.

پاک روس نئے دور کا آغاز کب ہوگا؟

جاوید صدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویت یونین کے ساتھ تو پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہی رہے۔ سرد جنگ میں پاکستان امریکہ کا حلیف بن گیا۔ جولائی 1957ء میں امریکہ نے پاکستان کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی سے پشاور کے قریب بڈبیر میں ایک خفیہ اڈہ بنانے کی اجازت مانگی۔ سوویت یونین اور وسط ایشیاء کی سوویت ریاستوں کے قریب ہونے کی وجہ سے سوویت یونین کی جاسوسی کے لئے یہ ایک آئیڈیل جگہ تھی۔

پاکستان نے بڈبیر کا اڈہ امریکہ کے حوالے کر دیا تو یہاں سے امریکہ سوویت یونین کی جاسوسی کرنے اور اس کی حساس تنصیبات کی تصویریں اتارنے U-2 قسم کے جاسوس طیارے اڑاتا رہا۔ یکم مئی 1960ء میں یہ U-2 قسم کے جاسوسی طیارے کی اٹھائسویں پرواز تھی جسے سوویت یونین نے گرا لیا۔ امریکہ نے پہلے تو انکار کیا کہ اس کا کوئی جاسوس طیارہ سوویت یونین نے گرایا ہے لیکن جب سویت یونین کے اس وقت کے وزیراعظم نیکتا خرو شیف نے U-2 قسم کے جاسوس طیارے کا ملبہ اور اس کے پائلٹ گیری پاور کو ایک نیوز کانفرنس میں میڈیا کے سامنے پیش کر کے امریکہ کو بے نقاب کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان اور سوویت یونین کے تعلقات اور بھی بگڑ گئے۔ تاریخ پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پختونستان اور عظیم تر بلوچستان کے قیام کی جو تحریکیں پاکستان میں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں زور پکڑ گئی تھیں ان کی پشت پر سوویت یونین تھا۔

1989ء میں افغانستان میں فوجی شکست کھانے کے بعد سوویت یونین کے حصے بخرے ہونا شروع ہوئے تو یہ سلسلہ بیسویں صدی میں ابھرنے والی کمیونسٹ سپر پاور کے خاتمے پر منتج ہوا۔ سوویت یونین کی جگہ روسی فیڈریشن نے لے لی۔ وسط ایشیاء کی مسلمان ریاستوں نے آزادی حاصل کر لی۔ روسی فیڈریشن بننے کے بعد ماسکو نے کوشش کی پاکستان کے ساتھ تعلقات سے کشیدگی کو ختم کیا جائے اور ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے۔ پچھلے کم و بیش بیس برس میں پاک روس تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں پاکستان کے دو صدور جنرل مشرف اور آصف علی زرداری نے ماسکو کے دورے کر کے پاک روس تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی ماسکو کا دورہ کیا۔ روس کی فوج کے سربراہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ 2012ء میں روسی صدر پیوٹن کے دورہ اسلام آباد کو حتمی شکل دی جا چکی تھی لیکن پھر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا۔

اسلام آباد اور ماسکو دونوں کی خواہش ہے کہ پاکستان اور روس ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کریں۔ پاکستان ارو روس نے ایک مشترکہ اقتصادی کمیشن قائم کیا ہے جس کا ایک اجلاس گزشتہ سال اسلام آباد میں منعقد ہو چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار پاک روس مشترکہ اقتصادی کمیشن کے شریک چیئرمین مقرر ہوگئے ہیں اب اس کمیشن کا اجلاس ماسکو میں منعقد ہو گا۔

جمعرات کی شام پاکستان میں روس کے نئے سفیر الیکسی دیدوف نے اپنے قومی دن کے موقع پر ایک استقبالیہ دیا تھا۔ اس استقبالیہ میں پاک فضائیہ کے وائس چیف ائرسٹاف ائرمارشل اظہر علی بخاری مہمان خصوصی تھے۔ اسلام آباد میں روس کے نئے سفیر الیکسی دیدوف روانی سے اردو بولتے ہیں۔ راقم سے بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ماسکو بین الاقوامی زبانوں کے ادارے میں اردو سیکھی تھی۔ وہ اردو بھولتے جا رہے تھے لیکن اب پاکستان میں آ کر وہ اگلے چھ ماہ میں اردو روانی سے بول سکیں گے۔

قومی دن کے استقبالیہ میں روس کے کمرشل شعبہ کے سربراہ یوری کوزو لوف نے راقم کو بتایا کہ ماسکو کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی مراسم بڑھائے جائیں۔ یوری کوزولوف نے بتایا کہ پاکستان اور روس میں تجارت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ روس پاکستان کی مصنوعات دوسرے ملکوں کے ذریعہ خرید رہا ہے۔ دونوں ملکوں میں براہ راست تجارت کیوں نہیں ہو سکتی۔ روس پاکستان سے آلو‘ کینو‘ چاول اور دوسری مصنوعات درآمد کر رہا ہے۔ پاکستان روس سے زرعی آلات کے علاوہ کئی دوسری مصنوعات درآمد کر سکتا ہے۔ پاکستان کی اس وقت زیادہ دلچسپی روس سے دفاعی شعبہ میں تعاون کو فروغ دینے میں ہے۔ جمعرات کی شام روس کے قومی دن کے موقع پر روسی سفارت خانہ نے جو دستاویزی فلمیں چلائیں ان میں روسی ساخت کے میراج اور سخوئی قسم کے جدید طیارے دکھائے جا رہے تھے۔

روس میں تیار کردہ ٹینکوں کی بھی ایک فلم دکھائی جا رہی تھی روس کے کمرشل اتاشی مسٹر یوری کا کہنا تھا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی مصنوعات کی بڑی منڈیاں ہیں۔ روس تو پاکستان کے ساتھ تجارت کو وسعت دینے کے لئے تیار ہے۔ مسٹر یوری کا کہنا ہے کہ وہ سیالکوٹ‘ فیصل آباد‘ گوجرانوالہ‘ کراچی کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔ پاکستانی مصنوعات کی روس میں برآمد کی بڑی گنجائش ہے۔ روس پاکستان کے بنے ہوئے سرجیکل آلات جرمنی کی مارکیٹ سے خرید رہا ہے۔ اگر براہ راست تجارت شروع ہو جائے تو کروڑوں ڈالر کے پاکستان سے سرجیکل آلات روس میں منگوائے جا سکتے ہیں۔ روسی سفارت کار کا کہنا تھا ماسکو نئے دور کیلئے تیار ہے اب پاکستان نے پیش رفت کرنی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.