.

اے دل تو کب جاگے گا ؟

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پہلی دفعہ اسے ملا تو میں ایک نامعلوم احساس جرم میں مبتلا ہو گیا۔ اسکی دکھ بھری کہانی اور اس کے لہجے کے درد نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ میں بھی اس کے مجرموں میں سے ایک ہوں۔ یہ احساس جرم مجھے اس لئے تنگ کرنے لگا کہ میں ان لوگوں کو بڑی اچھی طرح جانتا تھا جنہوں نے اس بوڑھے شخص سے اس کا جوان بیٹا چھین لیا تھا لیکن میں ان مجرموں کے نام اپنی زبان پر نہ لایا کیونکہ میرے پاس کوئی ثبوت نہ تھا۔ میں نے اس بوڑھے کو دلاسہ دیکر اور اس کے دکھ پر ایک کالم لکھ کر اپنے احساس جرم کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ کافی دنوں کے بعد میں اس بوڑھے شخص کو دوبارہ کراچی میں ملا تو وہ بالکل بدل چکا تھا۔ اس مرتبہ اسے مل کر مجھے علامہ اقبالؒ کی نظم ’’بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو ‘‘ کے یہ اشعار یاد آنے لگے۔

حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہنر کر
کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

اس بوڑھے بلوچ کا نام عبدالقدیر بلوچ ہے جسے اب دنیا ماما قدیر بلوچ کے نام سے جانتی ہے۔ ماما قدیر بلوچ کو پاکستان کے ریاستی ادارے دشمنوں کا ایجنٹ اور غدار کہتے ہیں لیکن اس بوڑھے شخص نے کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد کی طرف پیدل سفر کرکے پوری دنیا کو بلوچ کے لاپتہ افراد کی طرف متوجہ کیا ہے۔ کچھ سال پہلے ماما قدیر بلوچ کا بیٹا بھی لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس کے بیٹے کو ایک طاقتور ریاستی ادارے نے اغوا کیا۔ جب اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملا تو ایک دن اس کی ماما قدیر سے فون پر بات بھی کروا دی گئی۔ ماما قدیر سے کہا گیا کہ وہ خاموشی اختیار کرے تو اس کے بیٹے کو رہا کر دیا جائے گا لیکن پھر ایک دن ماما قدیر کو اس کے بیٹے کی مسخ شدہ لاش دیکر ریاست نے اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا۔ جوان بیٹے کی موت کے دکھ کو بوڑھے ماما قدیر بلوچ نے اپنی طاقت بنا لیا اور وہ پچھلے کئی ماہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ پاکستان کی سڑکوں پر لانگ مارچ کر رہا ہے۔

طاقتور اداروں نے جگہ جگہ بارود کی بدبو سے ماما قدیر بلوچ کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن اس کے جذبوں کی خوشبو ہر دفعہ بارود کی بدبو پر حاوی ہوئی۔ وہ آگے بڑھتا گیا اور طاقتور ریاست کے اخلاقی دیوالیہ پن کو بے نقاب کرتا گیا۔ اس ریاست کے پاس ایک آئین ہے یہ آئین کہتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جب کسی کو گرفتار کریں تو اسے 24گھنٹے میں عدالت میں پیش کریں۔ اعلیٰ عدالتوں تک ماما قدیر بلوچ کی فریاد پہنچی تو انہوں نے بھی حکومت کو حکم دیا کہ لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرو لیکن طاقتور اداروں نے عدالتوں کے احکامات کو اپنے بھاری بھر کم بوٹوں کی نوک پر لکھا ۔جب بھی کسی ادارے کے اعلیٰ افسر کو عدالت نے بلایا تو وہ بیماری کا بہانہ بنا کر راولپنڈی کے ایک مشہور فوجی ہسپتال میں جا چھپا لیکن ماما قدیر کا سفر جاری رہا۔

جب وہ کوئٹہ سے کراچی پہنچا تو اسکی ٹانگیں سوج چکی تھیں اور پیروں پر زخم بن چکے تھے۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ وہ کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرے گا۔ میں نے کہا ایک اور لمبا سفر کیوں؟ ماما قدیر بلوچ نے جواب دیا کہ کوئٹہ سے کراچی کے سفر نے دنیا کو یہ تو بتا دیا کہ بلوچوں کے ساتھ بڑی نا انصافی ہوئی لیکن ہمارے لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوئے۔ ہمیں انصاف نہیں مل رہا اس لئے میں کراچی سے پیدل نکلوں گا پورے سندھ اور پنجاب سے گزرتا ہوا اسلام آباد پہنچوں گا شائد پنجاب جاگ جائے، شائد پاکستان جاگ جائے، شائد ہم مظلوم لوگوں کو انصاف مل جائے۔ ماما کی باتیں سن کر میں خاموش رہا۔ میں سوچتا رہا اگر پنجاب نہ جاگا، اگر پاکستان نہ جاگا اگر بلوچستان کے لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو پھر کیا ہو گا؟ میں سوچتا ہی رہا اور ماما قدیر نے فرزانہ مجید بلوچ اور دیگر مظلوموں کے ساتھ نیا سفر شروع کر دیا۔

