.

جنگ بندی ۔ پس چہ باید کرد

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ جنوری کی 26 تاریخ تھی۔ میں کراچی میں تھا اور اگلے روز وہاں سے دبئی جانا تھا۔ مجھے وزیراعظم صاحب کا پیغام موصول ہوا کہ اگلی صبح نو بجے مجھے اور میجر (ر) محمد عامر کو طالبان کے مسئلے پر ضروری مشاورت کے لئے بلایا گیا ہے۔ میں نے ابتداء میں معذرت کرلی لیکن میجر صاحب کے اصرار پر دبئی جانے کے بجائے رات کی فلائٹ سے اسلام آباد چلا آیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم صاحب نے بتایا کہ فوج کے ساتھ آپریشن کیلئے تمام تیاری مکمل ہوچکی ہے اور پارلیمانی پارٹی بھی طاقت کے استعمال کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے لیکن میں اب بھی چاہتا ہوں کہ کوئی پرامن راستہ نکلے۔ آپ جیسے لوگ چونکہ آپریشن کے حق میں نہیں ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اگر مذاکرات ہوسکتے ہوں تو ایک آخری کوشش کرلی جائے۔ وزیراعظم کی تجویز تھی کہ میجر (ر) عامر ‘ مولانا فضل الرحمٰن خلیل اور یہ عاجز رابطہ کار بن جائیں۔ تب تک کمیٹی کے دیگر اراکین زیرغور نہیں تھے۔ جب ہماری گفتگو ہورہی تھی تو اے ڈی سی صاحب نے آکر وزیراعظم صاحب کو عرفان صدیقی صاحب کی آمد کی خبر سنائی۔

وزیراعظم صاحب نے انہیں ساتھ والے کمرے میں انتظار کرنے کا کہا اور ایک گھنٹہ پر محیط ہماری ملاقات کے دوران وہ ساتھ والے کمرے میں ہی تشریف فرما رہے۔ ہم دونوں نے شمالی وزیرستان میں روایتی طریقے سے آپریشن کے خلاف دلائل دیئے لیکن ساتھ ہی کمیٹی کے ذریعے مذاکرات کی بھی مخالفت کی۔ ہم نے تجویز دی کہ پہلی فرصت میں ریاست کے تمام اداروں کو آن بورڈ کر کے ایک صفحے پر لایا جائے۔ ہماری رائے تھی کہ میجر (ر) عامر‘ سلیم صافی اور فضل الرحمٰن خلیل جیسے نان اسٹیٹ ایکٹرز کو استعمال کرنے کے بجائے وزیر داخلہ‘ گورنر خیبرپختونخوا‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ‘فوج ‘ آئی ایس آئی پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔ مذاکرات کرنے ہوں تو بھی وہ کرے اور آپریشن کرناہو تو بھی وہ کمیٹی نگرانی کرے، جو کچھ بھی ہو خاموشی کے ساتھ ہو‘ البتہ ہر فیصلے سے قبل پوری سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جاتا رہے۔

میں نے گزارش کی کہ اگر اتمام حجت کرنا ہو تو یہ (مولانا فضل الرحمٰن‘ عمران خان‘ سیدمنور حسن‘ مولانا سمیع الحق اور مذاکرات کے حامی دیگر سیاستدانوں کی کمیٹی) کے ذریعے کئے جائیں لیکن اگر نتائج مطلوب ہوں تو تمام ریاستی اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے کوآرڈینیشن کے ساتھ بات کی جائے۔ ہم وزیراعظم صاحب کو اپنے نقطہ نظر کا قائل نہ کرسکے اور وہ ہمیں اپنا ہمنوا نہ بناسکے۔ اس لئے اگلے دن (28جنوری) کو دوبارہ ملاقات رکھ دی گئی۔ اگلے روز دوبارہ ہم اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ وزیراعظم بار بار تاکید کرتے رہے کہ ہم ابھی سے رابطے شروع کردیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں اگرکسی عمل سے متفق ہوں تو بھی بحیثیت صحافی سیاسی یا حکومتی سرگرمی کا حصہ بننا مناسب نہیں سمجھتا لیکن آپ جو کچھ اور جس طرح کرنے جارہے ہیں ‘ میرے نزدیک اس کا فائدہ کچھ نہیں جبکہ نقصان بہت زیادہ ہوگا‘ اس لئے میں آئندہ مشورے کی حد تک بھی اس کا حصہ نہیں بنوں گا اور ہر فورم پر حسب توفیق تنقید کرتا رہوں گا۔

میجر (ر) عامر صاحب اور میرا تجزیہ اس حوالے سے کم وبیش ایک ہی تھا اور وہ بھی کمیٹیوں یا نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے مذاکرات کے حق میں نہیں تھے لیکن چونکہ وزیراعظم کے ساتھ ان کی دوستی بہت پرانی ہے ‘ اس لئے وہ میری طرح انکار نہیں کرسکے اور انہوں نے مذاکراتی عمل کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کردی۔ ان دونوں نشستوں میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے علاوہ ڈاکٹر آصف کرمانی اور فواد حسن فواد بھی موجود تھے اور میری ان گزارشات کی ان سے تائید یا تردید کرائی جاسکتی ہے۔

