.

ایک چشم کشا رپورٹ

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ وہ زمانہ ہے جب مختلف مسائل و معاملات پر رپورٹیں مرتب کی جاتی ہیں اور ان میں سے بیشتر نہایت معتبر اداروں کی نگرانی میں تیار کی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہوتی ہیں جن میں ہم اپنے سماج کے مختلف پہلوؤں کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ مجھ ایسے لوگوں کو یہ رپورٹیں اس لیے بھیجی جاتی ہیں کہ ہمارے توسط سے یہ ملک کے ایک بڑے حلقے تک پہنچ سکیں اور لوگوں میں شعور عام ہوسکے۔ گزشتہ دنوں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک ایسی ہی رپورٹ مجھ تک آئی جسے ہماری معتبر تحقیق کار سعدیہ بلوچ نے مرتب کیا ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے دل ٹکڑے ہوتا ہے اور یہی خیال آتا ہے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ایک روشن خیال اور کشادہ قلب ماحول میں سانس لیتے ہیں اور ان مسائل سے نہیں گزرتے جن سے ہماری لاکھوں نہیں کروڑوں عورتیں اور لڑکیاں صبح و شام گزرتی ہیں۔ شاید یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ وہ زندہ تو کیا ہیں، بس زندگی کی تہمت اٹھاتی ہیں۔

سعدیہ بلوچ نے جو اعداد و شمار اکٹھا کیے ہیں ان میں انھوں نے پاکستان کے معتبر اخبارات اور جرائد کے علاوہ ڈاکٹر شاہ محمد مری، تنویر جونیجو، نفیسہ شاہ، نگہت میمن، مسعود انصاری، محمد رمضان اور زاہدہ حنا کی کتابوں کے حوالے دیے ہیں۔ 126 صفحات کی اس رپورٹ میں یوں تو متعدد معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے لیکن یہاں میں نے صرف چند ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے جس کے بارے میں ہم عموماً اخبارات میں پڑھتے ضرور ہیں لیکن ان کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔

ہمارے یہاں نفسیاتی تشدد کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دینا چاہیے۔ ذہنی یا نفسیاتی تشدد میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ ہر وہ عمل جس سے ذہنی اذیت، کوفت، خوف یا انتشار پیدا ہو، عورتوں سے بدکلامی، انھیں بے عزت کرنا، دھتکارنا، صنفی امتیاز (بیٹے اور بیٹیوں میں) جس سے لڑکیوں کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہو، گالم گلوچ، قریبی رشتوں کی طرف سے جسمانی، جنسی تشدد یا اس کا خوف، کام کی جگہوں پر ہراساں کرنا، شادی شدہ عورتوں کو جائیداد کے حقوق اور ملکیت سے محروم کرنا، دھمکانا، شوہر کی طرف سے گھر سے نکال دیے جانے، طلاق دینے، بچے چھین لینے کی دھمکی یا خوف، مسلسل ذہنی اذیت دینا، سماجی تعلقات منقطع کرنا یا عورتوں کو گھروں میں مقید کرنا یا عام میل جول پر (رشتے داروں، میکے/ پڑوس) پابندی، نفسیاتی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔

مذکورہ بالا صورتوں کا سامنا خواتین کو کسی نہ کسی صورت رہتا ہے، البتہ مخصوص معاشروں یا طبقات میں یہ انتہائی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ذہنی تشدد جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عورتوں پر نفسیاتی تشدد پورے گھر خاص کر پیدا ہونے والے بچے یا پہلے سے موجود بچوں پر پڑتا ہے۔ بچے (لڑکے) اس ماحول میں یہی متشدد رویہ سیکھتے اور اپناتے ہیں۔ ان کا رویہ بہنوں اور دوسری عورتوں کے ساتھ ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسا کہ گھر کے دوسرے مردوں کا ہو۔ اس طرح کے ماحول میں رہنے اور پلنے والی بچیاں اور عورتیں دہرے تہرے مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ وہ گھر کی محدود دنیا میں قیدرہتیں اور باہر کی دنیا سے تعلق قائم نہیں کرپاتیں۔ یہ نفسیاتی دباؤ انھیں بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ ہسٹیریا ایسی ہی ایک بیماری ہے جو مسلسل ذہنی دباؤ کے نتیجے میں سامنے آتی ہے جس میں مردوں کی نسبت عورتوں کی کہیں زیادہ تعداد مبتلا ہے۔ یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ جادو، آسیب یا جن بھوت کے اثرات کا حوالہ دے کر تشدد کی ایک نئی شکل سامنے آجاتی ہے۔ وہ عورتیں جو اس دباؤ سے باہر نکلنے کی کوشش کریں انھیں پاگل قرار دینا عام سی بات ہے۔ عورتوں کو منحوس قرار دے کر سماجی میل جول اور تعلقات سے الگ تھلگ کردیا جاتا ہے اور یہ صورت حال بعض پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی موجود ہے۔

