.

2014 افغانستان میں تبدیلی پر بے یقینی کے سائے

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر حامد کرزئی کے چالاک رویّے اور ایوان صدر سے روانگی کے وقت مضحکہ خیز حرکات نے افغانستان میں رونما ہونے والی تبدیلی کو تذبذب میں ڈال دیا ہے، جیسا کہ اس ملک میں صدارتی انتخاب کی مہم کا آغاز ہوگیا ہو۔ اس افغان رہنما نے افغانستان اور امریکہ کے مابین دوطرفہ سیکورٹی معاہدے (بی ایس اے) پر دستخط سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث 2014ء کے بعد بھی امریکہ کو افغانستان میں نیٹو افواج رکھنے کی اجازت ملتی، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مغربی افواج پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جس میں تازہ ترین الزام عام شہریوں پر دہشت گرد حملوں کا ہے۔ کرزئی اور ان کے اعلیٰ مشیران بھی پاکستان پر زبانی حملے کرتے رہے ہیں، اس کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کابل گئے۔

یہ جارحانہ لفاظی ایسا ماحول وضع کرنے میں بمشکل ہی معاون ہوگی جوکہ افغانستان سے مغربی افواج کے انخلاء کے بعد رونما ہونے والی مشکل تبدیلی کیلئے درکار ہے۔ بی ایس اے پر دستخط کیلئے کرزئی نے جو شرائط عائد کیں ان میں سے ایک طالبان کے ساتھ مذاکرات میں انکی معاونت تھی، ایک غیرمخلص شخص جس نے امن عمل کے اس بہترین موقع کی مخالفت کی تھی جوکہ گزشتہ برس جون میں طالبان کے دوحہ میں دفتر کھولنے سے پیدا ہوا تھا، اس کی جانب سے ایسی بات تعجب کا باعث ہے۔ کرزئی کی جانب سے طالبان کے دوحہ کے دفتر پر اپنا جھنڈا لہرانے پر سخت ترین اعتراض پر یہ نوزائیدہ امن عمل کے خاتمے اور امریکہ کی جانب سے مذاکرات سے جنگ کے خاتمے کا راستہ اپنانے کو ترک کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ حالانکہ سفارتی حلقوں نے امن عمل کو سبوتاژ کئے جانے کی وجہ غلط فہمیوں کو قرار دیا جنہوں نے قطر میں کئے جانے والے انتظامات کے باعث جنم لیا تھا، کرزئی نے انہیں مذاکراتی عمل کو روکنے کے لئے استعمال کیا اور امریکہ کے ان نمائندوں کو واپس بلا لیا گیا جنہیں طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیلئے تعینات کیا جانا تھا۔ اس وقت افغان صدر نے بی ایس اے پر مذاکرات معطل کرکے امن عمل کو امریکہ کی سیکورٹی معاہدے کی ضرورت سے موثر طریقے سے فائدہ اٹھاکر یرغمال بنوایا۔

بی ایس اے پر طول پاجانے والےمذاکرات کے بعد کرزئی نے نومبر 2013ء نے لویا جرگہ طلب کیا جس نے معاہدے کی منظوری دے دی لیکن پھر بھی انہوں نے اس پر دستخط سے انکار کردیا۔ 2013ء میں بی ایس اے پر طویل گرما گرمی کے دوران امن عمل کو سردخانے میں ڈال دیا گیاحالانکہ اس وقت تک طالبان کے نمائندے قطر سے نہیں گئے تھے جس سے ان کی امریکی مذاکرات کاروں سے بات چیت بحال کرنے میں دلچسپی کا اشارہ ملتا ہے۔ وہ قوتیں جو کہ طالبان سے مذاکرات کرنے کی خواہاں تھیں اوباما انتظامیہ میں ان پر پینٹاگون کی رائے حاوی ہوگئی۔ کرزئی کی ناراضی دور کرکے ان سے بی ایس اے پر دستخط کرانے کیلئے دوحہ امن عمل کو پس پشت ڈال دیا گیا لیکن 2014ء کے اوائل میں ہی یہ واضح ہوگیا کہ یہ حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ اگر دوحہ امن عمل کو منقطع نہیں کیا جاتا تو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اب تک مذاکرات میں پیشرفت کے باعث انتخاب کیلئے قدرے پرامن ماحول یقینی بنایا جاسکتا تھا لیکن اب ڈراؤنا سیکورٹی چیلنج سامنے نظر آرہا ہے، طالبان کو سیاسی سرگرمیوں میں شامل کرنے سے اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ وہ انتخاب کو نقصان نہ پہنچائے، جسے ان کے رہنما ملا عمر شرمناک کہہ کر مسترد کر چکے ہیں اور عوام سے اس میں شرکت نہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

