.

ذوالفقار علی بھٹو کی’’عام آدمی پارٹی‘‘

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات امن اور ہندوستان میں نئی دہلی صوبے کی ’’عام آدمی حکومت‘‘ کے مستقبل کے بارے میں اندیشے صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی مذاکراتی کمیٹی کے حکومت پاکستان کی طرف سے غیر قانونی قرار دی گئی تحریک طالبان سے مذاکرات کچھ زیادہ فاصلہ طے نہیں کرسکیں گے اور خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ مغری طرز کی جمہوریت میں ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کی حکومت برداشت نہیں کی جائے گی چنانچہ حکومتی فرائض سے دستبردار ہونے پر مجبور کردی جائے گی۔ ہندوستان میں تو نئی دہلی ریاست کی عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلیٰ اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوگئے ہیں اور پاکستان میں بھی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات چلتے دکھائی نہیں دیتے کیونکہ مذاکرات کے دونوں فریق کہتے ہیں کہ حملے اور مذاکرات بیک وقت نہیں ہوسکتے اور یہ دلیل بالکل صحیح ہے مگر یہ دلیل بھی تو غلط اور بے بنیاد نہیں تھی کہ حکومت آئین کے تحت کسی غیر آئینی اور غیر قانونی تنظیم کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکتی لیکن پاکستان میں آئینی اور قانونی دلائل پر زیادہ توجہ دینا کچھ زیادہ زیب بھی نہیں دیتا کیونکہ یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے اور کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی ہوسکتا ہے اور کچھ ہوتے ہوتے بھی ہونے سے رہ جاتا ہے اور اکثر سننے میں آتا ہے کہ

؎ قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا

اس میں قصور اس کا بھی ہے کہ ہم لب بام سفر کے لئے بھی کمند استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ کمند ٹوٹے گی نہیں۔ قومی معیشت چلانے کی غرض سے غیر ملکی قرضے حاصل کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان قرضوں کے ساتھ یہ شرطیں وابستہ نہیں ہونگی کہ یہ قرضے قومی معیشت کو چلانے کے لئے استعمال نہیں کئے جائیں گے۔

ہندوستان کے صوبہ نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت قائم ہوتے دیکھ کر پاکستان کے بعض جیالوں اور متوالوں نے بھی پاکستان میں ’’عام آدمی پارٹی‘‘ بنانے اور اس کے ذریعے اقتدار کے بام تک پہنچنے کی کوشش کی تھی۔ وہ شاید نہیں جانتے تھے یا بھول گئے ہوں گے کہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے ’’عام آدمی پارٹی‘‘ بنانے کی کوشش کی تھی اور اس کوشش میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔ اقتدار کے بام تک بھی پہنچ گئے تھے۔ اس ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کا انگریزی نام ’’پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ تھا مگر اس کے وجود میں آنے کے فوراً بعد یہ عام آدمی کی پارٹی کی بجائے خاص آدمیوں کی پارٹی بن گئی تھی کیونکہ ملک بھر کے زمینداروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اس میں شامل ہو کر قبضہ کرلیا تھا چنانچہ جس طرح قائد اعظم محمد علی جناح گیارہ اگست 1947ء کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں بیان کئے گئے اپنے ’’ نظریہ پاکستان ‘‘ پر عملدرآمد کرانے سے قاصر تھے ویسے ہی ذوالفقار بھٹو بھی اپنی عام آدمی پارٹی کو خاص آدمی پارٹی بننے سے روکنے اور اپنی پارٹی کے پہلے انتخابی منشور پر عملدرآمد کرنے اور کرانے سے معذور ہوگئے تھے اور صرف معذور ہی نہیں ہوئے پھانسی پر بھی لٹکا دئیے گئے تھے اور ان کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد ان کی پوری اولاد کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا کہ ان میں موجود عام آدمی پارٹی کے جراثیم مغربی طرز کی جمہوریت یعنی سرمایہ داری نظام کی خاص آدمی پارٹی کے بیکٹریا کو تلف کرنے میں کامیاب ہونے نہ پائیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کی عام آدمی پارٹی کے وجود میں آنے سے پہلے حادثہ یہ ہوا تھا کہ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کی پچاسویں سالگرہ کے سلسلے میں ایک تقریب میں ایک سرکاری دانشور نے مجھ سے پوچھا تھا کہ مشرقی پاکستان کے پاکستان سے الگ ہوجانے سے کیا فرق پڑا ہے؟ میں نے عرض کی تھی کہ صرف یہ ہی سوچیں کہ اگر مشرقی پاکستان پاکستان کے ساتھ رہتا تو کیا جنرل ضیاء الحق گیارہ سالوں تک حکومت کرسکتے تھے؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا جاسکتا تھا؟ سرکاری دانشور نے نفی میں جواب دیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.