.

طالبان کے ساتھ جنگ بندی ؟

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردوں سے لڑنے کا عزم موم کی مورت، منت سماجت ک رکے اُنہیں رام کرنے کی حکمت اٹل اور لافانی اور یہی پالیسی اعلیٰ ترین سیاسی بصیرت کا اظہار جبکہ دفاعی ادارے ، اگرچہ ، جیسا کہ نجی طور پر ذکر کیا جاتا ہے، اس صورت ِ حال پر ناخوش لیکن سول حکومت کی بالادستی کی آڑ میں سکوت کے مظہر تو پھر اس ہمہ جہت ’’فعالیت‘‘ کاایک ہی منطقی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے... طالبان کے خلاف چار و ناچار لئے جانے والے ایکشن، جو ’’ہر چند کہیں ہے کہ نہیں ہے‘‘ کی عملی مثال تھا، سے ہاتھ کھینچ لیا جائے۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں موسم ِ گرما اور پھر موسم ِ سرما میں اولمپک مقابلوں کا انعقاد ہوتا ہے تو ہماری نابغہ ٔروزگار پالیسیوں کا شاہکار یہ ملک بھی کچھ اپنی ہی قسم کے کھیل کود میں مہارت حاصل کرچکا۔

چنانچہ جب ایسا لگتا ہے کہ فوج اور حکومت کنفیوژن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھرپور کارروائی کرنے جارہے ہیں تو اس کے ساتھ خوشخبری کی صدائوں اور مبارک سلامت کے شور سے فضا گھونج اٹھتی ہے کہ ریاست ِ پاکستان اور طالبان کی مجلس ِ شوریٰ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ولادی میر پیوٹن چیچن باغیوں یا انڈیا کشمیر میں لشکر ِ طیبہ کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کردے لیکن پاکستان میں چلنے والی جہادی ہوائوں کے دوش پر پتھر بھی پرواز کرسکتے ہیں۔ کیا ہمارے سیاسی بقراط یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست ِ پاکستان اور طالبان کی اسلامی امارت کے درمیان کوئی قدر مشترک ہوسکتی ہے؟

اگر وہ واقعی ایسا سوچ رہے ہیں تو کیا وہ عوام کے سامنے اس کا اظہار کرنا پسند کریں گے کہ آگ اور پانی کا یہ ملاپ کس شرط اور تاویل پر عالم امکان میں حقیقت بننے جارہا ہے؟ کیونکہ جب تک فریقین کے موقف میں کوئی اشتراک نہ ہو، مذاکرات کیسے ممکن ہو سکتے ہیں چنانچہ اب جو جنگ بندی کی جارہی ہے، اس سے حکومت اور دفاعی اداروں کے ہاتھ کیا آئے گا؟ کیا کالعدم تحریک ِ طالبان پاکستان امن کا جامہ زیب تن کرلے گی؟کیا دشمن کو تیاری کا موقع دے کر ایک ماہ بعد فوج اس پر کاری ضرب لگالے گی ؟ اگر ایسا نہیں تو پھر کس امن کی امید بندھائی جارہی ہے؟ یادرکھیں، آپ چاقو سے پتھر نہیں کاٹ سکتے، اس نے ہتھوڑے سے ہی ٹوٹنا ہوتا ہے۔

جہاں تک طالبان کا تعلق ہے،تو ان کیلئے جنگ بندی کی پیشکش خالصتاً عسکری حکمت ِ عملی ہے کیونکہ پی اے ایف کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے ہونے والی بمباری اور شیلنگ رکنے سے اُنہیں خود کو دوبارہ منظم کرنے، اپنے نقصانات کا ازالہ کرنے اور اگلے رائونڈ کی تیاری کا موقع مل جائے گا۔ اس سیز فائر کے عوض اُنھوں نے کچھ نہیں دیا، ایک انچ جگہ نہیں چھوڑی اور نہ اپنے سخت گیر موقف میں کوئی نرمی پیدا کی۔ اس دوران فوج اور حکومت نے دعویٰ کیا کہ فضائی آپریشن کامیاب جارہا ہے تو طالبان نے بھی بہتر سمجھا کہ وہ برسنے والے بموں سے نجات کے لئے فی الحال سیز فائر کی پیشکش کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ بات وہ عسکریت پسند بھی جانتے ہیں کہ دانائی ہی بہترین دلیری ہوتی ہے۔ درحقیقت ماضی کی طالبان قیادت کی نسبت اس کی موجودہ شوریٰ انتہائی زیرک اور معاملہ فہم ہے۔ چنانچہ فائر بندی سے طالبان کو سکون میسر آ جائے گا لیکن حکومت اور فوج کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، سوائے اس کے کہ حریف کو وقت دے کر اُسے تقویت پانے کا موقع دے دیں۔ ایف سی کے تئیس جوان، جن کے نہایت سفاکی سے گلے کاٹے گئے اور جس بربریت نے چار و ناچار دفاعی اداروں کو کارروائی کرنے پر مجبور کیا، اب دوبارہ اس دنیا میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی تحریک طالبان پاکستان ہتھیار ڈالتے ہوئے امن کی راہ اپنائے گی۔