پاکستان نے دوحہ امن عمل کی بحالی کیلئے واشنگٹن کو جھنڈے اور علامات سے متعلق غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے پیشگی مذاکرات کی پےدرپے تجویز دی ہے، جس کی وجہ سے دوحہ میں سفارتی شکست ہوئی تھی۔ امریکہ نے اس خیال کو قابل توجہ گردانا لیکن اس کی کوشش کرنے سے پہلو تہی کی۔ واشنگٹن نے بھی طالبان کے قبضے میں جنگ کے واحد قیدی باؤبرگ ڈھل کو چھڑانے کیلئے گوانتاناموبے کے 5 طالبان قیدیوں کی رہائی کی پیشکش سے تعطل کے خاتمے کی جانب جھکاؤ کا مظاہرہ کیا۔ اکتوبر2013ء میں جب وزیر اعظم نواز شریف واشنگٹن کے دورے کے دوران صدر باراک اوباما سے ملے تو انہوں نے دوحہ امن عمل کے دوبارہ آغاز کرنے کا معاملہ اٹھایا لیکن جواب میں کوئی پیشرفت نہ ہوئی، حالیہ دنوں میں جب طالبان کی جانب سے برگ ڈھل کے ان کے قبضے میں ہونے کے ثبوت کی ویڈیو جاری کی گئی تو اوباما انتظامیہ میں اس مسئلے پر دوبارہ بات چیت ہوئی لیکن پھر بھی کچھ خاص پیشرفت نہ ہوسکی۔ بی ایس اے پر کرزئی کے موقف سے مایوسی کا شکار کچھ امریکی اعلیٰ عہدیدار نجی طور پر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اتنی جلدی دوحہ امن عمل اور اس سے متعلق 2011ء میں ہونے والی بون کانفرنس سے دستبردار نہیں ہونا چاہئے تھا۔ انہیں اب کھوئے ہوئے مواقع سمجھا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر بون دوم(II) کانفرنس میں طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کھولنے کے اعلان کی راہ ہموار ہوتی اور اس کا مقصد کانفرنس کی طالبان سے مفاہمتی بات چیت کے آغاز کی توثیق اور اس عمل کی تطہیر تھی۔یہ صدرکرزئی ہی تھےجنہوں نےبون کانفرنس سےقبل ہی جلدی جلدی اس عمل کیلئے کوششیں کی تھیں۔ آخری لمحے پرانہوں نےاس بابت اپنا ذہن تبدیل کیا بصورت دیگر یہ عمل دسمبر2011ء میں ہی شروع ہوجاتا جس کا دوبارہ آغاز ڈھائی سال کی سفارتی کوششوں کے بعد جون2013ء میں ہوا۔ کرزئی کی جانب سے دوحہ امن عمل کو ان کی پشت پر امریکہ اور پاکستان کی طرف سے معاہدے کی سازش قرار دیا گیا اس کے برخلاف انہیں مستقل اس عمل کی بابت معطلع رکھا گیا اور جس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ یہ عمل دو مرحلوں پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں امریکی اور طالبان نمائندے قیدی کی رہائی جیسے دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کرتے، پھر افغانوں کے مابین مکمل امن و مفاہمتی عمل کی راہ ہموار ہوتی۔ حالانکہ طالبان کے نمائندےکرزئی حکومت سے بات کرنے سے گریزاں رہے لیکن یہ توقع کی جارہی تھی کہ دوحہ امن عمل کے چل پڑنے کے بعد انہیں شروع میں کم از کم ان کی ذاتی حیثیت میں افغان ہائی پیس کونسل کے نمائندوں سے بات کرنے کی جانب بروقت قائل کیا جاسکتا تھا۔

