.

منصوبہ 2005ء ناکام بنایا جائے

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگلے روز صدر مملکت جناب ممنون حسین نے صحافی برادری کے لئے ظہرانے کا اہتمام کیا، برادرم محترم فاروق عادل اُن کے مشیر جو ہوگئے ہیں، ایک صحافی کے ذہن میں ہی یہ خیال آتا ہے کہ اپنی برادری کو ریاست کے سربراہ کے قریب لانے کی کوشش کرے، ویسے خود صدر مملکت کا تعلق کراچی کے شہر سے ہے تو اُن کی بھی خواہش ہو گی کہ وہ اپنے شہر کے صحافیوں سے ریاست کا سربراہ بننے کے بعد ملیں اور تبادلہ خیال کریں۔ اس ملاقات میں خاندان کے لوگوں سے ملاقات کا سا انداز تھا۔ طالبان سے مذاکرات سے لے کر اُن کے اختیارات تک حالات زیر بحث آئے اور ہر شخص نے دل کھول کر بات کی یا کچھ اپنی دل کی بات چھپا کر دوسرے کے خیالات کو سننے میں محو رہے اور مزہ لیتے رہے۔ صدر مملکت نے اپنی سرگرمیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے جہاں تعلیمی میدان کا ذکر کیا وہاں یہ کہا کہ جب اُن سے مشورہ مانگا جاتا ہے تو وہ دے دیتے ہیں اور گفتگو یہاں تک پہنچی کہ فاٹا کا علاقہ بھی اُن کے ماتحت آتا ہے تو میں نے سوال کیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں، اگرچہ اِس کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں اس لئے بھی کہ وہ یہ چاہیں گے کہ فاٹا کا علاقہ اُن کے زیرتسلط آجائے اور وہاں وہ اپنی ریاست یا امارت قائم کردیں تو کیا آپ اِس کی اجازت دے دیں گے؟ اس پر اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات پاکستان کے دستور کے دائرے میں رہ کر کئے جائیں گے اور کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ پاکستان کی سرحدوں میں تبدیلی کرے۔

جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے، ہم نے سب کچھ جانتے ہوئے اور سب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کی کئی جماعتیں ایک صفحہ پر آگئی ہیں۔ اس طرح اہتمامِ حجت بھی ہوجائے گی اور طالبان کے عزائم اور ان کی اصل شکل سامنے آجائے گی۔ اگر وہ امن چاہتے ہیں تو اس سے بڑھ کر کوئی اچھی بات نہیں مگر نہیں مانتے تو پھر حکومت کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اُس کو کیا کرنا ہے۔ صدر سے ظہرانے پر گفتگو کے بعد طالبان کا اصل چہرہ سامنے آچکا ہے جب انہوں نے 23 ایف سی کے نوجوان کو شہید کیا جو اُن کے قبضہ میں 2010ء سے تھے۔ اس پر برادر محترم پرویز رشید کہتے ہیں کہ ایسا تو بھارت نے بھی نہیں کیا۔ بھارت نے تو پاکستان کو زک پہنچانا تھی وہ پہنچادی کہ پاکستان کے عربوں میں مضبوطی کے تصور کی وجہ سے مغرب سے پاکستان کی طرف دولت کی منتقلی کا جو سفر شروع ہوا تھا، وہ رک گیا۔ پاکستان کو ایک کمزور ملک کے طور پر پیش کرنے میں بھارت عالمی سازش کی تکمیل میں مہرہ بن کر سامنے لے آیا۔

پھر وہ ملک ہے اور یہ جانے مانے دہشت گرد، ان کے اور بھارت کے درمیان کیا مماثلت۔ ایک ملک ہے اور ان کا کام اپنے بھائیوں کا خون بہانا ہے، وہ بھی غیر ملکی اشاروں پر۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ الزام غلط ہے تو پھر انہوں نے کیوں ایف سی کے نوجوانوں کو شہید کیا، اس سے ایک بات تو صاف نظر آتی ہے کہ کوئی طاقت پاکستان اور اِن لڑاکا طالبان کے درمیان جنگ چاہتی ہے تاکہ پاکستان شام کی طرح خانہ جنگی کا شکار ہوجائے مگر اِس کے علاوہ اور بھی طریقے ہیں بہرحال وہ کوئی ریاست نہیں کہ اُن سے آپ یہ امید رکھیں کہ بھارت کا سا انداز اختیار کریں گے۔ برادر محترم پرویز رشید نے مثال دی ہے، اُن کو ایسی مثالوں سے گریز کرنا چاہئے۔ معاملہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایک پالیسی نہیں ہے یا ایسی پالیسی نہیں ہے جس کو بہت سوچ سمجھ کر بنائی گئی ہو جو اگر ایک حکومت چلی جائے تو دوسری حکومت بھی اُس کو جاری رکھے۔ ہمارے اداروں نے امریکی شاگردی اختیار کرکے ایسی تنظیمیں بنا ڈالی ہیں کہ وہ ریاست کو کمزور کرتی رہیں اور کئی برسوں سے عوام کا خون پی کر وہ بہت توانا ہوچکی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس تنظیم سے جو کام لینا تھا وہ کام لے کر اس کو تحلیل کر دیا جاتا مگر روس کی واپسی کے بعد وہ ایسی تنظیموں کو مضبوط ہوتے ہوئے دیکھتے رہے۔ کچھ تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اِن تنظیموں کو بنایا تھا وہ اُن سے دلی ہمدردی رکھتے تھے، جیسے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے لیاری کے لوگوں کو مسلح کرکے ایک تنظیم سے مقابلے کو کھڑا کیا گیا، جب اُن کو پیچھے ہٹنے کو کہا گیا تو وہ سینہ سپر ہوگئے، وزارت چھوڑ دی، بغاوت کردی ،مگر لیاری کے لوگوں کو مسلح کرکے آگ میں جھونک دیا۔

