.

اِدھر ہم ، اُدھر تم۔ اے کاش!

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے دو مشہور افراد منظر ِ عام پر آئے ہیں…ساحر لدھیانوی اور مولانا محمد احمد لدھیانوی، تاہم ہماری قسمت دیکھیں کہ ہمارے حصے میں شاعر ساحر لدھیانوی، جن سے بہتر فلمی گیت شاید ہی کوئی لکھ سکتا ہو، نہیں بلکہ مولانا محمد احمد لدھیانوی آئے جن کی ہدایت گناہ گار انسانوں کو اس دنیا اور اس کی آلائشوں سے نجات دلاتے ہوئے فی الفور آسمانوں کی راہ دکھاتی ہے۔ نصیب اپنا اپنا! پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا فروغ، جو ہمارا داخلی تہذیبی ارتقا ہے، سپاہ ِ صحابہ، جو محض رسمی پابندی کے بعد اہل سنت والجماعت کے روپ میں موجود ہے، کے ذکر کے بغیر نامکمل رہے گا۔

ذی وقار مولانا لدھیانوی، جن کے آبائو اجداد انڈیا کے مردم زرخیز شہر لدھیانہ کے رہنے والے تھے، اس جماعت کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کو اپنے پاکیزہ نظریات کی روشنی میں ڈھالنے کی سعی میں دن رات مصروف عمل ہیں ۔دوسری طرف ساحر لدھیانوی اور ان کی والدہ نے ساحر کے والد جو کثیر الاازدواج تھے، کے سخت گیر روئیے سے بچ کر تقسیم ِ ہند سے قبل ہی لاہور میں پناہ لے لی تھی لیکن، اگر میری یاداشت ساتھ دے رہی ہے، ساحر 1949 کے بعد یہاں قیام نہ کرسکے اور بمبئی (موجودہ ممبئی) جا کر سنہری اور ناقابل ِفراموش فلمی گیت جو برصغیر کے کروڑوں افراد کے دلوں کی دھڑکن بن گئے، لکھنے لگے جب کہ ہمارے دیس کو وعظ و نصیحت کرنے والے مولانا اور ان کے ہمنوا جو صرف زبان سے کہے کو کافی نہیں سمجھتے تھے، نے پاکیزہ بنانے کا بیڑا اٹھا لیا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی مکروہات ، جیسا کہ امن و سکون اور عقل وغیرہ بھی یہاں سے اٹھ گئے۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے حیدرآباد دکن کے قصبے اورنگ آباد میں آنکھ کھولی اور حیدر آباد کے نزدیک دارالعلوم میں تعلیم حاصل کی۔ سیاسی طور پر اُنھوں نے قیام ِ پاکستان اور مسلم لیگ کی قیادت کی مخالفت کی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ (مولانا کے نزدیک) اسلام کے پیمانوں پر پورے نہیں اترتے۔ تاہم جب پاکستان وجود میں آ گیا تو مولانا نے وقت ضائع کیے بغیر اس ’’غیر اسلامی ملک‘‘ کی طرف ہجرت کی۔ اُنھوں نے لاہور کی ایک بستی اچھرہ میں قیام کیا اور اپنے مذہبی تصورات کی ترویج کے لئے ایک پارٹی، جماعت ِ اسلامی، کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کی بدقسمتی کہہ لیں کہ جماعت اسلامی نے اپنے طلبہ ونگ، کے ذریعے تعلیمی اداروں پر اپنے نظریات کا اثر جمانا شروع کر دیا۔ جسے برس ہا برس تک اس کو تعلیمی اداروں ، جیسا کہ کالج اور یونیورسٹیوں، پر قبضہ کرکے عدم برداشت اور تشدد کے نظریات کی ترویج کرنے کی کھلی چھٹی مل گئی۔ ان کے نظریات میں ڈھلے ہوئے ذہن اب قومی سطح پر ہر رنگ میں موجود ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں تعلیم کے انحطاط کے بہت سے عوامل ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں ڈنڈا بردار اسلامی دستوں کا ہاتھ سب سے زیادہ ہے۔ اسی ڈنڈے نے آگے چل کر، ترقی پاتے ہوئے کلاشنکوف کا روپ دھارا۔ کاش مولانا مودودی ان نظریات پر قائم رہتے جن کا اظہار اُنھوں نے مسٹر جناح کے حوالے سے تواتر کے ساتھ کیا اور اس غیر اسلامی ملک‘‘ میں ہجرت نہ کرتے تو شاید آج ہماری قسمت بہت مختلف ہوتی ۔۔۔ لیکن صاحب قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے؟ پاکستان کے مسلمانوں کو مزید مسلمان بنانے کی جملہ مساعی میں مصروف بہت سی مذہبی شخصیات قومی منظر پر موجود تھیں لیکن ان میں سے کسی کوئی بھی عزم، تصورات اور علمی طور پر مولانا مودودی کے ہم پلہ نہ تھا۔ مولانا علمی پس منظر رکھتے ہوئے اردو کے فصیح نثر نگار تھے، چنانچہ ان کا اثر دیگر علما کی نسبت عوام پر گہرا ثابت ہوا۔

