.

میاں نواز شریف کا تیسرا دور، انداز اور اہداف

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلے دو ادوار حکومت کی نسبت اس مرتبہ وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کی ٹیم مدبر نظر آتی ہے۔ نہ ہی سیاسی مخالفین کے گلے پڑنے کی عادت اپنائی ہے اور نہ ابھی تک کسی بڑ ے بدعنوانی کے اسکینڈل کا سامنا ہوا ہے۔ پچھلے ادوار کے طریقۂ کار کے برعکس اداروں سے جھگڑے مول لینے سے اجتناب بڑھتا جا رہا ہے۔ جس عقل مندی کے ساتھ اس حکومت نے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو خوش کر کے رخصت کیا ہے وہ طاقت کی سیاست میں احتیاط کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ افتخار محمد چوہدری، وہ گبھرو چیف جسٹس، جن کا ذکر آج کل ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا اسی قسم کی احتیاط کی پالیسی کے تحت سنبھالے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی حتی کہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف دونوں جماعتوں کے ساتھ تعلقات اس حد تک خراب نہیں ہونے دیے گئے کہ خواہ مخواہ کا سیاسی مسئلہ کھڑا ہو اور احتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوجائے۔ تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ میاں نواز شریف اور اُن کی ٹیم تیسرے دور حکومت میں بدل گئے ہیں۔

طریقہ کار بدل گیا ہے مقاصد ابھی تک پرانے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی طرح بلکہ شاید اُن سے بڑھ کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت خود کو طاقت میں ہمیشہ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے لٹھ بازی، لڑائی، نعرے اور واویلے مچا کر یہ کام کیا جاتا تھا‘ اب اس ترکیب کے اجزاء بدل گئے ہیں۔ آٹھ، نو ماہ گزارنے کے بعد نواز شریف کی تیسری حکومت کے چند ایک خدوخال واضح ہو چکے ہیں۔ اس مرتبہ نواز شریف چار سمتوں سے خود کو طاقت میں قائم اور اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ چار سمتیں امور خارجہ اور دفاعی پالیسی، جنوبی ایشیا میں یورپی یونین جیسے نظام کی بنیاد رکھنے کی کوشش، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو مختلف طریقوں سے اپنے نقطہ نظر کی طرف مائل کرنے یا اپنے تابع کرنے کے اقدامات اور سب سے بڑھ کر خود کو سیاسی نظام میں محفوظ بنانے کی کوششوں پر مبنی ہے۔ ان تمام زاویوں پر یکسو کام ہو رہا ہے‘ مکمل یکسوئی کے ساتھ۔ صرف دیکھنے میں یہ سب مختلف اقدامات محسوس ہوتے ہیں عملاً ان کا مقصد اپنی طاقت کو دوام دینا ہے۔

خارجہ اور دفاعی پالیسی میں امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ انتہائی پرامن اور تنازعے سے پاک تعلقات کا لائحہ عمل اپنایا ہوا ہے۔ اسلام آباد میں متعین امریکی سفارت کار حیران کن حد تک واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی غیر موجودگی کے باوجود خوش اور مطمئن تھے۔ اُن کی اس طمانیت کی ایک بڑی وجہ وہائٹ ہائوس اور جاتی عمرہ کے درمیان براہ راست رابطے کی نئی سہولت تھی۔ امریکی، برطانیہ کی طرح ایک ملک میں ایک ہی شخص سے بات کرنے کے شائق ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں اُن کے لیے مشکل یہ تھی کہ کبھی صدر زرداری اور کبھی جنرل کیانی اور کبھی کبھار پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کرنی پڑتی تھی۔ اگرچہ تین مختلف طاقت کے مراکز پاکستان کے نقطہ نظر کو بسا اوقات شکست دینے میں بھی کارآمد ثابت ہوتے تھے۔ لیکن اول ترجیح امریکا کی ہمیشہ ایک وقت میں ایک ہی شخص رہا ہے۔

