.

طالبان نے کس کے ہاتھ مضبوط کیے؟؟؟

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان آئین کو نہیں مانتے اس لیے ان سے بات نہیں ہو سکتی۔ بہت اچھا ہے۔ مگر اُن کے بارے میں کیا خیال ہے جو آئین کی اسلامی شقوں کو نہیں مانتے۔ جو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوے کھلے عام پاکستان کی نظریاتی اساس کے خلاف بات کرتے ہیں۔ جو پاکستان کے آئین میں اسلامی شقوں کو اٹھارویں ترمیم میں قائم رکھنے پر پارلیمنٹ کے ممبران کو ’’الو کے پٹھے‘‘ کہتے ہیں۔ جو پاکستان کے آئین کا نام تو لیتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔ جو فراڈ اور دھوکہ کے لیے آئین کی اسلامی شقوں کو اپنے نعروں اور تقریروں میں استعمال کرتے ہیں۔ جو آئین کی پاسداری کی قسم تو اُٹھاتے ہیں مگر اس پر یقین نہیں رکھتے۔ جو قرارداد مقاصد اور اسلامی نظریہ پاکستان کی کھلے عام مخالفت کرتے ہیں۔ یہ لوگ انگریزی بولتے ہیں، سوٹ ٹائی پہنتے ہیں، اپنے آپ کو سیکولر کہلواتے ہیں، امریکا و یورپ سے بڑے بڑے ایوارڈ لیتے ہیں۔

ان کی درسگاہوں میں پڑھتے ہیں، ہندوستان میں بھنگڑے ڈالتے ہیں، ہندوستان میں جا کر پاکستان کے قیام پر نوحہ پڑھتے ہیں، حتی کہ پاکستان کے خلاف ہتھیار بھی اٹھاتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے لیے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے دروازے بھی کھلے ہیں، ان کو وزیر، مشیر بھی بنایا جاتا ہے، ان کو گورنر اوروزیر اعلیٰ کے عہدے بھی دیے جاتے ہیں۔ ان کو بڑے بڑے سرکاری دفاتر میں بھی بٹھایا جاتا ہے۔ ان کو لیڈر مانا جاتا ہے۔ ان کو بڑے عزت و احترام کے ساتھ ٹی وی چینلز پر بٹھا کر ان کے وعظ اور نصیحتوں سے سننے والوں کو گمراہ بھی کیا جاتا ہے۔ طالبان چھریاں، گولیاں اور خودکش بم چلاتے ہیں تو یہ لوگ پاکستان کی بنیادوں کو اپنے زہریلے پراپیگنڈہ اور اسلام مخالف سوچ سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔

ایک طرف طالبان کا اسلام کے بارے میں تصور اُس اسلام سے بلکل جدا ہے جس کا نمونہ ہمیں رسول پاکﷺ کے اسوہ حسنہ کی صورت میں ملتا ہے تو دوسری طرف پاکستان کو سیکولر بنانے کی خواہش رکھنے والوں کا ایک ٹولہ اسلام کی ایسی تشریح پیش کر رہا ہے جس کا ریاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو جہاں شراب کی ممانعت نہ ہو، جہاں بدکاری جائز ہو، جہاں سود کی اجازت ہو اور ہر قسم کا گانا بجانا تفریح کے بہانے جاری و ساری ہو۔ طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں ایک بھی شق اسلامی نہیں مگر پاکستان پر مسلط ’’طالبان‘‘ کی یہ دوسری قسم آئین پاکستان کی کسی ایک بھی اسلامی شق پر عملدرآمد کے خلاف ہیں۔ انہی کے ڈر سے میاں نواز شریف جیسے لیڈر بھی آئین کی اسلامی شقوں کے نفاذ سے گھبراتے ہیں۔ انہی کی وجہ سے نیک، صالح اور با عمل مسلمانوں کی بجائے چوروں، ڈاکوئوں، جعلی ڈگری والوں اور ایسے افراد کے لیے پارلیمنٹ کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ آئین تو کہتا ہے کہ مسلمان ممبران پارلیمنٹ کو اسلامی تعلیمات کاکافی علم ہونا چاہیے مگر یہاں تو ایسوں ایسوں کو اسمبلیوں میں بٹھا دیا جاتا ہے جن کو سورۃ اخلاص تک نہیں آتی، جو پانچ وقت کی نماز کیا نماز جمعہ تک ادا نہیں کرتے، جوعام محفلوں میں شراب پیتے ہیں، جن کے ناجائز تعلقات کے قصے عام ہوتے ہیں، جو جھوٹ بولنے کی شہرت رکھتے ہیں، جن کے لیے فراڈ اور دھوکہ معمول کی بات ہے، جو سودی نظام کا دفاع کرتے ہیں،کرپشن کرتے ہیں، جو اسمبلی میں کھڑے ہو کر اور اخباروں میں لکھ کر شراب نوشی کی حمایت کرتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود ان کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکتا۔

اس صورت حال کی بڑی ذمہ داری طالبان کے سر پر ہے کیوں کہ طالبان کی پر تشدد کاروائیوں اور حال میں 23 ایف سی جوانوں کو شہید کرنے کے اعلان نے پاکستان میں موجود سیکولر شدت پسندوں کے ہاتھوں کو خوب مضبوط کیا۔ طالبان نے سیکولر شدت پسندوں کو شریعت پر سوال اُٹھانے کا خوب موقع دیا۔ طالبان کی وجہ سے ہی ’’کون سی شریعت‘‘ اور ’’گلے کاٹنے والا اسلام‘‘ جیسے جملے تو اب عام بولے جا رہے ہیں۔ اب کوئی اسلام کے نفاذ کی بات کرے تو یہ شدت پسند اُسے گدھوں کی طرح نوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے اپنی کارروائیوں سے ان شدت پسندوں کو اس قدر تقویت دے دی ہے کہ وہ اب سینہ تان کر پاکستان کے اسلامی تشخص کے خاتمہ کی بات کرتے ہیں اور اسلام پسندوں اور اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کا مذاق اُڑاتے ہیں۔طالبان کی کارروائیوں نے اس ملک کے بڑے بڑے علمائے کرام کو بھی پریشان کر دیا ہے۔

حرف آخر: ایف سی جوانوں کی شہادت پروفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جس طرح طالبان نے ہمارے ایف سی سپاہیوں کے گلے کاٹے، اس طرح تو ہندوستان نے بھی ہمارے ساتھ نہیں کیا۔ پرویز رشید صاحب کے اس بیان پر مجھے ایک ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں کچھ اس طرح لکھا تھا: پرویز رشید صاحب انڈیا نے پاکستان کے ہی جسم اور شہہ رگ (کشمیر ) کو کاٹ دیا مگر آپ پھر بھی ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں اور تجارت بھی کر رہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.