پتہ نہیں یہ کہانی درست ہے یا غلط، مشہور شاعر فراق گورکھ پوری نے جب بھارت سے لاہور کا دورہ کیا تو فیض احمد فیض اُنہیں بازار ِ حسن لے گئے۔عروس ِ شب کی زلفوں کے خم نمایاں ہونے لگے، سب صاحب ِ ذوق گانے سے مدہوش تھے تو جام خالی محسوس ہوئے۔ مزید کی طلب ہوئی مگر ضیا کا دور تھا اس لئے مشروب نہ ملا۔ اس پر فراق صاحب نے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔’’کیا کم بخت تقسیم ہوئی ہے، حسن ایک طرف رہ گیا ہے تو شراب دوسری طرف۔‘‘(فراق صاحب نے ’’کم بخت‘‘ کی جگہ ایک ناقابل اشاعت مگر قابل ِ فہم استعارا استعمال کیا تھا)۔ بہرحال یہ فراق صاحب کا اظہار کردہ فرق شاعرانہ تعلّی تھا، ورنہ سرحد کے اُس پار حسن کی کمی نہیں جس طرح سرحد کے اِ س پار اُس مشروب کی جس کی اُنہیں وقتی کمی محسوس ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دور میں بازار حسن ایک حسین جگہ تھی کیونکہ فیض صاحب جیسے تعلیم یافتہ اور مشہور شخص کبھی بھی اپنے صاحب ِ ذوق مہمان کو کسی گھٹیا جگہ نہ لے جاتے۔ گمان کیا جانا چاہئے کہ فراق صاحب کو محسوس ہونے والی کمی ’’ہنگامی‘‘ تھی۔ تاہم اُس بازار میں حسن کی لو پر ہگاری کے چھینٹے نے بجا دی اور کچھ چراغ محفل شہر کی نئی آباد ہونے والی بستیوں کی طرف سدھارے۔

سنہ 1977 میں بھٹو حکومت کی طرف سے مشروبات پر پابندی عائد کرنے نے رہی سہی پوری کردی۔ لاہور کی پیشہ ور حسینائوں کے بہت سے گروہ سمندر پار دبئی کے قدر دانوں کے پاس چلے گئے۔ یہ ریاست اسلامی ہے لیکن رقص وموسیقی نے ان کے قدیم مذہبی تصورات اور نیکی اور پرہیزگاری کے جذبات کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہیں کیا۔ ہمارا ملک دبئی کی نسبت جغرافیائی طور پر بہت بڑا ہے لیکن یہاں مذہبی تصورات ہمیشہ خطرے کی زد میں سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علما ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ مسلمان بنانے کو اپنی زندگی کا فریضہ بنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ جس طرح مذہبی تصورات کی پختگی اور دیگر معاملات میں نااہلی ہمارے خمیر میں رچ بس گئی ، اس نے ہمیں دنیا کا سب زیادہ جنونی اور ناقابل ِ اعتبار ملک بنا دیا۔ اب وہ گلیاں جہاں بالکونیوں سے حسین چہرے جھانکتے تھے اور جہاں سے طبلے کی تال، ہارمونیم کے سر اور پازیب کی جھنکار دل میں مد بھرے جذبات جگاتے تھے، اب وہاںکوئی کالج یا یونیورسٹی نہیں بلکہ جوتوں اور کھسوں کی دکانیں کھل گئی ہیں۔

