.

اسلام آباد حملہ، حکومت کے بہترین انتظامات

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جس ملک میں روز لاشوں کا بازار لگتا ہو وہاں پر مختلف واقعات پر افسوس کر کے الفاظ صرف ضایع ہی کیے جا سکتے ہیں۔ ویسے بھی مردہ خانے میں چیخ و پکار کی اہمیت ہی کیا ہے۔ نہ گئے ہوئے واپس آ پائیں گے اور نہ اجڑے ہوئے گھر بس پائیں گے۔ مگر پھر بھی پرسوں اسلام آباد ضلعی عدالتوں پر حملے کی تفصیلات میں جائے بغیر تجزیاتی ذمے داری پوری نہیں ہوتی۔ یہ حملہ دن دیہاڑے ہوا جس میں بہترین گاڑیاں، خودکار ہتھیار، خودکش حملہ آور مواصلات کا جدید نظام استعمال ہوا ۔ حملہ آور ویسے ہی دندناتے ہوئے آئے جیسے جنرل ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے تھے یا جس طرح انھوں نے سری لنکا کی ٹیم کو نشانہ بنایا تھا۔ اس مرتبہ ایک جج رفاقت اعوان اور مرد و خواتین وکلاء، خاتون وکیل فضا ملک، سنیئر وکیل راؤ عبدالرشید، تنویر احمد شاہ ایڈووکیٹ، دیگر افراد میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی راولپنڈی ریجن کے ڈائر یکٹر میاں محمد اسلم، سنیئر پولیس کانسٹیبل محمد ریاض، اکبر عمر طارق جونیئر منشی، طالب حسین کورٹ اسٹاف، شبیر، حاجی ثناء اللہ اور کامران اس واقعے کی نذر ہو گئے۔ پچھلے واقعات کی طرح اس مرتبہ بھی حکومت کی کاغذی کارروائی موثر تھی۔

حکومتی ذرایع ابلاغ کے ماہرین نے یہ تکنیک اپنا لی ہے کہ بد ترین کوتاہی پر سخت الفاظ میں مذمتی بیان کا مرہم رکھنے سے حکومت موثر اور عوام دوست نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں بیٹھے ہوئے اور پنجاب سے تربیت یافتہ میڈیا ماہرین اتنے ہی چابک دست نظر آتے ہیں جتنے وہ دہشت گرد جنہوں نے منٹوں میں ضلعی عدالتوں کو مقتل بنا دیا۔ بیانات میں صدر، وزیر اعظم، وزراء سب غمگین اور رنج زدہ نظر آنے شروع ہو گئے۔ ذرایع ابلاغ نے حکومت سے ایک مرتبہ پھر بہترین معاونت کا کام سر انجام دیا اور سطحی تجزیوں کے علاوہ بڑے بڑے سوال اٹھانے سے گریز کیا۔

سب سے بڑا سوال ظاہر ہے حملے کے ہونے سے متعلق ہے۔ جس قسم کی تیاری اس واقعے میں نظر آئی وہ ایک دن کا کام نہیں تھی۔ جب معزز وزیر داخلہ قومی اسمبلی میں چبا چبا کر ماضی کی حکومت کی کو تاہیاں گنوا رہے تھے تو اس واقعے کے ذمے دار افراد وہ سازو سامان تیار کر رہے تھے جس سے انھوں نے یہ کارروائی سر انجام دینی تھی۔ چوہدری نثار علی جو وزیر اعظم کے الیکشن کے بعد اپنی طرف سرد مہری کو گرم جوشی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کسی نہ کسی وجہ سے خود کو ایک سخت گیر منتظم کے طور پر متعارف کرا چکے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کے دائرہ اختیار میں نجم سیٹھی کی چڑیا کے سواکوئی اور چڑیا نہیں پھڑک سکتی۔ اپنی ظاہری سادگی کو وہ انتہائی ذہانت سے اپنے امور کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اگر یہ سب کچھ ایسا ہی ہے تو پھر ان کو اپنی اس تمام طاقت کے مکمل طور پر فیل ہو جانے پر کسی ندامت، پریشانی یا افسوس کا اظہار تو کرنا چاہیے تھا۔ ہم سب نے رحمان ملک سے ان کے مسلسل مضحکہ خیز رویے اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پس منظر میں نہ جانے کتنی مرتبہ مستعفی ہو نے کا مطالبہ کیا تھا۔ چوہدری نثار علی خان سے تو کسی نے نہیں پوچھا کہ میڈیا کے سامنے بیٹھ کر اسلام آباد کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے دعوے اس بری طرح جھوٹے ثابت ہوئے ہیں کہ سابق وزیر داخلہ با عمل محسوس ہونے لگے ہیں۔ ان پر جمہوری انداز سے احتساب کا کوئی اصول لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔ مگر پھر ان پر لاگو کیوں ہو گا۔ اگر وزیر اعظم پر نہیں ہو گا جو ہمیں بار بار باور کراتے رہتے ہیں کہ تمام حالات ان کے قابو میں ہیں۔

