.

افغان جنگ کا اختتام۔۔۔ !

طیبہ ضیاء چیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی نے اپنے ہی پانچ فوجی ساتھیوں کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔ یہ واقعہ سری نگر کے ایک فوجی کیمپ میں پیش آیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر تعینات بھارتی فوج کے اہلکار نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں۔

قندھار میں اندھا دھند فائرنگ میں نہتے بے گناہ مردوں ،عورتوں اور بچوں کو شہید کرنے والے امریکی فوجی نفسیاتی مریض ہیں اور جنرل ایلن اپنے فوجی کو نفسیاتی دباﺅ کا شکار سمجھتے ہیں۔ افغانیوں پر بمباری کرتے کرتے نیٹو افواج کے اعصاب شل ہو گئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے نہتے شہریوں پر مظالم ڈھانے والے بھارتی اہلکار کیوں کر ذہنی طور پر صحت مند قرار دئے جا سکتے ہیں۔

قندھار کا واقعہ جموں کشمیر کے واقعات کی طرح نا قابل فراموش ہے۔ ایک امریکی فوجی نے مردوں ،عورتوں اور بچوں کو بھون ڈالا تھا مگر اسے دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا۔ گوئٹے مالا فوج کے ایک اہلکار نے 1982میں خانہ جنگی کے دوران گوریلاز کو پناہ دینے کے شبہ میں دو سو سے زائد افراد کو قتل کر دیا تھا جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، اس واقعہ کے بعد فوجی اہلکار امریکہ فرار ہو گیا ، 2010 میں گرفتاری کے بعد اسے امریکہ سے بے دخل کر دیا گیا۔ گوئٹے مالا کی عدالت نے اس فوجی اہلکار کو دو سو سے زائد افراد کے قتل کے جرم میں60،60 سال کی قید سنا دی۔ ہر قتل کے خلاف جرم پر 60 سال کی سزا دی گئی۔ لیکن قانون اور انصاف کے علمبردار امریکہ نے قندھار کے دردناک واقعہ میں ملوث امریکی فوجی کو نفسیاتی بیمار کہہ کر معاملہ رفع دفع کر دیا۔ بھارتی اور نیٹو افواج کے مظالم لہو سے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ امریکہ افغانستان کے طالبان کلچر کا قلع قمع کرنے میں جب ناکام ہو چکا تو عراق کے بعد اب افغانستان سے بوریہ بستر گول کیا جا رہا ہے۔

اوباما انتظامیہ طے شدہ پالیسی کے مطابق 2014 کے اختتام تک افغانستان سے اپنی تمام فوج کا انخلاء چاہتی ہے۔ صدر کرزئی امریکہ پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ طالبان اور ان کے پاکستانی حامیوں کے ساتھ ایک علیحدہ امن معاہدہ کرنا چاہتا ہے جس کے نتیجہ میں افغان حکومت اپنے دشمنوں کے رحم و کرم پر آجائے گی ۔امریکہ نے کرزئی پر زور دیا کہ اس سال کے آخر تک امریکہ کے ساتھ ایک نئے سلامتی معاہدے پر دستخط کر دیئے جائیں، یہ معاہدہ جنوری2015 سے نافذ العمل ہو گا جس کی رو سے امریکی فوجیوں اور سویلین اہلکاروں کو مقررہ مدت کے لئے افغانستان رکھا جائے گا۔اس سلسلے میں صدر اوباما نے حامد کرزئی کو ٹیلی فون بھی کیا اور انہیں بتایا کہ چونکہ وہ معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا عزم کر چکے ہیں لہذا امریکہ نے دیگر متبادل منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے ،اس کے تحت افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلاءکے بعد بھی 10 ہزار امریکی فوج وہاں تعینات رہ سکے گی جو افغانستان کی مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے علاوہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں معاونت کرے گی تاہم افغان پارلیمان اور قبائلی رہنماﺅں کی جانب سے معاہدے کی حمایت کے باوجود صدر کرزئی اس پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں۔

کانگریس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغانستان کو امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے دو طرفہ معاہدے پر جلد دستخط کر دینے چاہیں کیونکہ دستخط نہ ہونے کی صورت میں امریکہ اس سال کے آخر میں افغانستان سے چلا جائے گا مگر اس خطہ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ،پاکستان بھی متاثر ہو گا ہے۔ اکتوبر2001 کو امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا ۔ امریکہ کی تاریخ میں یہ سب سے طویل جنگ ہے۔اس جنگ میں تین ہزار سے زائد بین القوامی فوجی ہلاک ہو چکے ہی ںجن میں امریکیوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ افغان شہریوں کی ہلاکتیں اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ طالبان کے خلاف یہ جنگ اس لئے لڑی گئی کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی تھی۔ افغانستان میں اس طویل جنگ کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اوباما حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ 2014میں ذمہ داریاں مکمل طور پر افغان فورسز کے حوالے کرنے کے بعد انخلا کا عمل شروع ہو گا جبکہ امریکی حکام نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مشکل عمل ہے۔

نیٹو افواج بھی افغان جنگ کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ایک بیان میں کہا تھاکہ ہمارے عوام فوجیوں کی گھروں کو واپسی چاہتے ہیں تاہم ہم کھلے دل سے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان میں جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور وہاں ترقی کے حوالے سے بے شمار مسائل موجود رہیں گے۔ پاکستان بھی امریکہ کی جنگ میں ہی جھلس رہا ہے۔

امریکہ کی فوج کی واپسی سے افغان جنگ کا اختتام سمجھا جائے تو غلط نہ ہو گا ،امریکہ طویل جنگ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچ گیا ہے کہ طالبان کے خلاف یہ جنگ امریکہ کو مزید مہنگی پڑ سکتی ہے۔ افغان طالبان کا اپنا ایک کلچر ہے جسے شریعت کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی وہاں مقامی باشندوں کا کلچر رائج ہے ،اسے بھی شریعت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ افغان طالبان نے اپنا کلچر پورے ملک میں نافذ کرنا چاہا اور وزیرستان کے طالبان اپنا کلچر پورے پاکستان میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔ ان سیاسی و جغرافیائی جنگوں میں بھارتی اور نیٹو افواج اپنا ذہنی توازن کھو رہی ہیں مگرنہ افغان طالبان کا خاتمہ ہو سکا اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کو ختم کیا جا سکا۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.