.

برطانوی شہزادی اور پاکستانی ڈاکٹر پر مبنی فلم

اشتیاق بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں یہ کالم ’’وش لیڈر کانفرنس‘‘ میں شرکت کے بعد امریکہ سے وطن واپسی پر دوران پرواز تحریر کررہا ہوں۔ مجھے طویل فضائی سفر بالکل پسند نہیں کیونکہ میرے لئے سفر کا طویل دورانیہ گزارنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لئے میں ہمیشہ طویل سفر پر جانے سے قبل کچھ کتابیں اور کرنٹ افیئر میگزین اپنے ساتھ رکھ لیتا ہوں تاکہ انہیں پڑھ کر وقت گزارا جاسکے اور جب پڑھنے سے بھی تھک جاتا ہوں تو کوئی فلم دیکھ لیتا ہوں۔ میں نے کچھ دیر قبل ہی شہزادی ڈیانا اور پاکستانی نژاد ہارٹ سرجن ڈاکٹر حسنات خان پر بننے والی فلم "Diana" دیکھی ہے جو میرے حالیہ کالم کا موضوع بنی۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے بعد شہزادی ڈیانا اور پاکستانی ڈاکٹر ایک بار پھر دنیا بھر میں خبروں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ اس فلم کو میرے بڑے بھائی اختیار بیگ اور ایک واقف کار ڈاکٹر ناجیہ اشرف نے بھی بہت پسند کیا تھا اور مجھ سے اس پر کالم لکھنے کی درخواست کی تھی۔ فلم دیکھ کر مجھے کچھ سال قبل شہزادی ڈیانا اور ڈاکٹر حسنات پر لکھا گیا اپنا کالم ’’برطانوی شہزادی اور پاکستانی ڈاکٹر‘‘ جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا تھا، یاد آگیا جو فلم سے بہت مطابقت رکھتا ہے۔

فلم ’’ڈیانا‘‘ کی کہانی کیٹ اسنیل (Kate Snell) کی معروف بیسٹ سیلر کتاب ’’ڈیانا کی آخری محبت‘‘ (Diana Her Last Love) سے ماخوذ ہے جس میں شہزادی ڈیانا کا کردار ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ نوینی وارٹس اور پاکستانی ڈاکٹر حسنات خان کا کردار اداکار نوین اینڈریو نے بڑی خوبصورتی سے ادا کئے ہیں۔ فلم کی کہانی شہزادی ڈیانا کی زندگی کے آخری اُن 2 سالوں پر محیط ہے جب وہ شہزادہ چارلس سے علیحدگی کے بعد ڈاکٹر حسنات کی محبت میں گرفتار ہوئی تھیں اور اُن سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔ فلم میں دکھایا گیا کہ شہزادی ڈیانا کی پاکستانی نژاد ہارٹ سرجن ڈاکٹر حسنات سے لندن کے ایک اسپتال میں کس طرح ملاقات ہوئی اور وہ اُن کی شخصیت سے متاثر ہوکر محبت میں گرفتار ہوئیں جس کے بعد دونوں کی خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب شہزادی ڈیانا نے ڈاکٹر حسنات سے شادی کا فیصلہ کیا اور اُن کی فیملی کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے لاہور تشریف لائیں اور شلوار قمیض میں ملبوس ہوکر اُن کے والدین سے ملاقات کی۔