کچہری حملے کا ایک اور خوفناک پہلو حملہ آوروں کا وہاں سے آسانی سے نکل جانا ہے۔ وکلاء کے دفاتر اور جج صاحبان کے چیمبرز آپس میں ایسے جڑے ہوئے ہیں کیا اندرون شہر کی چھوٹی چھوٹی گلیاں ہوں گی۔ حملہ آور وہاں آئے، کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ انھوں نے وہاں تباہی پھیلائی، کوئی ردعمل نہیں آیا۔ وہ آرام سے خود کش حملہ کے علاوہ کام کی تکمیل کر کے گاڑیوں میں بیٹھ کر چلے گئے، تمام انتظامیہ منہ تکتی رہ گئی۔ یہ دوسری بڑی ناکامی تھی جس سے متعلق کوئی زیادہ بحث سامنے نہیں آئی۔ اسلام آباد وہ شہر ہے جس کے چپے چپے میں نام نہاد وی آئی پیز بستے ہیں۔ کچہری سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر نیول اور فضائیہ ہیڈ کوارٹرز ہیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی وہاں ہے۔ جمہوریت کا بھاری بھر کم ہاتھی پروٹوکول کے جھومروں کے ساتھ ہر وقت اس شہر کی سڑکوں پر عام لوگوں کو کچلتا ہوا گھومتا گھا متا رہتا ہے۔

ہر دوسری سڑک بہترین کمانڈوز سے آراستہ گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے مختص نظر آتی ہے۔ مگر اس کے باوجود نہ جانے وقت پڑنے پر یہ سارے سورما جنہوں نے اس ملک کو اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ بنایا ہوا ہے کہاں غائب ہو گئے۔ نہ کوئی قومی فورس نظر آئی اور نہ چمکتی ہوئی بندوقیں اور چاک و چوبند بندوق بردار ڈھیلی ڈھالی پتلونوں والے گرتے پڑے پولیس کے جوان اور وردی کے بغیر پولیس کے افسران میڈیا کے سامنے تصویریں بنانے کی کارروائیاں کرتے رہے۔ (میں ان کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا۔ جب تمام حکومت ٹیلی ویژن پر پٹی چلوا کر کارروائی کر رہی ہو تو پولیس افسران اور جوانوں کا کیمروں کے سامنے آنا ایک قدرتی امر ہے)۔ ہم میں سے جو بھی حلال کی کمائی سے ریاست کی ہر جائز اورناجائزکارروائی کے لیے ٹیکس دیتا ہے۔ یقیناً پریشان ہو گا کہ ہمارے خون پسینے کی محنت کدھر جاتی ہے۔ نہ حملہ آور آتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں اور نہ ہی جاتے ہوئے۔ ریڈ الرٹ ہونے کے بعد وہ سب کچھ ویسے ہی کرتے ہیں جیسے کہیں کوئی ریڈ الرٹ نہ ہو۔ یہ شہر کتنا محفوظ ہے اور اس کے چلانے والے کتنے قابل ہیں یہ ہم سب نے کل دیکھ لیا ۔

اور ان خاندانوں نے تو بالخصوص دیکھا جنہوں نے کل اپنے پیاروں کو زندہ سلامت کام پر بھیجا اور چند گھنٹوں کے بعد ان کی کٹی پھٹی لاشیں وصول کیں (اس واقعہ کی نذر ہو جانے والے جج، وکلاء، پولیس اہلکار اور دوسرے افراد کو ہم مسلسل جاں بحق کہہ رہے ہیں۔ جو پاکستانی شہری محنت سے روزی روٹی کمانے یا اپنے فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے دہشت گردی کی نذر ہو جاتے ہیں ان کو میرے خیال میں شہید کہنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے) مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم اور کابینہ کے وزراء ان کے گھروں میں جائیں گے اور خود پر زبردستی غم طاری کر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اچھی تصویر بنوائیں گے۔ حکومت اور ریاست کی طرف سے اسلام آباد کچہری کے شہدا اور ملک میں ہر قسم کی دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بن جانے والوں کے لیے اس سے زیادہ دینے کو کچھ نہیں ہے۔ اگر آپ کا اس تسلی سے گزارہ نہیں ہو تا تو جان بچانے کے لیے تمام کام چھوڑ کر گھر میں پناہ لیجیے۔ آپ کی تفریح کے لیے حکومت، وزیر اعظم کی اسمبلی میں تقریر، چیف آف آرمی اسٹاف کی وزیر اعظم سے ملاقات کی تصویر اور وزیر داخلہ کی پریس کانفرنسز جیسے بہترین اقدامات کا انتظام کر چکی ہے ۔

بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.