.

خبردار

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 2014ء تبدیلیوں کا نہیں، پورے کھیل کی تبدیلی کا سال ہے۔ وہ کھیل جس کے کھلاڑیوں میں امریکہ، روس، چین اور ہندوستان سے لے کر ایران اور ترکی تک، سب عالمی اور علاقائی قوتیں کھلاڑی ہیں اور جس کا میدان افغانستان اور پاکستان ہیں۔ وہ کھیل نہ صرف فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گیا ہے بلکہ ایک نئی اور بھیانک شکل اختیار کر رہا ہے۔ اگلے سال افغانستان کی سیاست کا نقشہ یہ نہیں ہوگا جو اس وقت ہے ۔ افغان طالبان کی پوزیشن بدل رہی ہے ۔ پاکستانی اور افغانی طالبان کے تعلق کی نوعیت بدل رہی ہے۔ لگتا ہے کہ آج کے دوست کل کے دوست نہیں ہوں گے اور آج کے دشمن کل کے دشمن نہیں ہوں گے ۔ سفارتی اور تزویراتی محاذوں پر بھی نئی صف بندیاں ہورہی ہیں یا پھر سارے کھیل کے رولز اور داو پیچ بدل رہے ہیں۔ داخلی محاذ پر ہم کراچی سے لے کر وزیرستان تک محدود جنگ سے نکل کر ایک بڑی جنگ میں داخل ہو رہے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے ہاںان تبدیلیوں کا ادراک نظر آتا ہے، احساس اور نہ تیاری۔ لگتا ہے کہ پاکستان کاغذ کی کشتیاں لے کر سمندروں کے سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔ ہہاں سیاست اور منافقت کا غلبہ ہے۔ ادارے آپس میں الجھے ہوئے ہیں ۔ وہ ہو رہا ہے جو نہیں ہونا چاہئے تھا او روہ نہیں ہو رہا جس کی امید تھی۔ لگتا ہے کہ ماضی سے کوئی سبق نہیں لیا گیا ۔ بعض حوالوں سے معاملات نوے کی دھائی سے بھی زیادہ خراب ہیں ۔ سر دست میں اس سوال کا جواب نہیں دے رہا کہ کون ٹھیک کر رہا ہے اور کون غلط ؟

آج کے کالم میں اس سوال کا بھی جواب نہیں دے سکتا کہ کیا ہونا چاہئے تھا بلکہ صرف اس پر اکتفا کر رہا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ؟۔ لیڈر ہوں، دانشور، جج اور نہ مفتی ۔ ایک مزدور اور صحافی ہوں ۔ جو کچھ محسوس کر رہا ہوں ، اسے قوم کے سامنے رکھنا اور اس کا تجزیہ کرنا میرا کام ہے ۔ میری معلومات میں سقم ہو سکتا ہے اور تجزیہ غلط ہو سکتا ہے ۔ انسان ہوں اور وہ بھی حد سے زیادہ گناہگار انسان ۔ تاہم جو کچھ دیکھا، سنا اور محسوس کیا ہے ، اس کا خلاصہ پوری دیانتداری کے ساتھ سامنے رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ اپنا کام خبر دینا ، خبردار کرنا اور جھنجھوڑنا ہے اور بس۔ اس تمہید کے بعد گزارش یہ ہے کہ حکمرانوں کا یہ دعویٰ کہ سیاسی قیادت اور فوج ایک صفحے پر ہیں، سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ بطورادارہ فوج اور سیاسی حکومت کے تعلقات اگر نوے کی دہائی سے زیادہ نہیں تو کم خراب بھی نہیں ۔ یہ ضرور ہے کہ فوج میں اس وقت کوئی پرویز مشرف نہیں لیکن عسکری اداروں کے صفوں میں بے چینی نوے کی دہائی سے کم نہیں ۔ فوجی حلقوں کی سوچ ٹھیک ہے یا غلط، سر دست میں اس کا جواب نہیں دے رہا لیکن مجموعی طور پر وہاں شدید بے چینی نظر آتی ہے ۔ بے چینی کا پہلا سبب ہندوستان کے ساتھ معاملات ہیں۔ جس طرح باقاعدہ سفارتی اور عسکری چینلز کو ایک طرف رکھ کر سابق افسروں یا پھر خاندان کے لوگوں کے ذریعے ہندوستان کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا جارہا ہے ، اس پر فوج بحیثیت ادارہ خوش نہیں اور بادل ناخواستہ سیاسی قیادت کے احکامات کی تعمیل کررہی ہے ۔ تنائو کا دوسرا سبب جنرل (ر) پرویز مشرف ہے۔ پرویز مشرف کی غلطیوں کے انبار کا حجم اپنی جگہ مارگلہ کے پہاڑ سے بڑھ کر ہے لیکن عسکری حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سنگل آوٹ کرکے ذلیل کیا جا رہا ہے ۔ وہاں یہ بھی تاثر عام ہے کہ بیرونی ثالثوں کے ذریعے سابق فوجی قیادت کے ساتھ اس معاملے پر حکومت کی طرف سے جو کمٹمنٹ ہوئی تھی، آرٹیکل چھ کا مقدمہ درج کرکے اس کی خلاف ورزی کی گئی ۔


