.

بارہ مصالحے کی چاٹ

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی صاحب کے اعزاز میں جناب مجیب الرحمن شامی کا برنچ مزیدار تھا اور شہر بھر کے سینئر صحافیوں کا عرفان صدیقی سے مکالمہ بارہ مصالحے کی چا ٹ، پرلطف اور چٹ پٹی۔ ارادہ اسی پر لکھنے کا تھا مگر بیر سٹر ظہور بٹ کی کتاب ’’پاکستان کی کہان ، میری زبانی‘‘ نے ذہن جکڑ ا، ہاتھ پکڑا اور قلم کی باگ تھام کر کسی اور راستے پر لگا دیا۔
’’وزیر اعظم حسین شہید سہروردی تین روزہ سرکاری دورے پر پہلی بار لاہور آئے اور گورنر ہائوس میں ٹھہرے، گوجرہ کے آٹھ دس کارکن اپنے لیڈر سے ملنے گورنر ہائوس پہنچ گئے، سیکورٹی افسروں نے دھوتی کرتے، شلوار میں ملبوس کارکنوں کو روکا مگر ملک حامد سرفراز نے انہیں پہچان کر اندر پہنچا دیا۔ انتظار گاہ میں مغربی، پاکستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب ا ور کچھ اعلیٰ افسر وزیر اعظم سے ملاقات کے منتظر بیٹھے تھے‘‘۔

’’ملک حامد سرفراز نے چٹ اندر بھجوائی تو کارکنوں کو حیرت ہوئی کہ چند منٹ بعد وزیر اعظم کے پر ائیویٹ سیکرٹری آفتاب احمد خان نے کمرے میں آکر بتایا، وزیر اعظم نے سب سے پہلے کارکنوں کو اندر بلایا ہے۔ سہروردی صاحب کارکنوں سے ملے، باتیں سنیں اور ناشتے کے لئے دوسرے کمرے میں بھیج دیا‘‘۔

’’میں نے پوچھ ا، بابا! آپ پہلے وزیر اعلیٰ سے کیوں نہیں ملے۔ انہوں نے کہا بیٹا! ایک بات یاد رکھو سیاست کے میدان میں کارکن کسی بھی سیاسی جماعت میں ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتے ہیں، بے چارے جیلوں میں جاتے، صعوبتیں برداشت کرتے، پولیس کی لاٹھیاں کھاتے اور بعض اوقات گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ یہ مخلص کارکن اپنے لیڈروں سے محض دلجوئی اور دلنوازی کی توقع رکھتے ہیں۔ میرا فرض تھا کہ اپنے کارکن ساتھیوں کو سب پر فوقیت دیتا‘‘۔

70/1960ء کے عشرے تک سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کے درمیان رشتہ اور تعلق اسی نوعیت کا ہوتا تھا۔ سیاسی کارکن اپنے لیڈروں پر جان چھڑکتے اور لیڈران کارکنوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ۔جنرل ایوب خان ،یحییٰ خان، ضیاء الحق کی فوجی اور بھٹو کی عوامی فسطائیت کا مقابلہ سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اپنے ایثار پیشہ، پرجوش، بے لوث و بے ریاکارکنوں کی مردانہ وار جدوجہد کے ذریعے کیا۔ ان دنوں کارکنوں کو نقد معاوضے اور مراعات کا چسکا پڑا تھا نہ لیڈران کرام کو امریکہ کی پشت پناہی اور سرپرستی کے ذریعے کسی فوجی آمر سے خفیہ سمجھوتے اور ایوان اقتدار میں داخلے کا شوق، مگر پھر حالات بدلے، سیاست میں کارپوریٹ کلچر نے جنم لیا ،لیڈروں نے لیلیٰ اقتدار کو منزل مقصود بنایا تو کارکن بھی چوری کھانے والے مجنوں بن گئے۔

بھٹو صاحب سیاسی کارکنوں کی قدر و قیمت اور اہمیت سے آگاہ تھے اسی بنا پر انہوں نے اقتدار میں آکر اپنے جیالوں کو نیشنلائزڈ صنعتی اداروں میں کھپایا، سرکاری محکموں میں ملازمتیں فراہم کیں اور پیپلز ورکس پروگرام کا حصہ بنایا مگر اس کارکن نوازی کا نتیجہ ملک و قوم اور سیاسی کلچر کے حق میں بہتر نہ نکلا ، مال مفت دل بے رحم کے کلچر کو فروغ ملا اور کام چوری، مفت خوری اور بدنظمی قومی مزاج کا حصہ بنی پھر چل سو چل، تاہم جب بھٹو صاحب پر مشکل وقت پڑا تو باقیماندہ سیاسی کارکنوں نے خود سوزی کی، کوڑنے کھائے، جیلیں آباد کیں اور بھٹو کی دلجوئی و دلنوازی کا فرض ادا کیا۔

