.

بھارت میں ووٹوں کی تلاش

سیما مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب انتخابی ہنگامہ خیزی کا اختتام ہو جائے گا تو توقع ہے کہ بھارت میں ایک نئی وفاقی حکومت قائم ہو جائے گی۔ لیکن یہ بھی قطعی امید ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران سیاست اپنے بدترین دور سے گزرنے والی ہے کیونکہ بھارتی قائدین آئندہ سیاست میں اپنا مقام بنانے کے لیے سیاسی جوڑتوڑ میں مصروف ہوں گے۔

اس وقت یہ امر کافی حیران کن محسوس ہوتا ہے کہ اب جبکہ بھارت میں آئندہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے جو نومراحل میں ہوں گے جن کا دورانیہ اپریل سے مئی تک ہوگا، لیکن بھارت کی کوئی بھی سیاسی جماعت ابھی تک نہ تو حالات پر قابو پا سکی ہے اور نہ ہی اپنے ووٹوں کی تلاش کے لیے کوئی جامع منصوبہ تیار کر سکی ہے۔ اس وقت بھارتی انتخابات میں شریک تمام امیدواروں کی حتمی فہرست کا اعلان نہیں ہوا جبکہ بی جے پی کے مانند نام نہاد سیاسی قومی جماعتیں اور کانگریس مناسب امیدواروں کی تلاش میں ہیں، نئے نئے اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہیں اور پھر نشستوں کے جوڑتوڑ کے معاملے پر پہلے سے تشکیل شدہ اتحاد ٹوٹ رہے ہیں۔ اس وقت جبکہ کانگریس کے راہول گاندھی اور بی جے پی کے نریندرامودی ذاتی لحاظ سے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں، ان کی سیاسی جماعتیں اپنے لیے ووٹوں کی تلاش کے لیے کوئی جامع انفراسٹریکچر بنانے میں ناکام ہیں۔

اس وقت دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے دردِ سر، عام آدمی پارٹی ہے جس کے قائد اروِند کجریوال ایسے پہلے سیاستدان کی حیثیت سے ابھرے ہیں جو کسی بھی وقت نریندرامودی کی ’’ہوم گراؤنڈ‘‘ گجرات میں بی جے پی پر حملہ کر سکتے ہیں۔ وہ اس وقت ریاست گجرات کے طوفانی دورے پر ہیں حالانکہ میڈیا، بی جے پی اور پلاننگ کمیشن اس امر پر متفق ہیں کہ معاشی لحاظ سے نریندرامودی نے نہایت شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔ دوسری طرف عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروِندکجریوال کی تصاویر ٹیلی ویژن پر دکھائی جا رہی ہیں کہ وہ نریندرامودی کے گھر کے سامنے کھڑے ہیں اور ان سے ملاقات کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ ان سے کچھ سوالات پوچھ سکیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مودی نے کجریوال کو ملاقات کے لیے وقت نہیں دیا لیکن کجریوال اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ انہوں نے گجرات میں اپنے حریف امیدوار کو اس کے دعووں کے لحاظ سے دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

عام آدمی پارٹی نے اپنے نام کے ذریعے بھارتی عورت کو جو نظرانداز کیا ہے،اس پر شدید تنقید ہو رہی ہے لیکن کجریوال نے ان انتخابات میں ایک ڈرامائی عنصر داخل کیا ہے کہ کجریوال ایک ’’اَن گائیڈڈمیزائل‘‘ہیں جو کہیں بھی ’’حملہ آور‘‘ہو سکتے ہیں۔ وہ نہایت ہی ذہین انسان ہیں اوران میں ہوشیاری بھری پڑی ہے، ممکن ہے کہ ان کا طریقہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کے لیے ناراضی کا سبب ہو، لیکن وہ نچلے طبقے کے لیے باعث کشش ہیں جن میں غریب لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ سیاسی جماعت مختلف قسم کے اراکین کامجموعہ ہے اور ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہے۔ ایک طرف تو یہ سیاسی جماعت، سینئرایڈووکیٹ پرشانت بھوشن کی طرف سے کشمیر میں ریفرینڈم کے متعلق اظہار خیال سے بریت کا اظہار کرتی ہے لیکن دوسری طرف ایروم شرمیلا کو پارٹی ٹکٹ کی پیشکش کرتی ہے جو آرمڈ فورسز سپیشل پاورزایکٹ کے سخت خلاف ہے۔

اس وقت عام آدمی پارٹی، بی جے پی اور کانگریس کے لیے کانٹابن چکی ہے اور یہ دونوں جماعتیں اس سیاسی جماعت کے ساتھ اتحادبنانے کی طرف متوجہ نہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ کسی بھی وقت کجریوال ان کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عام آدمی پارٹی کتنے فیصد ووٹروں کو اپنی طرف راغب کر پائے گی۔ اس نے اپنی انتخابی مہم نہایت تاخیر سے شروع کی، اس کے پاس مناسب امیدوار بھی نہیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں تنظیم کی بھی کمی ہے۔ توقع ہے کہ ہریانہ اور دہلی میں عام آدمی پارٹی اکثریت حاصل کر لے گی، علاوہ ازیں چندی گڑھ اور بنگلور کے شہری علاقوں میں بھی کچھ حد تک کامیابی حاصل کرے گی۔

لیکن عام آدمی پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ میں کم از کم 35,40 نشستیں حاصل کرنے کا ہدف حاصل کرلینے کے بعد یہ سیاسی جماعت تیسری بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھرے گی جو نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے اہم عنصر ثابت ہوگی۔

اس وقت انتخابی مہم کا بمشکل آغاز ہی ہوا ہے ، اس لیے نتائج کی پیش گوئی ممکن نہیں اور بھارتی عوام، جو ان سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹ دیں گے، اس وقت محض ان سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس وقت بھارتی دیہاتوں میں بسنے والے ووٹر، اہم حیثیت رکھتے ہیں اور اب دیکھنایہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے لیے ووٹوں کی تلاش کیسے کرتی ہیں۔

بشکریہ: دی ایکسپریس ٹریبیون
ترجمہ: ریاض محمود انجم

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.