دوکانیں کھولنے کے ہمارے خبط سے ایسا لگتا ہے کہ لاہور ایک بہت بڑے شاپنگ پلازے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ لاہور کی رومانوی مال روڈ، جس کے فٹ پاتھ پر کبھی شرفا سہ پہر کو پر سکون ماحول میں چہل قدمی کرتے تھے، اس کے چائے اور قہوہ خانوں میں نامی گرامی دانشور، ادیب اور وکلا اور سلیقہ مند افراد نظر آتے تھے، اب ایک مختلف جگہ ہے۔ یہ وہ سڑک تھی جہاں ہمیں اپنا ’’اکسفورڈ‘‘ آباد کرنا تھا لیکن اب یہ جگہ بڑی حد تک ’’موچی پورہ ‘‘ بن چکی ہے اور یہاں جوتوں کے بہت زیادہ شو روم ہیں۔ جب دل سے آہ نکلتی ہے تو یہ سوچ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ شاید اس ریاست، جہاں ہم نے ہنوز ہم نے اپنی ریاست کی تخلیق کے مقصد کو سمجھنا ہے، میں زندگی کا ارتقا انہی خطوط پر ہونا ہے۔ پرانے لاہور میں شاعر، ادیب، دانشور، مقرر اور گلوکار عوامی مقامات پر پائے جاتے تھے اور آپ کو زندگی کا پھر پور قہقہہ سنائی دیتا تھا۔ Peter Ustinov نے قہقہے کو زندگی کی سب سے مہذب صدا قرار دیا تھا ۔ اُس لاہور میں علمی اور فکری موضوعات پر مکالمے کی روایت موجود تھی… آج گولی اور گالی کی۔ میں ناسٹل جیا کا شکار نہیں لیکن فیض، منیر نیازی، صوفی تبسم، پطرس بخاری، حبیب جالب، استاد امن اور استاد امانت علی خاں کا لاہور ایسا نہ تھا جس کی سڑکوں پر ہم اب دفاع پاکستان کونسل کے رہنمائوں، جیسا کہ حافظ سعید اور مولانا لدھیانوی، کے لشکروں کے مارچ ہوتے دیکھتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے بنچ کی سربراہی کبھی جسٹس رستم کیانی کیا کرتے تھے، آج اس بنچ سے گورنر سلمان تاثیر کے جسم پر سرکاری رائفل کا میگزین خالی کرنے والے پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں۔

اس ماحول میں یہ بات حیران کن نہیں کہ طالبان کی طرف سے ایف سی کے 23 جوانوں کو بے دردی سے ذبح کیے جانے اور اس سفاک حرکت کی ویڈیو، جسے دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے، نیٹ پر فوری طور پر ڈالے جانے کے بعد بھی ہمارے حکمران اس شش و پنچ میں مبتلا ہیں کہ اب کیا کیا جائے۔ پنجاب کے سکھ، نہ مسلمان، جنگ آزما قوم تھے۔ تقسیم کے بعد ہمارے پاس وہ جنگ آزما بازو نہ رہے جبکہ اندھیرے کی طاقتوں نے ہمیں گھیر لیا۔ کیا امرتا پریتم، جس نے وارث شاہ کو پکارا تھا، کی طرز اپناتے ہوئے ہمیں آج کسی رنجیت سنگھ کو آواز دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ہمیں بچانے کے لئے آئے کیونکہ ہم تو اس جرأت سے تہی داماں ہیں جو ان قاتلوں کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے درکار ہے؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.