میں ضرور نئی روح پھونک دی ہے کہ

ع

’’تیری میری اِک جندڑی، تینوں تاپ چڑھے تے میں ہُونگاں‘‘

ڈاکٹر خالد رانجھا بھی اس کیس میں مشرف کے وکلاء کے پینل میں شامل ہیں جو ان کی حکومت میں وفاقی وزیر قانون رہے ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اس کیس میں رانا اعجاز احمد خاں کی طرح کسی جذباتی منظرکشی کے بجائے قانونی دلائل ہی سامنے لائیں گے اور ’’دوسو کیس‘‘ کو ’’2 سو کیس‘‘ بنا کر پیش نہیں کریں گے چونکہ مشرف کا کیس سراسر قانون اور میرٹ کا کیس ہے اس لئے اس کیس میں جذبات سے ہٹ کر اور آئین و قانون کا دامن تھام کر ہی مشرف کیلئے کسی بچت کی گنجائش نکلوائی جا سکتی ہے۔ رانا اعجاز احمد خاں کی ہمدردی اپنی جگہ مگر مشرف کے جرائم کی سزا خود بھگتنے کی ان کی پیشکش پر انہیں لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں، ایک تو یہ پیشکش کر کے انہوں نے قانون کی نگاہ میں مشرف کے جرائم خود ہی ثابت کر دئیے ہیں جو بالعموم مجرم کے کسی ساتھی کوو عدہ معاف گواہ بنا کر اس کی زبانی ثابت کرائے جاتے ہیں جبکہ اس بیان کی بنیاد پر رانا اعجاز احمد خاں کے اپنے لئے بھی کئی مصیبتیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ دو روز قبل طالبان ترجمان کی زبانی یہ اعلان سامنے آ چکا ہے کہ مشرف کو لال مسجد اپریشن کی شریعت کے مطابق سزا دی جائے گی۔ پھر رانا اعجاز طالبان کے ہاتھوں ان کی یہ سزا بھی بھگتنے کے لئے بھی تیار ہو جائیں، نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی بھی اپنے والد کے قتل کی سزا مشرف پر لاگو کرنے کی ٹھانے بیٹھے ہیں۔ رانا اعجاز احمد خاں کی پیشکش پر کہیں ان کی گردن ہی طلال بگٹی کے پنجے میں نہ آجائے، بے نظیر قتل کیس بھی چل رہا ہے اور کُھرا مشرف کے ہاتھوں تک پہنچتا نظر آ رہا ہے تو رانا اعجاز صاحب یہ تو ’’اک جندڑی تے دُکھ ہزار‘‘ والی بات ہے جبکہ آپ کی اس پیشکش کے باوجود مشرف قانون کے پھندے سے بچتے نظر نہیں آ رہے اس لئے آپ غالب کے اس شعر کا سہارا لے لیجئے کہ

؎
تاب لاتے ہی بنے گی غالبؔ
واقعہ سخت ہے اور جان عزیز

اگر مشرف نے اپنی ماورائے آئین حکمرانی میں من مانیاں کی ہوئی ہیں اور آئین و قانون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قابلِ دست اندازیٔ پولیس جرائم کا ارتکاب کیا ہُوا ہے جس کے خلاف آپ عدلیہ بحالی تحریک کا حصہ بھی بنے رہے ہیں تو اب ان کو چڑھنے والے ’’تاپ‘‘ پر آپ کو نہیں ’’ہُونگنا‘‘ چاہئے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرتے ہوئے مشرف کے ساتھ انصاف کرے گا تو آپ بطور قانون دان انصاف کی اس عملداری کے ساتھ کھڑے ہوں۔ آپ نے دوست نوازی کرنی ہی ہے تو یہ دوستی قانون اور انصاف کے ساتھ نبھائیں جو لیگل پریکٹیشنرز ایکٹ کے تحت آپ کے پیشۂ وکالت کی اخلاقیات کا بھی حصہ ہے۔ آپ حق کا ضرور ساتھ دیں مگر باطل کو حق نہ بنائیں۔ آخر آپ کے مقدس پیشے کے بھی تو کچھ تقاضے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.