.

تاریخ سازی

نصرت جاوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان قائم تو اگست 1947ء میں ہوا تھا مگر ہم خود کو بہت پرانی اور مایہ ناز تاریخ کا وارث بھی گردانتے ہیں۔ یہ سوال اگرچہ میرے ذہن میں اکثر اُٹھتا رہتا ہے کہ ’’ہماری‘‘ تاریخ ہے کیا؟ پاکستان پیپلز پارٹی جیسی نسبتاً پرانی جماعت کے نوعمر سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے چند روز پہلے بڑے اشتیاق سے سندھ کی تاریخ کو موئن جودڑو سے شروع کرنا چاہا تو منطقی طور پر کئی پارساؤں نے سوال اٹھایا کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے شہر دلی کے عجائب گھر میں رکھی اور پہلی نظر میں عریاں دِکھتی رقاصہ کے مجسمے سے وابستہ تاریخ وتہذیب سے ہمارا کیا تعلق۔ ’’ہم‘‘ تو ویسے بھی بت شکن ہوا کرتے ہیں۔ سندھ تو درحقیقت باب السلام ہے۔

17سالہ محمد بن قاسم نے اپنے زمانے کے Stinger یا Drone جیسے حیران کن ہتھیار منجنیق کے ذریعے دیبل کے قلعے کو مسمار کرنے کے بعد یہاں اسلام کا جھنڈا گاڑا تھا۔ اس کی آمد سے شروع ہونے والی روایات نے بالآخر اس خطے کو دو قومی نظریہ دیا جو قیام پاکستان کی بنیاد ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسی بنیاد کی بدولت ہمیں قراردادِ مقاصد ملی جس نے 1973ء کے متفقہ طور پر منظور شدہ آئینِ پاکستان کو حقیقی اسلام کے نفاذ کا مظہر بنایا۔ ان دنوں مولانا سمیع الحق اور مولانا عبدالعزیز کی رہ نمائی میں اس آئین کو مزید موثر بنانے کے لیے نواز شریف صاحب کی تیسری منتخب حکومت میرے اور آپ سے کہیں بہتر مسلمان مانے جانے والوں سے مذاکرات کررہی ہے۔ یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو ’’ہماری‘‘ تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار پائیں گے۔

مجھے اکثر یہ خیال بھی آتا ہے کہ ہم ’’اپنی‘‘ تاریخ کے حوالے سے دراصل خود کو ایک ان کہے احساسِ کمتری کا شکار محسوس کرتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے مسلسل ’’تاریخ بنانے‘‘ میں مصروف رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنرل ضیاء الحق نے اقوام متحدہ میں نہیں بلکہ پاکستان ٹیلی وژن کے ذریعے کلامِ پاک کی تلاوت سے جنرل اسمبلی میں ادا کی ایک تقریر کے آغاز سے ’’تاریخ‘‘ بنائی۔ ان کی فضائی حادثے میں شہادت یا ہلاکت بھی ایک ’’تاریخی‘‘ بات تھی۔ ان کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے عالم اسلام کی پہلی منتخب حکمران خاتون کی حیثیت میں ’’تاریخ‘‘ بنائی۔ ان کا اپنی دونوں حکومتوں کی آئینی مدت مکمل نہ کر پانا بھی ایک تاریخی حوالہ ہے۔ یہ حوالہ نواز شریف کا مقدر بھی بنا۔ مگر انھوں نے اصل ’’تاریخ‘‘ یوں بنائی کہ بجائے ایک فوجی آمر کے ہاتھوں سزا پانے کے سعودی عرب کی شاہی میزبانی سے لطف اٹھانے جلاوطنی میں چلے گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف صاحب جب اپنے حصے کی تاریخ بناچکے تو تاریخ سازی کا بیڑا وکلاء نے اٹھالیا۔ جسٹس افتخار چوہدری ایک نہیں دوبار بحال ہوئے اور پاکستان میں تاریخ کو عدالتی گھوڑے پر بٹھا کر سرپٹ دوڑانا شروع کردیا۔

چوہدری صاحب کے چلے جانے کے بعد وہ گھوڑا ذرا سست ہوتا نظر آرہا تھا۔ مگر خدا بھلا کرے جنرل (ر) پرویز مشرف کا۔ لندن اور دوبئی میں اچھے بھلے دن گزار رہے تھے اور زندگی کے معمولات ایسے جو بہت سے ریٹائرڈ جرنیل اپنے خوابوں میں سجاتے ہوں گے۔ نجانے کیوں 2013ء کے انتخابات کے قریب پاکستان کے مسیحا بننے کے گھمنڈ کے ساتھ وطن لوٹ آئے۔ پاکستانی قوم یوں لگتا ہے کہ بہت سارے ’’تیزرو‘‘ مسیحاؤں کے ساتھ تھوڑی دیر چلنے کے بعد اب کچھ اُکتا چکی ہے۔ویسے بھی عمران خان کی صورت ایک ممکنہ مسیحا پہلے ہی سے ہمارے درمیان موجود ہے کسی اور کے لیے گنجائش فی الحال موجود نہیں۔ مشرف صاحب کی ’’مغلِ اعظم‘‘ چل نہ پائی۔ وہ اپنے فارم ہاؤس میں نظر بند کردیے گئے۔ ان کی نظر بندی کے بعد تاریخ سازی ایک بار پھر ان کے بجائے عدلیہ کے ہاتھ چلی گئی۔ اسی کے احکامات کے تحت نواز شریف حکومت نے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا اور کسی زمانے کے کسی سے نہ ڈرنے والے کمانڈو نے عدالت کے سامنے پیش ہونے کے بجائے AFIC میں پناہ لے کر جان بچاناچاہی۔ کمانڈو کے اسپتال پہنچ جانے کے بعد کش مکش شروع ہوگئی۔ مگر اب وہ بھی اپنے انجام تک پہنچ گئی ہے۔ جنرل مشرف صاحب عدالت کے روبرو پیش ہوگئے ہیں۔ ’’تاریخ‘‘ یقینا بن گئی ہے کہ ایوب خان، یحییٰ خان اور جنرل ضیاء کے سنوارے اس ملک کا چوتھا فوجی آمر بالآخر ایک خصوصی عدالت میں حاضر ہوا ہے۔

غداری کا الزام ان پر اب بھی باقاعدہ طور پر نہیں لگایا جاسکا ہے۔ پہلے اس قانونی نقطے پر فیصلہ ہوگا کہ کسی جنرل پر اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مقدمہ فوجی عدالت میں چلے یا ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت میں۔ فیصلہ جو بھی ہو میں ذاتی طورپر جنرل مشرف صاحب کے حوالے سے ’’تاریخ سازی‘‘ کی اذیت کو مزید بھگتنے کو تیار نہیں۔ ہماری قوم کے بہت سارے معاملات 70سال کے اس ایک فرد کے مستقبل سے کہیں زیادہ گھمبیر ہوچکے ہیں۔ ان کا حل ڈھونڈنے کے لیے خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے فکری آزادی کے ساتھ جو سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں انھیں کم از کم میں اٹھانے کا تو حوصلہ بھی نہیں پاتا۔ میں تو خیر فطری طور پر بزدل واقع ہوا ہوں۔ ہمارے میڈیا کے کئی جانے پہچانے سورماؤں کے پر بھی اس ضمن میں کچھ مقامات تک پہنچنے سے پہلے جلتے نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ ’’تاریخ سازی‘‘ کو خدا حافظ کہتے ہوئے اپنے حال میں مست رہنا شروع کر دیں۔

بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.