.

معجزے کے لئے دعا کریں

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آخر کار وزیر ِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان کے لئے قومی سلامتی کی پالیسی کا اعلان کردیا۔ سو صفحات پر مشتمل اس دستاویز کے ایک طائرانہ جائزے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے پی ایم ایل (ن) کی حکومت NACTA (نیشنل کائونٹر ٹیرارزم اتھارٹی) پر نظر ِ ثانی کرتے ہوئے اسے مضبوط اور فعال بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ گزشتہ چار سال سے یہ اتھارٹی تقریباً غیر فعال ہی رہی۔

اس پالیسی کے مندرجات ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کے چھ خفیہ اداروں (آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، ایس بی، نیول اور ائیر انٹیلی جنس) پولیس اور نیم فوجی فورسز کو وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط کیا جائے گا۔ NACTA حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لے کر ہدف کو تلاش کرے گا اور ملک میں جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہوں گے اُنہیں تلاش کر کے تباہ کیا جائے گا۔ اسے ریپڈ ڈپلائمنٹ فورس کے پانچ سو تربیت یافتہ کمانڈوز، جن کے پاس جدید آلات اور ہتھیار اور ہیلی کاپٹر ہوں گے، کی خدمات حاصل ہوں گی۔ وزیر موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ NACTA کب تک مکمل طور پر فعال ہو گا بلکہ اس ضمن میں اٹھنے والے بہت سے اہم سوالات کا جواب بھی ہنوز آنا باقی ہے۔

NACTA کو بنیادی طور پر ایک الگ ایجنسی کے طور پر قائم کیا گیا اور اسے براہِ راست وزیر اعظم کی کمان کے نیچے کام کرنے کے لئے بنایا گیا جبکہ اسے مختلف خفیہ اداروں جیسا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی ، آئی بی کی طرف سے معلومات فراہم کی جانی تھیں تاہم ابتدا میں کچھ مسائل کا اُس وقت سامنا کرنا پڑا جب سابق وزیر ِ داخلہ رحمٰن ملک نے اصرار کیا کہ وزیر اعظم کے بجائے وزیر ِ داخلہ کو NACTA کی قیادت کرنی چاہئے۔ اس تجویز کی آئی ایس آئی کی طرف سے مزاحمت کی گئی۔ آئی ایس آئی کے ڈی جی کی تعیناتی وزیر ِاعظم کرتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کو رپورٹ پیش کریں گے تاہم عملی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی خود کو وزیر آعظم کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے، چہ جائیکہ وہ وزیر داخلہ کے سامنے رپورٹ پیش کریں۔ بے نظیر بھٹو اور ان کے وزیر داخلہ اعتزاز احسن (1988-1990) اور پھر یوسف رضا گیلانی اور ان کے وزیر ِداخلہ رحمٰن ملک (2008-2013) کے دور میں اس بات کا تاثر ابھرا کہ جب ان جمہوری حکومتوں نے اس خفیہ ادارے کے سیاسی ونگ کو ختم کرنے کی کوشش کی تو نادیدہ ہاتھ نے ان کی حکومتوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ چوہدری نثار علی خان کس طرح شیر پر سواری کرکے اسے مطیع کرسکتے ہیں؟

تاہم NACTA کا یہ پہلو تو مسائل کا ایک کنارہ ہے، کہا گیا ہے کہ چھبیس ایجنسیاں اس کی چھتری تلے آکر وزیر ِ داخلہ کے سامنے جواب دہ ہوں گی۔ فی الحال ایسی مثالی صورت حال نہر سوئیز کے اس پارکہیں بھی ہویدا نہیں ، پاکستان میں تو صورت حال ہنگامہ خیز ہے۔ ہمارے ہاں ان تمام تنظیموں کی ساخت اس اصول پر ہوئی ہے کہ یہ اپنے اپنے کورٹ میں کسی گیند کو نہیں آنے دیتیں بلکہ ان کو بجٹ اور دیگر معاملات کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جدید جمہوری ریاستوں میں ایسے اداروں کا براہ راست اشتراک نہیں ہوتا ہے، ہاں بعض کچھ ضروری معلومات کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے لیکن زیادہ تر معاملات میں تمام ایجنسیاں اپنے دائرہ ِ کار کو دوسروں سے پوشیدہ رکھتی ہیں۔ پاکستان میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں جس کے تحت یہ ایجنسیاں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ قائم کر سکیں۔ اس کے علاوہ تاثر ہے کہ دفاعی اور خفیہ ادارے سویلین کو نازک معلومات فراہم کرنے کے روادار نہیں۔

بہت سے دیگر معاملات میں بھی NACTA کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ ساٹھ کالعدم تنظیموں کے بارے میں کہتا ہے کہ ان سب پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ دراصل NACTA کا کام صرف دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ اس نے جمہوریت، شخصی آزادی، مساوات اور برداشت کے کلچر کو بھی فروغ دینا ہے۔ جیسا کہ اخباری رپورٹوں سے ظاہر ہوتاہے، اس کے مینڈیٹ میں قومی سطح پر انتہا پسندانہ نظریات کا خاتمہ، افہام و تفہیم، نوجوانوں کے صحت مند مشاغل کی ترویج اور مسجد اور مکتب کو قومی تعلیمی دھارے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا عمل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ آئینی اصلاحات اور دہشت گردی کے شکار افراد کی مدد اور بحالی اور سائبر اسپیس کو منفی اور تخربی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے سے روکنا اور افغان مہاجرین کی ملک میں نقل و حرکت پر نظر رکھنا بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔

ان تمام امور کی انجام دہی کے لئے سپرکمپیوٹر سا دماغ اور ہرکولیس کی سی طاقت کا حامل نگران اور ایک ایسا ادارہ چاہئے جس کے پاس تکینکی اور مالی وسائل اور باصلاحیت افرادی قوت کی کمی نہ ہو۔ فی الحال ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ ڈاکیومنٹ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کی شناخت کر کے اس پر کاری ضرب لگائی جائے گی۔ اس کی شناخت کردہ دہشت گردی کی وجوہات بھارت ، افغانستان، کشمیر اور دیگر داخلی معاملات، جیسا کہ فوجی حکومتیں اور ناقص حکومتی نظم ونسق سے مربوط ہیں تاہم اس شناخت کے بعد یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ ان مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے گا؟ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر مسٹر سرتاج عزیز اور کابینہ کی کمیٹی برائے دفاعی امور کا اس میں ذکر نہیں ہے۔ NACTA کا اصل مسودہ مختصر سا تھا اور اسے چار سال قبل سابق آئی جی پنجاب طارق پرویز نے تحریر کیا تھا لیکن جب اُنھوں نے دیکھا کہ اس کو فعال نہیں بنایا گیا ہے تو اُنہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ چنانچہ چوہدری نثار صاحب کے لئے مشورہ ہے کہ وہ فی الحال NACTA کےبلند بانگ مقاصد کو بھول جائیں اور طالبان سے نمٹنے کی فکر کریں تاہم اس کے لئے ہمیں خصوصی دعائوں کی ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.