1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ اور 1983ء کی ایم آر ڈی تحریک نے سیاسی کارکنوں کی آخری کھیپ کو مایوسی اور بددلی کے اندھے کنوئیں میں دھکیل دیا۔ پی این اے کی لیڈر شپ نے اسلام کو پس پشت ڈال کر اسلام آباد کو قبلہ مقصود بنایا اور ایم آر ڈی کی تحریک میں قربانیاں دینے والے کارکنوں کو 1985ء کے بعد اپنی پارٹیوں میں ضیاء باقیات ، فصلی بٹیروں، جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور مخدوموں کی پذیرائی دیکھ کر منہ چھپانے پر مجبور کردیا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، اے این پی میں یہ فرق کرنا مشکل ہوگیا کہ کون سی پارٹی جمہوری جدوجہد کا حصہ رہی ہے، شہری آزادیوں اور حقوق کی علمبردار اور کس نے ہمیشہ موقع پرستی، اقتدار پرستی اور ڈکٹیٹروں کی چاپلوسی کو شعار کیا۔ اس حمام میں سب ننگے نظر آنے لگے۔

صدر آصف علی زرداری پر انے جیالوں کو بینظیر کے جہیز میں ملنے والا تحفہ قرار دیتے اور انہیں سابقہ قربانیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے موجودہ قیادت سے وفاداری کا ثبوت پیش کرنے کی تلقین کرتے۔ میاں نواز شریف نے مسلم لیگ کا تشخص تبدیل کیا ، اسے ایوان اقتدار کی لونڈی کے بجائے ایک منظم سیاسی قوت بنایا مگر مسلم لیگ کے مزاج میں سرمایہ دارانہ اور تاجرانہ خوبو موجود رہی بلکہ جدہ سے واپسی پر مزید بڑھ گئی۔ ان دنوں اسلام آباد اور لاہور کے ایوان ا قتدار اور جاتی عمرہ کے ا ردگرد منڈلانے والوں کی اکثریت وہ نہیں جو سابق صدر رفیق تارڑ ،جاوید ہاشمی اور خواجہ سعد رفیق کے ساتھ مال روڈ پر لاٹھی ،گولی کا سامنا کرتی ۔وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے پہلو میں برا جمان بعض لوگ جنرل پرویز مشرف کے رفیق کار ہیں ،کچھ چودھری بردران کے نمک خوار اور ایک آدھ درآمدی تحفہ

نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال اور عرفان صدیقی بہرحال وہ خوش نصیب ہیں جو بدستور صف دوستاں میں شامل اور بزم اقتدار میں موجود۔ ورنہ اقبال ظفر جھگڑا تو ملاقات کو ترستے ہیں۔

عمران خان نے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاسی کارکنوں کی پڑھی لکھی، قربانی کے جذبے سے سرشار ، معاشی طور پر آسودہ اور تبدیلی کی خواہش سے مغلوب نئی کھیپ پیدا کی ورنہ سیاسی جماعتوں نے دیہاڑی دار نعرے بازوں پر اکتفا کرلیا تھا جو بوقت ضرورت جھنڈے بینر لے کر پہنچتے اور الٹے سیدھے نعرے لگا کر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے، تاہم ان دنوں تحریک انصاف کے کارکن بھی اپنے لیڈر کی خوئے دلنوازی کو ترستے ہیں اور اس بات پر پریشان کہ تحریک انصاف کے افق پر گھسے پٹے ،بدنام، سٹیٹس کو کے حامی چاند ستارے جگمگانے لگے ہیں ، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے گھاٹ کا پانی پی کر تحریک انصاف میں اشنان کرنے والے پرانے کارکنوں کو پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہیں۔

عمران خان کے ارد گرد جاوید ہاشمی، حافظ فرحت عباس، وقاص افتخار، فرخ حبیب، جمشید اقبال چیمہ کے بجائے فیصل صالح حیات نمایاں نظر آئیں تو تبدیلی کے خواہش مند سیاسی کارکن کیا کہیں؟ لاحول ولا قوۃ الا بااللہ العظیم۔ پیپلز پارٹی نے اپنے مخلص کارکنوں سے بے اعتنائی برتی ، یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف پر تکیہ کیا۔ 11 مئی کو نتیجہ بھگت لیا۔ مسلم لیگ اب اسی امتحان سے گزررہی ہے، بیوروکریسی اور فصلی بٹیروں نے قیادت کا محاصرہ کرلیا ہے جو قومی سیاست کے حوالے سے نیک فال نہیں۔ عمران خان کو ان دونوں بڑی پارٹیوں کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور اپنے مخلص کارکنوں کے ساتھ وہ رویہ روا رکھنا چاہئے ، سہروردی مرحوم کے حوالے سے جس کا ذکر ظہور بٹ نے کیا ہے۔

مخلص اور ایماندار سیاسی کارکن ہی جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ریڑھ کی ہڈی۔ وہ اپنے قائدین سے مراعات نہیں دلجوئی ، شفقت اور عزت کے طلبگار ہوتے ہیں لیکن اگر سیاسی کارکن سرکاری اجتماعات میں، پارٹی تقریبات میں محض دھکے کھانے اور بیوروکریسی ،پولیس کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لئے بلائے جائیں اور قیادت سے ہاتھ ملانا، بات کرنا مشکل ہوجائے تو مشکل وقت میں وہ کیوں وفاداری نبھائیں گے، فصلی بٹیروں کو آواز دینے کا مشورہ کیوں نہیں دیں گے جس طرح 1999ء میں گوالمنڈی کے بعض متوالوں نے خواجہ ریاض محمود کو دیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.