.

فوج کا نکاح یا حلالہ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم کے ایک غیر منتخب مشیر اوور ایج ہونے کی وجہ سے پی ٹی وی کے نکاح میں نہ آ سکے، انہیں ایک نو مولود امن کمیٹی کے ساتھ ونی کر دیا گیا۔ یہ ایک بے جوڑ رشتہ تھا، اس لئے چند ہی ہفتوں میں انہوں نے از خود وزیر اعظم سے در خواست کی انہیں اس کار بے لذت سے نجات دلائی جائے اور ان کی جگہ فوج کا نمائندہ ڈالا جائے، اب کور کمانڈرز کانفرنس تو ہو چکی مگر آئی ایس پی آر کی مختصر سی پریس ریلیز سے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ فوج نے اس رشتے پر ہاں ! ہاں! ہاں کی ہے یا نہیں۔

اخبارات کی ہیڈلائنیں تو ابہام پھیلا رہی ہیں، کسی اخبار نے اندر کی خبر نکالی ہے کہ فوج نے قاتلوں کی پالکی کو کندھا دینے سے معذرت کر لی ہے ، کوئی اخبار یہ دور کی کوڑی لایا ہے کہ فوج دور بیٹھے گی مگر حکومت کی مذاکراتی بارات پر ڈھول بجائے گی۔وزیر دفاع ایک ذمے دار انسان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے دہشت گردی کی تو جواب میں آپریشن ہو گا اور اسی مارچ میں کوئیک مارچ ہو گا۔ اب اگر وزیر دفاع کے اعلان پر یقین کر لیا جائے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس پر یقین نہ کیا جائے کیونکہ اس سے اگلے روز وزیر خزانہ نے آرمی چیف سے ایک ملاقات راولپنڈی میں کی ہے، یہ وہی راولپنڈی ہے جس کا ذکر شیخ رشید کی زبان پر اکثرجاری رہتا ہے۔

اطلاع یہ ہے کہ وزیر خزانہ نے دفاعی بجٹ میں پندرہ سے بیس فی صد اضافے کی ہامی بھری ہے۔ دوسری اطلاع یہ ہے کہ وزیر خزانہ نے شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کے اخراجات پر تبادلہ خیا ل کیا ہے اور اس کے لئے خزانے کے دروازے کھولنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ذرائع کے حوالے سے وزیر خزانہ کا یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ مسلح افواج کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔سچی بات یہ ہے کہ یا لوگ تو اس کے بر عکس یہ اعلان سننا چاہتے تھے کہ فوج حکومت کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے گی۔مگر ہو ا کیا ، ایک تو وزیر خزانہ چل کر آرمی چیف کے پاس گئے، دوسرے انہوںنے فوج کی مالی ضروریات پوری کرنے اوراس کے علاوہ بھی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ میں یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ اس سے وزیر خزانہ یا منتخب حکومت کی کوئی سبکی ہوئی ہے، حکومت تو پولیس سے بھی پوچھ رہی ہے کہ آپ کو سیکورٹی کے لئے کیا چاہئے اور عدالتیں تو حکم دے رہی ہیں کہ فلاں کام چوبیس گھنٹوں میں مکمل کیا جائے۔

قارئین نے ایک سابق امریکی نمائندے گراسمین کا تجزیہ پڑھا ہو گا جس میں کہا گیا ہے کہ پاک فضائیہ کے ٹھیک ٹھیک نشانوں اور فوج کی متعین اہداف پر سرجیکل اسٹرائیکس نے طالبان کو جنگ بندی پر مجبور کیا ہے۔ یہ بات میں تواتر سے کہتا چلا آرہا ہوں کہ پیش قدمی اور بھرپور کاروائی کے دوران سیز فائر خود فوج کی موت ہے، پینسٹھ میں دوران جنگ کشمیر کے کمانڈر کی تبدیلی سے سارے کئے کرائے پر پانی پھر گیا تھا۔ مشرقی پاکستان کے محاذ سے صاحبزادہ یعقوب کا ضمیر جا گ اٹھاتھا یا جی ایچ کیو میں جنرل یحی خاں ، جنرل حمید ، جنرل عمر کے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے جنرل نیازی کو وہاں بھیج دیا گیا تھا، اس کا خوفناک نتیجہ فوج کو سرنڈر اور قیدو بند کی شکل میں بھگتنا پڑا اور قائد اعظم کا تشکیل کردہ پاکستان دو لخت ہو کرر ہ گیا۔ شام میں امریکی صدر اوبامہ فوجیں اتارنے کے لئے تیار تھے مگر روسی صدر پوٹن کے ایک خط نے امریکی جارحیت کے قدم روک دیئے۔ اس سے شام کے عوام کی شامت میں اضافہ ہوگیا۔ بے آف پگز کے بحران میں امریکہ اور روس آمنے سامنے آگئے تھے مگر امریکہ کی نیم دلانہ مہم جوئی نے فیڈل کاسترو کو نا قابل شکست بنا دیا اور روس نے کیوبا میں ایٹمی میزائل نصب کرنے کا منصوبہ بنا لیا، اس بحران نے امریکی دفاعی پالیسیوں کی کمزوریاں عیاں کر دیں۔