اس میں کبھی کوئی شک نہیں تھاکہ دوحہ امن عمل کا مقصد افغانوں میں داخلی سطح پر مذاکرات کا ماحول وضع کرنا تھا، جس کو ہر کوئی تسلیم کرتا اور وہ خود افغانوں کا اپناقومی مفاہمتی عمل کہلاتا۔اگریہ عمل چل پڑتاتو مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت رواں برس رونما ہونے والی افغانستان میں سیاسی، سیکورٹی اور معاشی تبدیلیوں کیلئے سیاسی بنیاد فراہم کرتا۔ طالبان کی جانب سے شرائط طے کرنا ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوتا لیکن کرزئی کے طرز عمل نے اس عمل کے آغاز نہ ہونے کو یقینی بنایا۔ امریکی حکمت عملی میں مذاکرات پر بی ایس اے کو ترجیح دی گئی لیکن اس سے دونوں میں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا، فی الوقت بی ایس اے پر دستخط ہوسکے اور نہ ہی امن عمل کی جانب کوئی پیشرفت ہوسکی، حالانکہ کچھ امریکی عہدیداروں کو رواں ماہ اب بھی یہ توقع ہے کہ کرزئی بی ایس اے پر دستخط کردیں گے تاہم امریکی عہدیداروں کا خیال ہے کہ امریکہ یہ معاملہ کرزئی کے جانشین پر چھوڑ دے گا لیکن اس معاہدے کا دارومدار افغانستان کی انتخابی سیاست پر منحصر ہوگی۔ اس معاہدے پر دستخط ہونے کی توقع پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے پر ہوگی جس کے حوالے سے پیش گوئی کی جارہی ہے کہ وہ بے نتیجہ ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو طرفہ سیکورٹی معاہدے کے فیصلے کا معاملہ موسم گرما کے آخر تک چلا جائیگا جو کہ لڑائی کے عروج کا زمانہ ہوگا۔ دوسری جانب چوںکہ امکان یہ ہے کہ افغان حکومت کے قیام میں وقت لگے گا ۔

اس لئے ستمبر کے پہلے ہفتے میں برطانیہ میں ہونے والی نیٹو کانفرنس کے انعقاد تک معاہدے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔افغانستان میں قیام امن کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ اس عمل کو شروع کرنے میں مزید تاخیر اور سفارتی سطح پر انتہائی کم مواقع کی موجودگی کی وجہ سے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اور نیٹو افواج کی ملک سے نکلنے کی دسمبر 2014ء کی ڈیڈ لائن سے قبل افغانستان میں سیاسی مفاہمت کو خطرہ ہو سکتا ہے جب کابل میں موجود تمام مغربی افواج وہاں سے نکل جائیں گی۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے افغانستان میں امن مذاکرات کے نہ ہونے اور بی ایس اے کے حوالے سے موجود غیر یقینی کی صورتحال سے دسمبر 2014ء اور اس کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے مزید شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں موجود غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے 2014ء کے بعد رونما ہونے والی تبدیلی کے پیش نظر ملکی استحکام پر شکوک وشبہات کے سائے منڈلارہے ہیں۔ آیا یہ تاریک تناظر نئے صدر کے انتخاب سے بڑی حد تک تبدیل ہوسکے یا نہیں، اس کا تعین ہونا ابھی باقی ہے، بشرط یہ کہ انتخابی عمل شفاف اور قابل یقین ہو۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.