.

وسط افریقی جمہوریہ میں مسلم اقلیت کی نسل کشی، مسلم اُمہ کی بے حسی

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت وسط افریقی جمہوریہ CAR میں حکومتِ وقت کی فوج، عیسائی ملیشیا اور ملک کی عیسائی اکثریت مسلم اقلیت کی نسل کشی کر رہی ہے۔ بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کی وکیل استغاثہ نے صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ جنوری میں جمہوریہ کے مسلمان صدر MICHEL D JOTODIA کے مستعفی ہونے کے بعد ان کی ملیشیا SELEKA اور برسراقتدار مسیحی حکومت کی فوج اور مسلح مسیحی جتھوں میں خونریز تصادم شروع ہو گیا جو وہاں تعینات 1600 نفری فرانسیسی فوج اور اس کی معاون برونڈی امن دستوں کے قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ خانہ جنگی میں عیسائی اکثریت اور مسلم اقلیت کے رہنماؤں کے مابین اقتدار کی رقابت نے ایک نہ ختم ہونے والے انتقام در انتقام کی صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ مخاصمت اس وقت شروع ہوئی جب مارچ 2013ء میں SELEKA ملیشیا کے سربراہ D JOTODIA(جو مسلمان تھے) عیسائی صدر FRANCOIS BOZIZE کوبرطرف کر کے اقتدار پر قابض ہو گئے۔

اس قسم کی تبدیلی افریقی ریاستوں کا معمول ہے اور اس کے محرکات ہوس اقتدار کے سوا اور کچھ نہ تھے کیونکہ D JOTODIA نے BOZIZE پر ظلم اور زیادتی اور بدعنوانی کا الزام عائد کر کے انہیں اقتدار سے برطرف کیا تھا لیکن چونکہ فریقین مسلم اور عیسائی تھے اس لئے سیاسی اختلاف نے فرقہ وارانہ فسادات کی صورت اختیار کر لی۔ عیسائی آبادی کو SELEKA ملیشیا نے جانبداری کی شکایت تھی جس نے دسمبر میں عام بغاوت کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ جابجا فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے جن کے باعث D JOTODIA کی حکومت امن و امان بحال کرنے میں ناکام ہو گئی اور موصوف نے (D JOTODIA) اقتدار سے دستبردار ہو کر جلاوطنی اختیار کر لی۔ اس طرح عیسائیوں کا کھویا ہوا اقتدار بحال ہو گیا تو نئی حکومت نے مسلمانوں کو SELEKA ملیشیا کی زیادتیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں اور عیسائی عوام اس حد تک چلے گئے کہ وسط افریقی ریاست کی مسلم اقلیت کی تطہیر شروع کر دی اور دس لاکھ مسلمان ترکِ وطن کر کے ہمسایہ ملک چاڈ اور کیمرون میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ یوں بھی اس 46 لاکھ آبادی والی ریاست میں مسلم اقلیت بمشکل 15 فیصد تھی جس کا وجود اس وقت خطرے میں ہے۔

جیساکہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کے وکیل استغاثہ نے کہا ہے اس خونریز خانہ جنگی میں ہلاک ہونے والے بیشتر مسلمان ہیں جبکہ بلوائی بچوں اور عورتوں کو یرغمال بنا کر ان کا جنسی استحصال کر رہے ہیں۔ کھیت کھلیان بلکہ گاؤں کے گاؤں نذرآتش کر دیئے گئے ہیں نیز مساجد مسمار کر دی گئی ہیں جبکہ UNICEF کے مطابق 1300 بچے بڑی بیدردی سے ہلاک کئے گئے اور ان کے اعضاء کاٹ ڈالے گئے اور لاشوں کو مسخ کر دیا گیا۔ عالمی ادارہ خوراک پناہ گزینوں کو یومیہ 24 پروازوں کے ذریعے خوراک پہنچا رہا ہے جو صرف ڈیڑھ لاکھ افراد کے لئے کافی ہے جبکہ پناہ گزیں خیموں میں آٹھ لاکھ مرد و زن اور بچے خوراک کے منتظر ہیں۔ کھیتوں کھلیانوں کی تباہی کی وجہ سے خوراک کی شدید قلت ہو گئی ہے کیونکہ عالمی ادارۂ خوراک WORLD FOOD PROGRAM کا اندازہ ہے کہ غذائی بحران کے باعث ملک کی 13 لاکھ آبادی خوراک سے محروم ہو چکی۔

منتظم کا کہنا ہے کہ اس نے آج تک اتنے وسیع پیمانے پر خوراک نہیں فراہم کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بین الاقوامی تعزیراتی عدالت اس بات پر متفق ہیں کہ وسط افریقی جمہوریہ میں مسلمان اقلیت کی تطہیر ہو رہی ہے اور متحاربین جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ وسط افریقی جمہوریہ CAR میں جس پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے اس کے سدباب کے لئے بین الاقوامی مداخلت ناگزیر ہو گئی ہے۔ اگر یہی مظالم اسلامی ممالک میں مسیحی اقلیت پر ڈھائے گئے ہوتے تو سب سے پہلے پوپ دہائی دیتا، اس کے بعد تو مسلم حکمرانوں کی مذمت کا ایک نہ ختم ہونے والا CHORUS شروع ہو چکا ہوتا اور اسے عذر بنا کر متعلقہ ریاست پر امریکہ اور نیٹو فوج کشی کر چکے ہوتے۔ لیکن مسلمانوں کا خون پانی سے بھی زیادہ ارزاں معلوم ہوتا ہے لیکن ہمیں مغرب کی انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی تعزیراتی عدالت اور میڈیا کا مشکور ہونا چاہئے کہ غیر مذہب سے تعلق رکھتے ہوئے بھی انہوں نے افریقی جمہوریہ (CAR) میں عیسائیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی پر صدائے احتجاج بلند کی اور ملزموں کے مواخذے کا پُرزور مطالبہ کیا جبکہ یہ فرض اسلامی ممالک کی تنظیم OIC کا تھا کہ وہ برما، فلپین، تھائی لینڈ اور افریقہ میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کے انسداد کے لئے آخری حد تک چلی جاتی یا کم از کم وسط افریقی جمہوریہ کے خانماں برباد مسلمانوں کو اپنے رکن ممالک میں پناہ دیتی اور ان کی آبادکاری کا اہتمام کرتی۔ اسے پاکستان کی مثال سامنے رکھنی چاہئے کہ اس نے مالی مشکلات کے باوجود کس طرح افغانستان کے 35 لاکھ پناہ گزینوں کو اپنی سرزمین میں باعزت طو رپر آباد کیا۔ اسی طرح بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر بسایا۔

یہ جذبہ اخوت ہی تو ہے جسے مسلمانوں کو بلالحاظ مذہب، نسل و حسب نسب بنی نوع انسان سے محبت کا درس دیتا ہے۔ کیا ہم اپنے موجودہ حکمرانوں سے یہ توقع کر لیں کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں برما اور وسط افریقی ریاست کے مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والوں کو عدالت میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کریں گے؟۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.