دوسری طرف طالبان کو پاکستان کے تمام اداروں کے بارے میں معلومات تھیں اُن کو بروئے کار لاتے ہوئے اِن طالبان نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا اور جی ایچ کیو قبضہ ہوتے ہوتے رہ گیا، مہران بیس اور کامرہ بیس پر حملے کئے یعنی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ سب کو اِن لوگوں نے نقصان پہنچایا۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکیوں کو فاٹا میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں جانے کی اجازت دے کر پاکستان کے ساتھ ایک اور ظلم کیا وہاں انہوں نے گروپ در گروپ بنا لئے اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ پاکستانی ایجنسیوں کو فاٹا میں اپنا عمل دخل بڑھانے سے روک دیا۔ جس کے نتیجے میں 65 گروپ معرضِ وجود میں آگئے۔ اب یہ ادارے مل کر ریاست کو کمزور کررہے ہیں۔ بہرحال اِن میں سے اکثر غیرملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں، جس کی تصدیق وزارت داخلہ نے کردی ہے۔ خود اسلام آباد کی حفاظت ایک مسئلہ بن کر رہ گئی ہے، کراچی پہلے سے دہشت گردی کی زد میں ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا موجودہ نظام گل سڑ گیا ہے، ان کے اندر پاکستان کی حفاظت کے لئے وہ مستعدی باقی نہیں رہی ہے، جو پہلے تھی، وہ جدید ٹیکنالوجی کے سامنے ننگے ہیں، ان کی کوئی جنبش چھپی نہیں ہے اگرچہ ایبٹ آباد حملے کے بعد ہمارا مشورہ تھا کہ یہ ادارے اپنے تمام نظام کو الیکٹرونک نظام بشمول ٹیلی فون کئی اور نظام وضع کریں اور پھر کوئی حکمت عملی تیار کریں کہ وہ اپنے آپ کے ساتھ پاکستان کو بھی محفوظ بنا سکیں اور اپنے منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ 2005ء میں پاکستان کے خلاف جو مغرب اور بھارت اور افغانستان کے ساتھ مل کر بھارت میں جو مشترکہ منصوبہ بنا تھا کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا اور پھر خانہ جنگی اور ایٹمی اثاثوں پر دسترس، اِس کو ناکام بنانے کے لئے کام کرنے کا وقت آگیا۔ 2005ء میں چندی گڑھ کے مقام پر ایک تین روزہ سیمینار منعقد ہوا تھا جس میں دُنیا بھر کے سابق انٹیلی جنس سربراہان شامل تھے، کے جی بی سے لے کر موساد کے سابق سربراہان موجود تھے، را کے تو ہوں گے ہی مگر کئی مغربی ممالک کے بھی موجود تھے، انہوں نے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس وقت فاٹا میں جو پاکستان دشمن گروپ کام کررہے ہیں جو پہلے تو یہ کہتے تھے کہ امریکہ اُن کا دشمن ہے اور پاکستان اُس کا اتحادی اس لئے وہ ہمارا دشمن ہے، اب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج اور ایجنسیاں اُن کی دشمن ہیں، یہ 2005ء کے منصوبہ کے تحت بنائے ہوئے گروپ ہیں جن سے اب نمٹنا پڑے گا۔ ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور 23 ایف سی اہلکاروں کی بہیمانہ قتل اور فوج کو دشمن قرار دینے کے بعد مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق پاکستان کو اِن پاک دشمن عناصر کو سبق سکھانا پڑیگا جو اب شروع ہوگیا ہے تاہم اگر مذاکرات کیلئے وہ آمادہ ہوں تو مذاکرات کئے جاسکتے ہیں مگر حالتِ کمزوری کے ساتھ نہیں بلکہ طاقت کی پوزیشن کے ساتھ ۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.