جب ماما قدیر بلوچ سندھ سے جنوبی پنجاب میں داخل ہوا تو اسے تنگ کیا جانے لگا۔ مشکوک گاڑیوں میں سوار نامعلوم افراد اسے دھمکیاں دینے لگے کہ اپنا سفر بند کرو ورنہ انجام بہت برا ہو گا۔ اوکاڑہ کے علاقے میں ماما قدیر بلوچ کے پرامن قافلے پر ٹرک چڑھا دیا گیا جس کے باعث مارچ کے کچھ شرکاء زخمی ہو گئے۔ ماما قدیر بلوچ کو ایک موہوم سی امید تھی کہ شائد وہ لاہور پہنچے تو لاہور والے جاگ جائیں گے اور اسے اپنے گلے لگا کر کہیں گے کہ سب پنجابی تمہیں پاگل اور غدار نہیں سمجھتے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ وہ لاہور پہنچا تو صحافیوں، سول سوسائٹی کے کچھ لوگوں اور بائیں بازو کے پرانے سیاسی کارکنوں نے اس کا استقبال تو کیا لیکن کروڑوں کے شہر میں چند درجن افراد کی تسلیاں کافی نہ تھیں۔ کچھ صحافیوں نے ماما قدیر کو لاہور میں بتایا کہ طاقتور اداروں کا دبائو ہے کہ اس بڈھے بلوچ سے دور رہو یہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ماما قدیر کو یہ باتیں ایک ایسے شہر میں سننی پڑیں جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے لیکن اس دل میں بلوچوں کیلئے درد کی ایک ہلکی سی لہر بھی نہ اٹھی۔ اس شہر سے تعلق رکھنے والا حکمران طبقہ بلوچوں سے ہمدردی کے بڑے دعوے کرتا ہے لیکن ماما قدیر بلوچ نے چند درجن عورتوں اور بچوں کے ہمراہ لاہور میں داخل ہو کر اس حکمران طبقے کی منافقتوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔

افسوس کہ اس شہر میں اب کوئی فیض احمد فیض نہیں، کوئی حبیب جالب نہیں جو غداری کے الزامات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہے کہ محبت گولیوں سے نہیں بوئی جا سکتی۔ وطن کا چہرہ خون سے دھویا جائے تو منزلیں کھو جاتی ہیں۔ اس شہر میں ہر طرح کے کھابے ہیں، رنگینیاں ہیں، خوبصورت سڑکیں اور بلند وبالا عمارتیں بھی ہیں، یہاں مینار پاکستان بھی ہے لیکن جب ماما قدیر بلوچ اس مینار پاکستان کے سامنے سے گزرا تو شائد اس مینار کی آنکھوں سے بھی بے بسی کے کچھ آنسو ٹپکے ہونگے۔ لاہور سے مایوس ہو کر ماما قدیر جی ٹی روڈ پر سفر کرتا ہوا گجرات پہنچا تو پنجاب پولیس کے مسلح کمانڈوز نے راستہ روک کر کہا اوپر سے حکم آیا ہے تم واپس چلے جائو۔ ماما قدیر بلوچ اور اس کے ساتھ سفر کرنے والی عورتیں اور بچے ڈٹ گئے۔ آخر کار مسلح پولیس کمانڈوز راستے سے ہٹ گئے۔ ماما قدیر آگے بڑھتا گیا اور پنجاب کے حکمرانوں کے چہرے کی اصلیت سے نقاب ہٹاتا گیا۔

جب وہ فون پر مجھے گجرات کے واقعے کی تفصیلات بتا رہا تھا تو میرا احساس جرم مزید شدید ہو گیا۔ فون بند ہوا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ تم پنجاب کے اس حکمران طبقے کو بلوچوں کا غمگسار کیوں سمجھتے رہے ؟ یہ طبقہ بندوق برداروں کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہو جاتا ہے لیکن نہتے اور پرامن بلوچوں کو پنجاب کی سڑکوں پر پیدل مارچ کرتے دیکھ کر اس طبقے کی نمائشی پاکستانیت غیرت میں آکر ہوش وحواس گم کر بیٹھتی ہے۔ میں جانتا ہوں میری باتیں اہل پنجاب کو بہت بری لگیں گی لیکن آج مجھے اپنے احساس جرم کی وجہ سمجھ آ گئی ہے اور وجہ یہ ہے کہ میں لاہور میں پیدا ہوا تھا۔ ہمیشہ لاہور کو پاکستان کا دل سمجھتا رہا لیکن لاہور والوں کو اہل بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے احساسات سے آگاہی نہیں۔ اے پاکستان کے دل تم کب جاگو گے ؟

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.