ایسے نفسیاتی تشدد کی صورت میں عورتوں کو کسی قسم کا کوئی متبادل راستہ نہ سماج اور نہ ریاست فراہم کرتی ہے چنانچہ لڑکیاں گھروں سے فرار کا راستہ اختیار کرلیتی ہیں۔ اس دنیا کی طرف فرار جس کے بارے میں انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ لہٰذا یا تو مر جاتی ہیں، مار دی جاتی ہیں یا جسم فروشوں اور عورتوں کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے ہاتھوں برباد ہوتی ہیں۔ فرار کی دوسری صورت اپنی زندگی کا خاتمہ ہے جو قدرے آسان لگتا ہے۔ خودکشی کے زیادہ تر واقعات کی بنیاد نفسیاتی دباؤ یا تشدد ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر سماج میں جہاں خاندانی نظام، سماجی اقدار، رسم و روایات، مذہب کی غلط تشریح و ترویج، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی، پولیس، تھانے اور نظام انصاف، سب مل کر دباؤ کی شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔ عورتوں کے پاس متبادل راستے نہیں۔ پاکستان میں عورتوں کے خودکشی کے رجحانات میں تیزی آرہی ہے جس کے اہم اسباب میں نفسیاتی، جنسی و جسمانی تشدد، غربت، تحقیر وتذلیل، عصمت دری کے ہونے یا اس کا خوف سرفہرست ہیں۔

اسی طرح معاشی اور اقتصادی استحصال بھی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ملنا، اپنی کمائی یا آمدنی پر اپنا اختیار نہ ہونا، زمین و جائیداد سے محرومی، معاشی و اقتصادی استحصال کہلاتا ہے۔ طبقاتی نظام زندگی نے یوں تو انسانی آبادی کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا مگر عورتوں کی زبوں حالی مردوں کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ کم و بیش ہر اس طبقے میں عورت کا معاشی استحصال ہوتا ہے جہاں عورتیں مکمل طور پر مردوں پر انحصار کرتی ہیں۔ جنیوا میں قائم معاشی امور کے ایک فورم نے صنفی بنیادوں پر پائی جانے والی تفریق کے بارے میں 58 ممالک کی فہرست جاری کی جس میں مساویانہ سلوک، اقتصادی شراکت، ملازمت کے مواقعے، سیاسی سطح پر اختیارات، تعلیمی استعداد، صحت اور فلاح و بہبود کو بنیاد بنایا گیا۔ 58 ممالک میں پاکستان کا نمبر 56 واں رہا۔