فلم میں ڈاکٹر حسنات کی فیملی کو پرانے خیالات اور والدہ کو سخت مزاج طبیعت کا حامل دکھایا گیا ہے۔ فلم میں ڈاکٹر حسنات کی والدہ کا شہزادی ڈیانا کے ساتھ رویہ سرد دکھایا گیا جو ایک موقع پر شہزادی ڈیانا سے کہتی ہیں کہ ’’تمہارے سابقہ شوہر کے انکل لارڈ مائونٹ بیٹن کے تقسیم ہند کے فیصلے کے باعث تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کا واقعہ پیش آیا جس میں 60 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا پڑی اور 16 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا جس کا ذمہ دار وہ شاہی خاندان کو ٹھہراتی ہیں‘‘۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ شہزادی ڈیانا اپنے قیام کے دوران ڈاکٹر حسنات کی فیملی کا دل جیتنے کے لئے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتی ہیں اور ایک موقع پر حسنات کی دادی، شہزادی ڈیانا کو ’’شیرنی‘‘ کا خطاب دیتی ہیں جبکہ شہزادی ڈیانا، حسنات کی فیملی سے ملاقات کے بعد برطانیہ واپسی پر پاکستانی معاشرے کے جوائنٹ فیملی سسٹم کو سراہتی ہیں اور اسلام میں دلچسپی ظاہر کرتی ہیں۔ فلم کے ایک منظر میں ڈاکٹر حسنات، شہزادی ڈیانا سے کہتے ہیں کہ وہ قرآن پاک اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی میں انتہائی اہمیت دیتے ہیں جس پر شہزادی ڈیانا، ڈاکٹر حسنات سے کہتی ہیں کہ ’’وہ بھی قرآن پاک کی تعلیمات سے متاثر ہیں جس کا مطالعہ کرتی رہی ہوں اور مسلمانوں کے اس عقیدے پر یقین رکھتی ہوں کہ دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی بھی ہے جہاں ہم ساتھ رہیں گے‘‘۔

فلم کے ایک منظر میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ شہزادی ڈیانا کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ڈاکٹر حسنات سے شادی کے بعد وہ اور حسنات برطانیہ چھوڑ کر کسی اور ملک رہائش اختیار کریں۔ اس سلسلے میں شہزادی ڈیانا، اٹلی کے دورے کے دوران دنیا کے معروف ہارٹ سرجن کرسچن برناٹ کو اپنا راز دان بناتے ہوئے یہ اعتراف کرتی ہیں کہ وہ ایک پاکستانی ہارٹ سرجن کی محبت میں گرفتار ہیں اور اُن سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ اس موقع پر شہزادی ڈیانا، کرسچن برناٹ سے ڈاکٹر حسنات کو کسی دوسرے ملک میں ملازمت کے لئے مدد کی درخواست بھی کرتی ہیں مگر ایک خود دار اور غیرت مند پٹھان ڈاکٹر حسنات اپنی ملازمت کے سلسلے میں کسی کی بھی مدد لینے سے انکار کردیتا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ شہزادی ڈیانا، ڈاکٹر حسنات کی فیملی کا دل جیتنے میں ناکام رہتی ہیں اور ڈاکٹر حسنات کے والدین اپنے بیٹے کے لئے ایک غیر مسلم مطلقہ عورت سے شادی کے لئے راضی نہیں ہوتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کی لڑکی ہی اُن کے بیٹے کے لئے موزوں رہے گی، اس طرح ڈاکٹر حسنات اور شہزادی ڈیانا ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیتے ہیں مگر دونوں کے درمیان جذباتی لگائو ختم نہیں ہوتا۔ فلم کے ایک منظر میں دکھایا گیا ہے کہ شہزادی ڈیانا دلبرداشتہ ہوکر ڈاکٹر حسنات کو جلانے کے لئے ایک اور مسلمان ڈوڈی الفائد سے دوستی کرتی ہیں اور خود اخبارات میں تصاویر شائع کراتی ہیں۔

اسی طرح پیرس میں حادثے کا شکار ہونے والی کار میں سوار ہونے سے کچھ دیر قبل تک وہ اس انتظار میں رہتی ہیں کہ شاید ڈاکٹر حسنات اُنہیں فون کریں اور دونوں کے تعلقات دوبارہ استوار ہوجائیں مگر ایسا نہیں ہوتا اور شہزادی ڈیانا کار حادثے میں موت کا شکارہوجاتی ہیں۔ فلم کے آخری منظر میں ڈاکٹر حسنات کو شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد اُن کے محل کے باہر پھولوں کا گلدستہ رکھتے دکھایا گیا ہے جس پر ڈیانا کی تصویر کے ساتھ حسنات کے تحریر کردہ معروف شاعر مولانا رومی کے یہ الفاظ درج ہوتے ہیں۔ ’’دنیا کی زندگی کے بعد ہم دونوں جنت کے باغ میں ملیں گے‘‘۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر حسنات کا شمار دنیا کے بہترین کارڈیالوجسٹ سرجن میں ہوتا ہے۔ شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد ڈاکٹر حسنات نے اُن کی آخری رسومات میں ایک اجنبی کی طرح شرکت کی جس کے بعد دلبرداشتہ ہوکر لندن کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیا۔