اِس مرتبہ میاں محمد نواز شریف اُس شخص کی صورت میں اُبھر کر سامنے آئے ہیں جو امریکہ کی بہت سی باتیں ریکارڈ پر لائے بغیر سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہیں۔ چاہے معاملہ امریکہ کی فوجوں کے لیے انخلا ء کی سہولت فراہم کرنا ہو یا اس خطہ میں امریکا کے اثر و رسوخ کو محتاط مگر یقینی انداز سے تقویت دینا ہو۔ واشنگٹن کو اسلام آباد میں کسی مقام پر کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا۔ واشنگٹن کے ساتھ گہری دوستی کے نتیجے میں معاشی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد تو ملے گی ہی، جمہوریت کے خلاف کسی ممکنہ کوشش کا قلع قمع کرنے میں بھی یہ دوستی انتہائی کارآمد ثابت ہو گی۔ میاں نواز شریف کی واشنگٹن سے جمہوریت کے حق میں بیان دلوانے کی روایت کافی پرانی ہے۔ کارگل ہویا جرنیلی منصوبہ امریکا کا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر نواز لیگ نے کبھی اپنا ردعمل ترتیب نہیں دیا۔ اس ضمن میں برطانیہ اگرچہ چھوٹا اور بین الاقوامی اثرورسوخ کے اعتبار سے نسبتاً کم اہم ملک ہے، بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور کے دوسرے گوناگوں اوصاف کے علاوہ ایک خاص صفت سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ گہرا تعلق بھی ہے۔

اگر کسی نے نواز شریف کی حکومت کو غیر آئینی جھٹکا دینے کی کوشش کی تو آپ چوہدری سرور کو ایک نئے روپ میں دیکھیں گے۔ وہ برطانوی نظام کی ہر کل کو سمجھتے ہیں۔ اُن کو وہاں سے احتجاج کروانے کا فن آتا ہے۔ خارجہ اور دفاعی پالیسی کے اہم ترین معاملات وزیراعظم نے اپنے ہاتھ میں اسی وجہ سے رکھے ہوئے ہیں۔ خواجہ آصف، سرتاج عزیز اور طارق فاطمی، میاں صاحبان کے قریبی رشتہ داروں سے بھی زیادہ قابل اعتبار ہیں۔ وہ اُس کچن کابینہ کا حصہ ہے جو پالیسی کی ہانڈی کا مرچ مصالحہ وزیر اعظم سے پوچھ کر ڈالتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے تجربے سے سیکھتے ہوئے میاں نواز شریف نے دفاعی اور خارجہ پالیسی کی ڈش جرنیلوں کے ہاتھوں سے لے کر اپنی میز پر سجا دی ہے۔ امر یکہ کے ساتھ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ پیپلز پارٹی کے دور میں جنرل کیانی چلا رہے تھے۔ سابق چیف آف آرمی اسٹاف خود سے پالیسی پیپر لکھ کرصدر اوباما کے حوالے کر رہے تھے۔

ظاہر ہے جو پالیسی بنائے گا امریکا اُسی کی طرف جھکے گا اور امریکا جس کی طرف جھکے گا وہ طاقت کی فہرست میں دوسروں کی نسبت اوپر ہوگا۔ یہ بھانپتے ہوئے میاں نواز شریف نے یہ تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ دلچسپ امریہ ہے کہ شوراب بھی یہی مچایا جاتا ہے کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دفاع اور خارجہ امور سے متعلق کوئی فائل میاں نواز شریف کی جنبش آبرو کے بغیر نہیں ہلتی۔ بالخصوص وہ فائلیں جوامر یکہ کے ساتھ تعلقات سے متعلق ہیں۔ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات بنا کر میاں نواز شریف خود کو بین الاقوامی طور پر ایسے مقام پر فائز کرنا چاہتے ہیں جہاں پر اُن کے ہر قدم کی ستائش ہو اور وہ فیصلے جو اندرونی طور پر متنازع ہو سکتے ہیں بیرونی واہ واہ کے ذریعے پاکستان میں ہضم کروائے جا سکیں۔ اِن میں سے بہت سے فیصلوں کا تعلق ہندوستان اور افغانستان سے تعلقات سے ہے۔ تیسرے دور میں میاں نواز شریف کی پالیسی ان دونوں ممالک کے حوالے سے انتہائی دلچسپ اور منصوبہ بندی سے بھرپور ہے

بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.