جنگ بدر کے فیصلہ کن لمحات کون بھول سکتا ہے، حضور ﷺ کے ارد گرد ایک حصار تھا جس پر کفار کا ایک گروہ ٹوٹ پڑا تھا، لشکر اسلامی کے علم بردار کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس نے دوسرے ہاتھ میں علم تھام لیا، کافروں نے دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا، مجاہد اسلام نے علم کو اپنے دانتوں میں دبا کر اس قدر بلند رکھا کہ مدینہ کے بچے کھچے لشکر کے حوصلے بلند ہو گئے۔ اور انہوں بازی جیت لی۔ جنگ احد میں اس سے بھی سخت اور سنگین لمحات آئے، حضور ﷺ کو ایک پہاڑی پر پناہ لیناپڑی ، چند ایک جانثار ان کے ارد گرد دائرے میں ڈٹ گئے، مگر دشمن اس قدر قریب تھا کہ ان کی تلواروں کے وار سے حضور ﷺ کے دو دانت شہید ہو گئے اور ان کے سر کے خود کی نوک ان کے رخسار مبارک کے اندر دھنس گئی۔حضور ﷺ کے دفاع میں لڑنے والے ایک ایک کر کے شہید ہو رہے تھے ، اور جب وہ زمین پر گرتے تو ان کے سر حضور ﷺ کے قدموں میں تڑپ رہے تھے۔ لیکن اس قیامت کے عالم میں فدائین میں سے کسی کے قدم ڈگمائے نہیں اور کسی نے امن کی دہائی نہیں دی۔ مجھے کوئی بتائے ، کہ کیا آج ہم پر اس سے برا وقت آیا ہے جو جنگ بدر اور جنگ احد میں حضور ﷺ پر آیا تھا، کیا آرمی چیف جنرل راحیل شریف یا وزیر اعظم نواز شریف کی جان میرے نبی پاک ﷺ کی جان سے زیادہ قیمتی ہے کہ ہم عین اس وقت امن ! امن ! امن! کی بھیک مانگ رہے ہیں جب ہم دشمن کے تما م ٹھکانوں کو ملیا میٹ کر چکے ہیں، اب امن کی ہمیں نہیں، دشمن کو ضرورت ہے، وہ نئے ٹھکانے بنانا چاہتا ہے، نئی صف بندی کرنا چاہتا ہے، نئی ریکروٹمنٹ کرنا چاہتا ہے، نئی دہشت بٹھانا چاہتا ہے۔

آج سرکاری امن کمیٹی کے علاوہ کوئی اس حق میں نہیں کہ فوج براہ راست دہشت گردوں سے مذاکرات کرے۔ مذاکرات مگر کس سے۔ کیا اسلام آباد کی ایک سرکاری مسجد سے اٹھنے والی مزاحمتی تحریک کسی خود مختار ، آزاد ملک کی نمائندگی کرتی ہے، پشاور کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ وہ طالبان کو دفتر کھولنے کے لئے جگہ دینے کو تیار ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کے طول وعرض میں طالبان کے پاس اس وقت ایک چپہ بھی ایسا نہیں جہاں وہ میز کرسی سجا سکیں اور اگر ایسی کوئی جگہ ہے بھی تو وہ ایف سولہ کے نشانے میںہے۔

شاہداللہ شاہد نے للکارا ہے کہ جو مذاکرات کے بجائے جنگ کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کا شایان شان استقبال کر نے کے لئے تیار ہیں، میں اپنے جی ایچ کیو سے بھی اسی طرح کا دلیرانہ اعلان سننے کا منتظر ہوں۔ افواج پاکستان اپنے آئینی حلف کی بنا پر ریاست کے دفاع کی مکلف ہیں۔ دنیا کی کسی فوج پر گولی چلتی ہے تو ہرملک کا آئین گولی کی زد میں آنے والے ایک ایک سپاہی کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے، افواج پاکستان سے یہ حق کیوں چھینا جا رہاہے۔ سرکاری امن کمیٹی اپنا نکاح قائم نہیں رکھ سکی تو وہ حلالے کے لئے کسی اور سے رجوع کرے، فوج کو کیوں حلال کروانا چاہتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ ' نوائے وقت '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.