.

پاک امریکہ اسٹرٹیجک تعلقات

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر پیچ و زیرو بم سے عبارت ہیں، پچاس کے عشرے میں پاکستان امریکہ سے سیٹو اور سینٹو کے معاہدات میں جڑ گیا تھا اور سوویت روس سے دوری اختیار کی، پاکستان میں اکثر بحث ہوتی ہے کہ خان لیاقت علی خان کی جیب میں دو دعوت نامے تھے۔ ایک امریکہ کا دوسرا روس کا۔ سفیر منور عالم کے مطابق یہ غلط ہے، انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اُن کے روس میں تعنیاتی کے دوران روس نے جو کاغذات طشت ازبام کئے اُن کے مطابق سوویت روس پاکستان کے وزیراعظم کو بلانا ہی نہیں چاہتا تھا کیونکہ روس پاکستان میں بغاوت کو پروان چڑھا رہا تھا اس لئے کبھی اس نے وزیراعظم پاکستان کو 14 اگست 1948ء کو دورے کی دعوت دی تو پاکستان نے قبول نہ کی اور کبھی اس نے اپنے یوم آزادی کے وقت دعوت دی تو خود سوویت روس نے پاکستان کی تضحیک کرتے ہوئے واپس لے لی۔

صدر خروشیف نے بڈابیر اڈے سے اڑنے والے U-2 جاسوس طیارے گرانے کے بعد جو دھمکی دی اس کے بعد پاکستان نے اپنے روس کے ساتھ تعلقات میں قدرے توازن پیدا کرنا چاہا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں دوری 1965ء اور 1971ء میں پیدا ہوئی اور پھر روس کے افغانستان پر قبضہ کے بعد دونوں ملکوں میں بہت قربت ہو گئی۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یہ قربت پھر سے ختم ہوگئی اور 28مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان امریکہ کے عتاب میں آگیا پھر 9/11 کے واقعے کے بعد سے امریکہ نے کبھی پاکستان کو دوست نہیں سمجھا بلکہ اُس کو دباتا رہا اور دہشت گردی کی جنگ میں دھونس اور دھمکیاں دے کر اپنے ساتھ ملایا اور اسے لہولہان کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی تباہ کردیا۔

اِس دوران امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرلیا اور پاکستان پر ایٹمی پھیلائو کا الزام لگا کر اُس کے ساتھ ایٹمی معاہدہ نہیں کیا۔ اگرچہ 2006ء میں اسٹرٹیجک پلان ڈویژن کے سربراہ جنرل خالد قدوائی نے ایک بریفنگ کے دوران یہ کہا تھا کہ بھارت جیسے معاہدے کی امریکہ نے پیشکش کی تو اس پر ہم دس بار سوچیں گے مگر پھر بھی پاکستان اس معاہدے کیلئے تکنیکی اعتبار سے کوشش کرتا رہا۔ اگرچہ ایک اور ایٹمی طاقت چین کے ساتھ ہمارے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ چشمہ ون سے شروع ہو گیا تھا۔

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم امریکہ کو یاد دلاتے رہیں گے کہ ہم بھی ایٹمی طاقت ہیں، وہ ہمیں مان لے۔ نہ مانے تب بھی ہم اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے مواقع حاصل کرتے رہیں گے، چنانچہ ایسے معاہدوں کی عدم موجودگی میں پاکستان نے خوشاب میں ایٹمی ری ایکٹر لگائے اور چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا ڈالے۔ جس پر دُنیا بھر میں شور ہے کہ پاکستان سب سے زیادہ تیزی سے ایٹمی مواد پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اگرچہ پاکستان کے پاس صرف شمالی کوریا سے زیادہ ایٹمی مواد ہے، اس کے برعکس روس، امریکہ، فرانس، اسرائیل اور بھارت کے پاس کہیں زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں تاہم امریکہ، پاکستان پر دبائو ڈالتا رہا ہے کہ وہ ایٹمی مواد بنانا بند کرنے کا معاہدہ کرے، مگر پاکستان نے اسے قبول نہیں کیا۔ افغانستان میں امریکہ کی حالت خراب ہونے اور بھارت سے حسب منشاء نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں امریکہ نے پاکستان سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی اور 2010ء میں اسٹرٹیجک مذاکرات شروع کئے جو 2011ء کے دھماکہ خیز واقعات کی بنا معطل کر دیئے۔ اب 22 جنوری 2014ء سے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