یہ اس صدی کی سادہ ترین سچائی ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی عقل پر اس کی تفہیم گراں ٹھہری۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ صبر کریں اور نتیجہ نکالنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں کیونکہ یہ ابھی پہلا قدم ہے، مذاکرات در مذاکرات کرتے ہوئے امن کی منزل حاصل کرلی جائے گی۔ بہت بہتر، چلیں ہم اپنے خدشات اور منفی سوچ سے احتراز اور کھلے ذہن سے رجائیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مذاکراتی عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن وہی پرانا سوال اپنی جگہ پر موجود کہ طالبان سے ہونے والی بات چیت، اگر تفصیل بتانا مناسب نہیں، کی کوئی تو آئوٹ لائن تو بتائیں کہ آخر کیا بات کرنے جارہے ہیں اور ان کی کون کون سی باتیں ماننے کا عندیہ دیا جارہا ہے؟ تاہم فی الحال اس سوال کا جواب، صحرا کا سکوت۔ اس تمام عمل میں اب تک ہونے والی پیشرفت یہ کہ چار رکنی کمیٹی خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھر گئی جبکہ وزیر داخلہ اب مرکزی اسٹیج سنبھال کر امن کی شمع روشن کرنے جارہے ہیں۔ ہم معجزات کی توقع کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لئے صدق ِدل سے دعا کرتے ہیں۔

بہرحال یہ ایک اچھی پیشرفت ہے کیونکہ چار رکنی کمیٹی بالکل بے اختیار تھی۔ اب تمام معاملات چوہدری نثار کے ہاتھ میں ہیں، حکومت کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان وزارت ِ داخلہ کی طرف سے آیا اور اگر اب بھی امن کی بیل منڈھے نہ چڑھی تو پھر کسی کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہو گا۔ شاید کوئی اور معاملہ ہوتا تو ہم اس کنفیوژن میں کچھ عرصہ اور گزار لیتے لیکن ہمارے پاس وقت بالکل نہیں ہے، امریکی افغانستان سے جانے والے ہیں اور ہم نے انتہائی اہم فروری ضائع کر دیا۔ یہ مہینہ ہماری قسمت کا فیصلہ کر سکتا تھا لیکن ان اٹھائیس دنوں کو ضائع کرتے ہوئے ہم نے خوفناک نقصان کر لیا۔ امریکیوں کے جانے کے بعد افغانستان کی صورت ِ حال یکسر بدل جائے گی اور اس کے ساتھ ہی طالبان کے تیور بھی۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مولانا فضل اﷲریاست ِ پاکستان کی کنفیوژن کو دیکھ کر تذبذب کا شکار ہوجائے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔ خنجر کی تیز دھار مصافحہ کرنے کے لئے نہیں، کشت وخون کے لئے بنی ہوتی ہے۔

وائس ائیرمارشل شہزاد چوہدری کا The News میں اس ہفتے شائع ہونے والا مضمون ’’The case of the LTTE‘‘ پڑھنے کے لائق ہے۔اس مضمون میں وہ سری لنکا، جہاں اُنھوں نے 2006ء میں بطور سفیر خدمات سر انجام دیں، میں تامل ٹائیگرز کی شورش کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کس طرح امن کی کوشش کرنے اور ان کو مزید رعایتیں دے کر خوش کرنے کی پالیسی ناکامی سے ہمکنار ہوئی تو آخر کار سری لنکا کی حکومت کو انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے تامل ٹائیگرز کو کچلنا پڑا۔ اگر معروضی نظر سے دیکھیں تو تامل ٹائیگرز کا کچھ موقف درست تھا کیونکہ اُنھوں نے سنہالی آبادی کی اکثریت والی اس ریاست میں جبر کا سامنا کیا تھا لیکن طالبان کی شورش پسندی کسی سیاسی مطالبے کی بنیاد پر نہیں اور نہ ہی اس کے پیچھے ریاستی جبر کا استعارہ کارفرما ہے بلکہ یہ پاکستان پر اپنا من پسند شرعی نظام لاگو کرنے کی کوشش ہے۔