اگلے دن وزیراعظم صاحب نے پارلیمنٹ میں کمیٹی کا اعلان کردیا حالانکہ فوج اور پارٹی کو یہ بتایا گیا تھا کہ اس روز وزیراعظم قومی اسمبلی میں آپریشن کے آغاز کا اعلان کریں گے۔ بہرحال میں کمیٹیوں کے ذریعے مذاکرات کے حق میں تھا اور نہ اس طریقے سے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں پرامید تھا لیکن میجر (ر) عامر سے پوچھا جاسکتا ہے کہ جہاں جہاں ہو سکا میں حسب استطاعت تعاون کرتا رہا۔ پورے ایک ماہ اپنے جیو ٹی وی کی نوکری کے سوا باقی چینلز سے بھی اس لئے غائب رہا کہ کہیں میرا کوئی تبصرہ منفی اثر نہ ڈالے۔ کمیٹیوں میں جو لوگ موجود تھے‘ سب کے ساتھ میرا ذاتی تعلق ہے اور سب اپنی اپنی جگہ بڑی شخصیات اور میرے لئے قابل احترام ہیں۔

مولانا سمیع الحق کے والد بہت بڑے آدمی تھے جبکہ وہ میرے ذاتی مہربان اور بہت بڑے سیاستدان ہیں۔ پروفیسر محمد ابراہیم کی شرافت اور اخلاص کی ایک دنیا قائل ہے۔ رحیم اللہ یوسف زئی صاحب ہمارے استاد ہیں اور بڑے خلوص کے ساتھ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی کوششں کرتے رہے۔ رستم شاہ مہمند صاحب میرے ہم قبیلہ ہونے کے ساتھ ساتھ طالبان اور اسٹیبلشمنٹ کے مزاج شناس بھی ہیں ۔ مولانا یوسف شاہ صاحب پر صرف مولانا سمیع الحق کا نہیں بلکہ بہت سوں کا دعویٰ ہے۔ حکومتی کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی صاحب اب اگرچہ مشیر ہیں لیکن کل تک وہ میرے ذاتی مشفق تھے اور میں انہیں اپنے استادوں کا استاد مانتے ہوئے جھک کر ملتا رہا۔ اب بھلا میں ایسی شخصیات کی عزت افزائی پر خوش کیوں نہ ہوں لیکن مجھے یقین تھا اور ہے کہ جو طریق کاراختیار کیا گیا‘ اس کا فائدہ نہیں ہورہا بلکہ نقصان ہوگا۔ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ جنگ بندی کے کارنامے (اگر یہ واقعی کارنامہ ہے تو) میں حکومتی کمیٹی نے کوئی کردار ادا نہیں بلکہ وزیرداخلہ اور ایک اور کمیٹی کے ایک رکن ذاتی حیثیت میں رابطے میں رہے۔

میں وہ تفصیل نہیں لکھنا چاہتا لیکن اگر کسی نے مجبور کیا تو لکھ بھی دوں گا کہ کس طرح حکومتی طریق کار اور کمیٹیاں‘ کس کس مرحلے پر معاملات کو سنبھالنے کے بجائے بگاڑ کا موجب بنیں۔ بہرحال جو ہوا ‘سو ہوا۔ اب آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ کمیٹیوں کے تماشے کو ختم کرکے معاملات متعلقہ حکومتی اداروں اور فورمز کے سپرد کئے جائیں۔ وزیرداخلہ‘ گورنر خیبرپختونخوا‘ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ‘ فوج اور آئی ایس آئی پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اور آگے کا جو بھی لائحہ عمل ہو وہ یہ کمیٹی تشکیل دے۔ یہ کمیٹی وقتاً فوقتاً سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیتی رہے تاکہ ہر قدم کو پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کی چھتری میسر رہے۔ قیدیوں کے معاملات ہوں‘ فوج کے انخلاء کے‘ آپریشن کے یا پھر اسٹریٹجک ایشوز ہوں‘ متعلقہ ادارے کبھی یہ امور غیر ریاستی عناصر یا پھر مشیروں کے سپرد کرنا گوارا نہیں کریں گے۔ نہ یہ لوگ ان اداروں کی طرف سے طالبان کو کوئی ضمانت دے سکتے ہیں۔

اسی طرح طالبانی کمیٹی کی قیادت جب تک مولانا سمیع الحق صاحب کریں گے‘ مولانا فضل الرحمٰن صاحب اس کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے جس کا پہلا اشارہ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر صاحب کے طالبان کی شوریٰ کی طرف سے حکومت اور ٹی ٹی پی کے مذاکراتی عمل سے لاتعلقی کے اعلان کی شکل میں سامنے آگیا ہے۔ جب طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان ہورہا تھا تو مولانا سمیع الحق سعودی عرب میں ڈبلیو ایچ او کی پولیو کے خلاف کانفرنس میں جبکہ حکومتی کمیٹی کے سب سے اہم رکن لاہور میں اخباری دفاتر کے دوروں یا پھر ناشتے کی محفلوں میں میرے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں مصروف تھے۔ اگر کمیٹیاں ہی سب کچھ کررہی تھیں تو کیا مولانا فضل اللہ سعودی عرب اور شاہداللہ شاہد لاہور میں رہتے ہیں؟

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.