پانچ معاملات پر گفتگو ہوئی۔ توانائی، سیکورٹی اور اسٹرٹیجک استحکام اور عدم ایٹمی پھیلائو، دفاعی مشاورتی گروپ، قانون کو روبہ عمل لا کر دہشت گردی کا سدباب، معیشت اور مالیات۔ اِس سلسلے میں پہلے تین گروپوں نے 2013ء میں کام شروع کررکھا ہے، سب کے علم میں ہے کہ معیشت کی بحالی سب سے اہم ضرورت انرجی کی ہے تاکہ صنعتوں کا پہیہ چل سکے اور لوگوں کو راحت میسر آسکے، لوڈشیڈنگ سے نجات ملے۔ پاکستان نے امداد سے تائب ہو کر اب تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف توجہ کرلی ہے، اس لئے اُس کو بڑی مقدار میں بجلی چاہئے، بڑی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے یوں دہشت گردی سے نجات مرکزی نکتہ ہے۔

امریکہ کے مطابق ایٹمی ملک پاکستان میں دہشت گردی ایک خوفناک منظر پیش کرتی ہے۔ پاکستان ضرورت سے زیادہ دنیا کو یقین دلا چکا ہے کہ دہشت گرد ایٹمی اسلحہ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے،اس کے باوجود بھی خواہ مخواہ پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، امریکہ پاکستان کو اپنے ایٹمی انرجی دامن میں سمونے کے لئے تیار نہیں ہے جبکہ وہ بھارت کے ساتھ 2008ء میں 123 کا معاہدہ کرچکا ہے۔ بھارت کو اس نے ایٹمی درجہ دے دیا ہے،پاکستان کو ایٹمی طاقت کا درجہ دینے سے گریزاں ہے، اگرچہ پاکستان نے اپنے آپ کو ایٹمی صلاحیت کے عدم پھیلائو کافی بہتر ریکارڈ کرلیا ہے۔ سعودی عرب کے معاملے میں وہ مضبوطی سے کھڑا رہا اور سعودی عرب کو ایٹمی صلاحیت فراہم نہیں کی۔ اس کے بعد امریکہ پاکستان کو بلیک میل کرنے سے گریز کرے تو انتہائی مناسب بات ہوگی۔ جب وہ لفظ Nuclear کے ساتھ Share استعمال کررہے ہیں تو پاکستان ایٹمی معاملات اچھے برتائو کا مستحق ہے، دوسری طرف امریکہ اور پاکستان مذاکرات کے دوران یہ بات زیر بحث آئی کہ سرحدوں سے باہر دہشت گردی کو، پاکستان اور افغانستان کو شدید خطرات میں ڈال رہی ہے مگر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پاکستان جب بھی طالبان سے مذاکرات شروع کرتا ہے تو اِن مذاکرات کو سبوتاژ کردیا جاتا ہے۔ اب بھی مذاکرات جاری ہیں، اِس میں احتیاط کی ضرورت ہے اگرچہ اب پاکستان کو اپنی سیکورٹی کے علاوہ خطہ کی سیکورٹی کی بھی فکر کرنا پڑے گی۔

دہشت گردی اگر پاکستانی سرحد سے ہورہی ہے تو اسے پاکستان کو روکنا چاہئے اور اگر افغانستان سے ہورہی ہے تو اسے افغانستان کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ حکومت یہ کام نہیں کررہی ہے۔ کچھ طاقتیں پاکستان کی ایٹمی قوت کو قبول نہیں کر رہی ہیں۔ پاکستان میں یہ گمان عام ہے کہ وہی پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ پاکستان اندر سے کمزور ہو ۔پاک امریکہ اسٹرٹیجک تعلقات کا انحصار افغانستان کے حالات پر ہے کہ پاکستان کا افغانستان میں کیا کردار ہوگا، اس بارے میں ہمارا تو یہ خیال ہے کہ امریکہ پاکستان کو مذاکرات کو طول دے گا اور اُن کو اٹکائے رکھے گا، اس لئے کہ اُن کے ایک سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ امریکہ کے لئے پاکستان کی اہمیت صرف افغانستان سے نکلنے کے لئے راہداری کی حد تک محدود ہوگئی ہے ،پاکستان میں یہ خیال بھی عام ہے کہ امریکہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتا ہے، اس کا اندازہ وزیراعظم پاکستان سے اوباما کے سوالات سے لگایا جاسکتا ہے، جب وہ کہتے ہیں کہ ایک ایٹمی ملک دہشت گردی کا شکار اور اتنی مالی بدحالی سے دوچار ہے تو اِس کا مطلب یہی نکالا جاسکتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو ایٹمی ملک کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.