طالبان فاٹا کی آزادی یا انسانی اور جمہوری حقوق کے لئے جدوجہد نہیں کر رہے ہیں، وہ اپنی تنگ نظر اور دقیانوسی سوچ کو ریاست ِ پاکستان پر عملی طور پر نافذ کرتے ہوئے اسے کسی قدیم دور کی امارت بنانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت اُنہیں پیار سے پچکارتے، کرکٹ کھیلنے کی پیشکش کرتے اور خود کو مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے امید کررہی ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں جم جائے گی، کوئی معجزہ رونما ہوگا اور طالبان اور ریاست کے درمیان محبت کا زمزم بہنا شرو ع ہوجائے گا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رہنے والی پشتون آبادی کی اکثریت پاکستان کے ساتھ وابستگی اس لئے نہیں رکھتی کہ اقبال کی شاعری نے ان کے دل میں حب الوطنی کی شمع روشن کررکھی ہے بلکہ صرف اس لئے کہ ان کا معاشی مفاد پاکستان سے وابستہ ہے لیکن فاٹا کے جن علاقوں میں طالبان کو بالادستی حاصل ہے، وہاں رہنے والی آبادی کو ریاست ِ پاکستان پر کوئی اعتماد نہیں کہ وہ انہیں طالبان سے بچا پائیں گے۔ اگر پاک فوج بے دھڑک ہو کر کارروائی کرنا چاہے تو اسے قبائلی عوام کی حمایت درکار ہو گی لیکن موجودہ صورت میں ایسی حمایت کا یقین کون دلائے گا؟ سابق آرمی چیف جنرل کیانی کے دور میں دفاعی اداروں کی طرف سے ہمارے دور کا سب سے بڑا بے بنیاد تصور، جس پر عوام کی اکثریت آنکھیں بند کر کے یقین کر بیٹھی، پھیلایا گیا کہ شمالی وزیرستان انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے، اس لئے وہاں کارروائی مشکل ہے۔

حقیقت یہ کہ جنوبی وزیرستان زیادہ دشوار گزار علاقہ ہے، شمالی وزیرستان نسبتاً ہموار ہے۔ شمالی وزیرستان کا اہم قصبہ میران شاہ ہے اور وہاں ایک ڈویژن فوج اور ایف سی کا ہیڈکوارٹر ہے اور وہیں حقانی گروہ بھی موجود ہے۔ فوج کے ہیڈکوارٹر سے وہ گھر جہاں امریکی ڈرون سے حکیم اﷲ محسود اپنے انجام تک پہنچا، چار یا پانچ کلومیٹر دور ہے۔وہ گائوں، جہاں ازبک، چیچن اور ہمارے عرب مجاہد بھائی تشریف فرما ہیں، وہ بھی زیادہ دور نہیں۔جب اسلام آباد عدالت پر حملہ ہوا تو ہر چینل پر شاہد اﷲ شاہد موجود تھا اور کہہ رہاتھا (اور ملک بھر میں اس بات پر نہایت طمانیت سے یقین بھی کیا جا رہا ہو گا) کہ اس حملے میں تحریک ِ طالبان ملوث نہیں۔ وہ ٹھیک کہتا ہے، سب نے دیکھا تھا کہ امریکی یا یہودی ایجنٹ عدالت میں داخل ہوئے، کندھے پر لی ہوئی چادر ہٹائی اور مقامی زبان میں کلام کرتے ہوئے فائر کھول دیا۔ پتہ نہیں اُنہوں نے جج صاحب کو کیسے اور کیوں شناخت کرلیا۔ شاید یہ کارروائی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لئے تھی۔ بیان کے آتے ہی طالبان کے حامی اور ان کی ملک میں کمی نہیں، یک زبان ہو کر حکومت سے مطالبہ کرنے لگے کہ امن، جو صرف طالبان کے ان حامیوں اور وزارت ِ داخلہ کے حکام کو خصوصی چشموں سے دکھائی دیتا ہے، کی راہ سے قدم نہ ڈگمگانے پائیں... عوام کا کیا ہے، مرنے دیں انہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.