.

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی گلوکار ہنس راج ہنس دائرہ اسلام میں داخل تو کب کا ہو چکا مگرقبول اسلام کا اعتراف اس نے قائداعظم کے الفاظ میں ’’اسلام کی تجربہ گاہ‘‘ پاکستان میں کیا۔ وہ محمد یوسف کے طور پر مدینہ منورہ میں حاضری کا خواہش مند ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی آرزو پوری کرے کہ حاضری فقط آرزو کی بات نہیں اس کے لیے بلاوا ہے جس نے اس پر اسلام کا دروازہ کھولا وہ اس صوفی گلوکار پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کا باب وا ضرور کریگا۔ ان شاء اللہ۔ ہنس راج ہنس سے پہلے ایک بھارتی اداکارہ ممتا کلکرنی اسلام قبول کر چکی ہے اور مصنوعی روشنیوں کی دنیا سے دور کینیا میں مقیم ہے۔

نائن الیون کا واقعہ مسلمانوں کے لیے ابتلا، اذیت، پریشانی اور گوناگوں مشکلات کا باعث بنا۔ انتہا پسند اور بنیاد پرست کا نام انہیں کمیونزم کی شکست فاش کے بعد دیا جا چکا تھا، دہشت گرد وہ 9/11 کے بعد قرار پائے۔ ٹوئن ٹاورز کے ملبے سے اٹھنے والے سیاہ دھوئیں کی کالک سے اسلام اور مسلمانوں کے چہرے کو داغدار کرنے کی کوششیں عروج پر پہنچ گئیں مگر تدبیر کندہ بندہ تقدیر زند خندہ ۔

امریکہ نے نیٹو کے ساتھ مل کر افغانستان اور عراق میں مسلمانوں پر ڈیزی کٹر بم اور کروز میزائل برسانے شروع کیے تو صلیبی جنگ شروع کرنے والے بش اور اس کے پوڈل ٹونی بلیئر کا خیال تھا کہ دو چار ماہ میں ’’بنیاد پرستوں‘‘ ’’انتہا پسندوں‘‘ ’’دہشت گردوں‘‘ اور ’’غلبہ اسلام‘‘ کی مالا جپنے والوں کا مکمل خاتمہ کر کے ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ نافذ ہو گا اور پوری دنیا مذہب دشمن سیکولر ازم، عریاں و فحش تہذیب اور سودی نظام معیشت کا کلمہ پڑھے گی مگر

؎ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔

افغانستان پر وحشیانہ فوجی حملے کے بعد اسلام، قرآن مجید اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے تحقیق و مطالعہ کا شوق عام ہوا، غیر مسلموں میں اسلام کو جاننے کی لگن پیدا ہوئی اور مسلمانوں میں اپنی شناخت کا جذبہ پوری طاقت سے ابھرا۔ آج امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ اور ڈنمارک میں اسلام تیزی سے پھیلنے ، بڑھنے والا مذہب ہے اور بہت سے مغربی محققین یہ خدشہ ظاہر کر رہے کہ بعض یورپی ممالک میں قبول اسلام کی موجودہ رفتار ڈیما گرافی تبدیل کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

بش کے پوڈل ٹونی بلیئر کی سالی لورین بوتھ 2010ء میں اسلام قبول کر کے نئی زندگی کا آغاز کرچکی ہے۔ صحافی اور براڈ کاسٹر لورین بوتھ حجاب اوڑھتی اور نماز ِ پنجگانہ ادا کرتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دلآزار فلم بنانے والا آرناڈو وین ڈرو پچھلے سال مسلمان ہو چکا۔ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ڈچ فلمساز وین ڈرو نے انٹرویو میں بتایا کہ ’’اسلام کے بارے میں پڑھ کر اس امن پسند مذہب کے بارے میں میرے متعصبانہ خیالات تبدیل ہوئے اور اب میں اپنے گناہوں کی معافی مانگنےاور نبی ٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن میں پناہ لینے کے لئے مقدس سر زمین پر آیا ہوں۔‘‘

ڈنمارک میں دلآزار خاکوں کی نمائش کے بعد اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھی۔ ایک نو مسلم عبدالوحید ایڈیسن کے مطابق کم و بیش چار ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا اور قرآن مجید کی اشاعت و تقسیم کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ میں مجموعی طو پر پچیس ہزار افراد نے کلمہ پڑھا۔ یہی حال ناروے، سویڈن کا ہے۔ یہ مسلمانوں کو اجڈ، گنوار، وحشی، غیر مہذب ثابت کرنے کی نفرت انگیز مہم کا ردعمل ہے یا اللہ کے دین اسلام اورمحبوب ﷺ کے خلا ف دلآزار کارروائیوں کا قدرت کی طرف سے جواب، خدا ہی بہتر جانتا ہے مگر جن معاشروں میں اسلام کو دبانے اور مسلمانوں کو جھکانے کی مہم زوروں پر ہے وہاں سلیم الفطرت انسانوں کے دل اسلام کے نور سے منور ہو رہے ہیں۔ ؎