درست یا غلط لیکن عسکری اداروں کی صفوں میں سپاہی سے لے کر بڑے افسروں تک یہ سوچ تقویت پا رہی ہے کہ جس طریقے سے پرویز مشرف کے سیاسی ساتھیوں کو ساتھ ملا لیا گیا ہے اور صرف سابق فوجی سربراہ کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو اس کا ہدف اس کیس کے ذریعے عسکری اداروں کو نیچا دکھانا ہے۔ طالبان اور افغانستان کے مسئلے کو جس طرح سیاسی حکومت ڈیل کر رہی ہے، اس پر بھی عسکری حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ بحیثیت مجموعی عسکری حلقوں میں حامد کرزئی کی حکومت سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاتی اور وہاں یہ سوچ فروغ پا رہی ہے کہ غیر ضروری طور پر پاکستانی اداروں کو حامد کرزئی کے قدموں میں بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تاثر جڑ پکڑ رہا ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے مواقع پر اپنے اداروں کا بھرپور دفاع کرنے کی بجائے سیاسی قیادت الٹا فریق ثانی کی وکالت کرتی نظر آتی ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات کی جو پہلی بساط بچھائی گئی، اس میں عسکری ادارے آن بورڈ نہیں تھے اور شاید اس لئے وہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ حکیم اللہ محسود کے خلاف ڈرون حملے سے قبل جو خفیہ مذاکرات ہورہے تھے، صرف اس میں عسکری ادارے آن بورڈ تھے لیکن اب کمیٹیوں کے ذریعے مذاکرات کا جو عمل شروع ہے، اس سے عسکری اداروں کو صرف آگاہ کیا گیا لیکن وہ پوری طرح شریک نہیں ۔ اس حوالے سے جو بات سب سے زیادہ غلط فہمیوں کا موجب بنی وہ یہ تھی کہ ایک روز قبل عسکری قیادت کے ساتھ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا پورا منصوبہ تیار کر لیا گیا ۔ خود وزیر داخلہ فرماتے ہیں کہ اسمبلی کے لئے وزیر اعظم کی جو تقریر تیار کی گئی تھی، وہ آپریشن سے متعلق تھی لیکن راتوں رات وزیر اعظم نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور مذاکرات کے لئے کمیٹی کا اعلان کر دیا۔ جو عسکری حلقوں کے لئے کسی سرپرائز سے کم نہیں تھا۔

حکومت فیصلہ کرکے عسکری قیادت کو آگاہ کر دیتی ہے اور اس سے اپنے آپ کو اس بات پر مطمئن کر لیتی ہے کہ عسکری قیادت آن بورڈ ہے لیکن ظاہر ہے کہ تحفظات کے باوجود عسکری قیادت انکار کرتی ہے اور نہ انکار کرسکتی ہے۔ آئینی اور اصولی لحاظ سے ایسا ہی ہونا چاہئے لیکن پاکستان میں ابھی اس کلچر کے فروغ میں بہت وقت لگے گا۔ یہاں تو سالوں سے روایت یہ چلی آ رہی ہے کہ عسکری حلقے فیصلے کرتے ہیں اور سیاسی قیادت ان پر عمل درآمد کی پابند سمجھی جاتی ہے۔ حکومتی ٹیم میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے بھی عسکری اداروں کے ساتھ معاملات خراب ہو رہے ہیں ۔ بعض وزراء کا عسکری اداروں کے بارے میں لہجہ انتہائی اشتعال انگیز جبکہ بعض کا نہایت چاپلوسانہ ہے۔ ایک وزیر عسکری حلقوں میں دوسرے کے خلاف اور دوسرا پہلے کے خلاف کان بھرتا رہتا ہے اور یوں غلط فہمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اسی طرح عسکری حلقے ان دنوں میڈیا سے بھی شدید ناراض ہیں ۔ جو تنقید ہو رہی ہے، عسکری اداروں نے کبھی اس کا سامنا نہیں کیا۔ عسکری حلقے اس کو جائز تنقید ماننے سے انکاری ہیں ۔ وہاں یہ سوچ فروغ پا رہی ہے کہ میڈیا، سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کے بعض حلقے مل کر پرویز مشرف، طالبان اور ہندوستان کے معاملات کی آڑ میں عسکری اداروں کی توہین کر رہے ہیں ۔

کئی حلقے تو میڈیا کی تنقید کو پاکستان کے عسکری اداروں کے خلاف منظم عالمی سازش کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اب اگر یہ تجزیہ صحیح ہو تو کیا ہم اداروں کے ٹکرائو کی طرف نہیں جا رہے اور کیا ان حالات میں یہ ملک اداروں کے درمیان تنائو یا ٹکرائو کا متحمل ہوسکتا ہے ؟۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ڈرامہ بازی کی بجائے بڑے پیمانے پر سول ملٹری مکالمے کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ؟۔ تبھی تو میں التجائیں کر رہا ہوں کہ آگے بڑھنے سے قبل ہنگامی بنیادوں پر ایک ایسے سول ملٹری مکالمے کا اہتمام کیا جائے کہ جس میںدونوں فریق تکلفات میں پڑے بغیر کھل کر ایک دوسرے کے سامنے اپنی اپنی سوچ رکھ دیں۔ ایک دوسرے کے تحفظات اور اعتراضات سنیں اور پھر اتفاق رائے سے نئے رولز آف گیم بنالیں ۔ جیسے بھی ہیں سوار تو ہم ایک کشتی کے ہیں اور اگر خاکم بدہن ڈوبنا ہوا تو سب ایک ساتھ ڈوبیں گے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.