ڈاکٹر حسنات آج کل راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی (AFIC) سے منسلک ہیں اور پرویز مشرف کے معالجین کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹر حسنات برطانیہ کے اسپتالوں سے اچھے تعلقات ہونے کے باعث ملالہ کو حملے کے بعد علاج کی غرض سے برطانیہ بھیجنے میں بھی اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فلم کے پروڈیوسر نے ڈاکٹر حسنات کی زندگی پر فلم بنانے سے قبل اُن سے کوئی اجازت نہیں لی جبکہ فلم کی ہیروئن نوینی وارٹس میں نہ تو شہزادی ڈیانا جیسی مشابہت نظر آئی اور نہ ہی فلم کا ہیرو نوین اینڈریو پاکستانی پٹھان ڈاکٹر حسنات جیسا لگا۔ فلم میں ڈاکٹر حسنات کو خود دار اور سخت مزاج طبیعت کا حامل شخص دکھایا گیا ہے جو کئی بار شہزادی ڈیانا پر غصے میں برس پڑتا ہے۔ فلم میں ڈاکٹر حسنات کے شراب نوشی اور ڈیانا کے ساتھ فحاشی کے مناظر کثرت سے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ فلم میں شہزادی ڈیانا کی پاکستان آمد کو منفی انداز سے پیش کیا گیا ہے جس میں پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا منظر بھی شامل ہے جبکہ فلم میں شہزادی ڈیانا کے پاکستان میں قیام کے دوران بادشاہی مسجد کے دورے اور امام مسجد کے قرآن پاک کے انگریزی ترجمہ دینے کا ذکر ہی نہیں کیا گیا اور نہ ہی شہزادی ڈیانا کے اسلام سے متاثر ہونے اور اسلام کی جانب رغبت کا اعتراف کیا گیا ہے۔

فلم ’’ڈیانا‘‘ نے شہرت کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں مگر مغربی فلم بین آخر تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے والدین کی خوشنودی کے لئے دنیا کی خوبصورت اور مقبول ترین عورت کو چھوڑدے اور اُس سے شادی نہ کرے۔ شاید انہیں اس بات کا علم نہیں کہ اسلام میں والدین کی اطاعت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ شہزادی ڈیانا کی ڈاکٹر حسنات سے شادی کی خواہش یہ ظاہر کرتی ہے کہ شہزادی ڈیانا اسلام سے متاثر اور اس کی جانب راغب تھیں مگر شاید شاہی خاندان کے افراد کو شہزادی ڈیانا کے مسلمان ڈاکٹر کے ساتھ روابط پسند نہیں تھے۔ فلم دیکھنے کے بعد ایک انہونا سا خیال میرے ذہن میں آیا کہ اگر بالفرض برطانوی شہزادی کی پاکستانی ڈاکٹر حسنات سے شادی ہوجاتی تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے فخر کا باعث ہوتا اور اس صورت میں برطانوی تخت کے وارث اور مستقبل کے بادشاہ کی ماں ایک پاکستانی مسلمان کی بیوی کہلاتی جس کی مسلمان اولاد اس بادشاہ کے سوتیلے بہن بھائی ہوتے اور اس طرح 100 سال تک ہم پر حکومت کرنے والے شاہی خاندان کا غرور خاک میں مل جاتا۔ کہیں یہی سوچ اور شہزادی ڈیانا کی مسلمانوں سے دوستی تو اُن کی موت کا سبب نہیں بنی؟

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.