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گاجتنا کہ دبا دیں گے

ہنس راج ہنس تازہ اضافہ ہے۔

وطن واپسی پر سیکولر بھارت میں ہنس راج کے ساتھ اس کے دوست، پاکستان و اسلام دشمن میڈیا اور فلم انڈسٹری کے کار پردازان کیا سلوک روا رکھتے ہیں فی الحال وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے مگر حال ہی میں اسلام قبول کرنے والے ایک امریکی سفارتکار جوزف سٹافورڈ کو وائٹ ہائوس نے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ سوڈان میں امریکہ کے قائم مقام سفیر Joseph D. Stafford نے انصار السنہ کے مرکز میں پہنچ کر اسلام قبول کیا اور فوری بعد ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے دیا۔ سوڈان ٹربیون کے مطابق انہیں منصب سے علیحدگی پر مجبور کیا گیا اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ روشن خیال، روادار اور سیکولر ازم کے علمبردار امریکہ و یورپ میں اسلام قبول کرنے والوں سے بد سلوکی کوئی نئی بات نہیں۔

ایم ٹی وی کی مقبول اینکر کرسٹائن بیکر نے اسلام قبول کیا تو اسے ملازمت سے برخاست ہونا پڑا اور یورپ کے کسی ملک کا کوئی چینل اس خوبرو، تیزطرار، حاضر جواب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ مقبول اینکر کو ملازمت دینے کا روادار نہ تھا حتیٰ کہ اس کی کتاب MTV to MAKKA کی اشاعت پر کوئی پبلشر تیار نہ ہوا۔ یونے ریڈلی (حال مریم) طالبان کی قید سے رہا ہو کر برطانیہ پہنچی تو افغان طالبان کی خوش اخلاقی اور حسن سلوک کا ذکر کرنے پر اسے اپنے ساتھی اخبار نویسوں، معاشرے اور عزیز و اقارب کی طرف سے طنز و تضحیک، دلآزار سلوک اور توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ In the hands of the Taliban میں تفصیل موجود ہے۔

ایک عربی مجلے کو انٹرویو دیتے ہوئے Yvonne Ridle نے بتایا ’’بظاہر میں جاسوس تھی۔ پھر میں نے انہیں (طالبان تفتیش کاروں کو) اشتعال دلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ میں نے تفتیش کاروں کے منہ پر تھوکا، انہیں گالیاں دیتی رہی، بری طرح دھتکارتی رہی، اس کے جواب میں وہ مجھے اپنی بہن اور معزز مہمان کہتے رہے۔ رہنے کے لئے ایئرکنڈیشنڈ صاف ستھرا کمرہ دیا۔ اس کا موزانہ ابو غریب جیل اور گوانتانامو بے رکھے گئے بیگناہ افغان اور عراقی قیدیوں سے کیجئے امریکی ان سے غیر انسانی سلوک کر رہے ہیں۔ بتایئے ان میں سے مہذب اور شائستہ کو ن ہے؟ گنوار اور اجڈ کون؟'

ریڈلے نے اپنے قارئین بالخصوص مسلم نوجوانوں کو نصیحت بھی کی ’’میں نے مغربی معاشرے کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ نام نہاد تہذیب اور اس کے معاشرے کو باریک بینی سے دیکھنے کی وجہ سے میں جانتی ہوں کہ یہ کتنا خطرناک معاشرہ ہے۔ دور سے بہت خوبصورت اور چمکدار مگر قریب جا کر دیکھو تو بھیانک۔ یہ صرف تن و جاں اور مادیت سے تعلق رکھتا ہے اور روحانی اقدار کے لئے تباہ کن۔

اس میں شک نہیں کہ مسلمان اس وقت خوار و زبوں ہیں، دل گرفتہ و دل شکستہ، ذلت و رسوائی کا شکار مگر یہ اسلام سے وابستگی کے سبب نہیں قرآن مجید سے دوری اور اسوہ ٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم پیروی کا نتیجہ ہے ورنہ اسلام آج بھی سلیم الفطرت انسانوں کے لئے پرکشش ہے۔ دل مسخر، دماغ فتح اورآنکھیں خیرہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال۔ ہنس راج، ممتا کلکرنی، جوزف سٹافورڈ، یونے ریڈلے، لورین بوتھ، کرسٹائن بیکر اور ہالینڈ میں امریکہ کی سابقہ سفیر یاسمین علی کے قبول اسلام ، ہالی وڈ، بالی وڈ اور دانش افرنگ سے مرعوب دانشوروں اورامریکہ و یورپ کی پروپیگنڈا تکنیک سے مہذب حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو ڈھٹائی سے یہ کہتے ہیں کہ چودہ سو سال پہلے کا اسلام چھوڑو مذہب عصر کی بات کرو یعنی مشینوں کی حکومت اور قلب و روح کی موت کا سودا۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.