ایک لفظ ہم اکثر سنتے ہیں۔ یہ لفظ ’’سام‘‘ ہے۔ پناہ میں رکھے جانے والے مرد، عورت یا مویشی ’’سام‘‘ کہلاتے ہیں۔ پناہ میں دینا یا امانت کے طور پر دینا ایک رسم ہے جس میں کوئی بھی شخص اپنے مال مویشی (گائے، بیل، گھوڑا، گدھا، بکریاں بھیڑیں وغیرہ) کسی کے پاس رکھوا دیتا ہے۔ اسی طرح کوئی مرد یا عورت بھی تنازعے کے حل یا انتقام کے طور پر رکھی یا رکھوائی جاتی ہے۔ جو شخص اس مال مویشی یا مرد عورت کو سام رکھتا ہے وہ اس کے کھانے پینے رہنے سہنے اور اس کے تحفظ کا ذمے دار بن جاتا ہے۔ عام طور پر امراء و زمیندار ’’سام‘‘ رکھتے ہیں۔ ان کے سماجی رتبے اور اثر و رسوخ کی بناء پر سام محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ رسم نوابشاہ اور سندھ کے دوسرے اضلاع میں عام ہے۔ اسی طرح سندھ میں عورتیں پناہ کے لیے سرداروں اور وڈیروں کے پاس چلی جاتی ہیں۔ یعنی سام پوری طرح سے سردار کے تسلط میں آجاتی ہیں۔ جرگے کے کہنے پر بھی سام رکھا جاسکتا ہے یا عورت پناہ طلب کرلیتی ہے۔ وہ حلف اٹھاتی ہے کہ تمام عمر خدمت گزاری کرے گی۔ ’’سام‘‘ کا مطلب ہے تاحیات خدمت بہ حیثیت غلام یا باندی۔ سارے اختیارات سردار کو حاصل ہوجاتے ہیں۔ وہ سام کو جنسی تسکین کے لیے استعمال کرسکتا ہے، اس کی بولی لگا کر فروخت بھی کر سکتا ہے۔ قیمت بھی بہت ملتی ہے خصوصاً اگر وہ خوبصورت اور جوان ہو۔

ہمارے یہاں اکثر ونی اور سوارا جیسے لفظ سننے میں آتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ونی اور پختون قبائل میں سوارا کے نام پر جاری انتہائی قدیم اور افسوس ناک رسم ہے جس میں کسی جرم یا گناہ حتیٰ کہ الزام کی صورت میں جان بخشی کے لیے عورتیں نکاح میں دے دینا ونی یا سوارا کہلاتا ہے۔ خون بہا کے طور پر سرحد میں عورت دینا سوارا اور جنوبی پنجاب میں قتل معاف کرانے کی صورت میں عورت دینا ونی کہلاتا ہے۔ قبیلوں میں رواج رہا ہے کہ قبائلی جھگڑے چکانے کے لیے یا اتحاد قائم کے لیے مویشی، زمین اور عورت استعمال کی جاتی ہے۔ ’’ونی‘‘ کا فیصلہ جس میں کسی تنازعے کے تصفیے میں آدھی یا مطلوبہ زمین یا کھیت دے دیا جاتا ہے ورنہ عورت تو ہے ہی۔ مقامی تنظیموں بشمول ایچ آر سی پی کی تحقیقات اور میڈیا میں ان واقعات کی تشہیر سے نہ صرف یہ رسم منظر عام پر آئی بلکہ اس ضمن میں عدالت نے بھی کارروائیاں کیں۔ اس ضمن میں ازخود خواتین کی طرف سے اس رسم کے خلاف مذمت اور مزاحمت سامنے آئی ہے۔ اپریل 2006 میں میانوالی کی 24 سالہ ناہید اختر نے اس فیصلے کو مسترد کردیا کہ جب وہ صرف دو سال کی تھی تو ایک قتل کے خون بہا کے طور پر اسے ونی کردیا گیا تھا۔ اس نے پولیس میں پٹیشن داخل کی اور دو افراد اپنے باپ اور جس شخص سے ونی ہوا تھا اس کے خلاف مقدمہ کردیا۔

یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ ظلم سہنے والیاں جو اب سے کچھ دنوں پہلے تک ہر ستم خاموشی سے برداشت کرتی تھیں، اب وہ ان قبائلی رسم و رواج کے خلاف آواز بلند کرنے لگی ہیں اور انصاف کے لیے عدالت کے دروازے پر بھی دستک دیتی ہیں۔ پاکستان میں تعلیم یافتہ عورتوں اور باضمیر مردوں کی سالہا سال پر محیط کوششوں نے روایات کی آہنی زنجیروں کو کہیں پگھلایا ہے، کہیںتوڑا ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ پیدا کہیں بہار کے امکان ہوئے تو ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.