.

سعودی وزیر اطلاعات کے ساتھ ایک نشست

جاوید صدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند سالوں کے وقفے کے بعد سعودی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے پاکستان کے دورے کر کے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں زبردست گرم جوشی پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ پرنس سعود الفیصل کا دورہ گزشتہ آٹھ برس میں کسی اعلیٰ سعودی شخصیت کا پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کے چند ہفتوں کے اندر سعودی نائب وزیر دفاع نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شعبہ میں تعاون پر اتفاق رائے ہوا۔ سعودی فوج کے افسر پاکستان کے دفاعی تربیتی اداروں میں ایک عرصہ سے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں پاک فوج کے دستے سعودی عرب میں متعین رہے ہیں۔ خلیج کی پہلی جنگ کے دوران پاک فوج کے دستے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب بھیجے گئے تھے۔ اس مرتبہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا جو سمجھوتہ ہو رہا ہے اس میں سعودی افواج کی پاکستان میں تربیت کے علاوہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں تیار ہونے والا تربیتی طیارہ ’’مشاق‘‘ سعودی عرب کی توجہ کا مرکز ہے وہ یہ طیارے پاکستان سے خریدنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل عراق نے بھی 20 مشاق طیاروں کی خریداری کا آرڈر دیا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ سعودی ولی عہد کے دورہ سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایک مرتبہ پھر تعاون اور تربیت کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاع کے شعبہ میں خاص طور پر مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ خاص طور پر شام اور مصر میں رونما ہونے والے واقعات میں امریکہ اور مغربی ممالک کے رویہ نے سعودی حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور استحکام کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے نئے آپشنز تلاش کرے۔

پیر کی دوپہر وزیر اطلاعات پرویز رشید نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی وزیر اطلاعات عبدالحمید محی الدین کھوجہ کے اعزاز میں لوک ورثہ ریستوران میں ایک ظہرانہ دیا ۔ اس ظہرانہ میں پاکستانی اخبارات کے مقامی ایڈیٹروں اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت روانی سے انگریزی بولتے ہیں انہوں نے پاکستان صحافیوں سے کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سعودی عرب وزارت اطلاعات کے زیر اہتمام 19 ٹی وی چینل کام کررہے ہیں جن میں وہ چینل بھی شامل ہیں جو کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی سے چوبیس گھنٹے اپنی نشریات جاری رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سعودی نجی چینلوں کے علاوہ نجی شعبہ کے اخبارات بھی ہیں جو حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔

راقم نے سعودی وزیر اطلاعات سے استفسار کیا کہ مغربی میڈیا اس بات پر کڑی تنقید کر رہا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین پر کار چلانے کی پابندی ہے ۔ جس پر سعودی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سعودی عرب کی حکومت نے خواتین پر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی کہ وہ کار ڈرائیو نہیں کرسکتیں۔ اصل بات یہ ہے کہ سعودی معاشرہ خود خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمارے معاشرے کی اپنی اقدار اور روایات ہیں۔ وہ ان روایات کے خلاف نہیں جاسکتا لیکن تبدیلیاں ضروری ہیں جب معاشرہ مزاحمت نہیں کرے گا تو خواتین کے کار چلانے پر پابندی ختم ہو جائے گی سعودی عرب میں جمہوریت نہ ہونے کے بارے میں ایک استفسار پر سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت کا کہنا تھا کہ بتدریج سعودی عرب جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسلامی دنیا میں انتہا پسندی کے حوالے پر اظہار رائے کرتے ہوئے سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت نے بتایا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے مسلمان اسلام کی اپنی اپنی تعبیر کر رہے ہیں۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دین کی جو تعبیر وہ کر رہے ہیں‘ وہی اصل دین ہے۔ وہی سب سے بہتر مسلمان ہیں۔ سارا جھگڑا اس وجہ سے ہے۔ سعودی وزیر اطلاعات نے پاکستانی کھانوں کی بڑی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بریانی کباب اور تکے دوسرے پاکستانی کھانے شوق سے کھاتے ہیں۔ سعودی عرب میں 23 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ ان پاکستانیوں نے سعودی عرب میں بھی پاکستانی کھانوں کو مقبول بنا دیا ہے۔ سعودی وزیر سے پوچھا گیا کہ خانہ کعبہ کی توسیع کتنے عرصہ میں مکمل ہو جائے گی تو انہوں نے بتایا کہ خانہ کعبہ کی توسیع کا منصوبہ دو سال میں مکمل ہو جائے گا۔ اس توسیع کے بعد کم وبیش چالیس(40) لاکھ مسلمان فریضہ حج ادا کرسکیں گے۔ یہ پاکستانی سعودی عرب کی تعمیر وترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

افغانستان میں امن کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے سعودی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام کا دار مدار بڑی حد تک پاکستان پر ہے۔ پاکستان وہاں امن کے قیام کے سلسلے میں اہم کردار کر سکتا ہے۔ سعودی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب پرویز رشید کو سعودی عرب کا دورہ کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات اور سعودی عرب کی وزارت اطلاعات و ثقافت میں تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ سعودی وزیر اطلاعات کو لوک ورثہ میوزیم کی سیر بھی کرائی گئی۔ جہاں انہیں پاکستانی آرٹ اور ثقافت کے مختلف نمونے دکھائے گئے۔

بشکریہ روزنامہ ' نوائے وقت '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.