.

قومی سلامتی منصوبہ اور مذاکرات

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بالآخر پاکستان کی قومی پالیسی تشکیل دے کرقومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے، جس کا پہلا جزو خفیہ دوسرا اسٹرٹیجک اور تیسرا عملی اقدام پر مشتمل ہے۔ اگرچہ کہا جاسکتا ہے کہ بہت دیر کی مہرباں لاتے لاتے، مگر پھر بھی اِس بات کو سراہا جانا چاہئے کہ پاکستان نے قومی سلامتی کو مرتب کرلی، کچھ اصول وضع کرلئے، کئی اہداف مقرر کردیئے اور بحالت مجبوری یا سرخ لکیر کو عبور کرنے کی صورت میں آپریشن کے عمل کو روبہ عمل لانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ یہ پالیسی ابھی منظور تو نہیں ہوئی البتہ یہ عوامی نمائندوں کے سامنے رکھ دی گئی ہے اور اس کے خفیہ حصے پر پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اِس سے پہلے تحریک طالبان پاکستان نے مذاکرات کی دعوت قبول کرلی، جس پر حکومتی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں گے، مگر دو روز نہیں گزرے کہ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹ پر جان لیوا حملہ کردیا گیا، جس میں ایک جج اور ایک نوجوان وکیل صاحبہ کے علاوہ کئی افراد جاں بحق ہوگئے۔

سیکورٹی نام کی کوئی چیز بھی موجود نہیں تھی سوائے ایک پولیس نوجوان کے جس نے گولی چلا کر ایک دہشت گرد کو زخمی کیا، نتیجہ میں اس نے اپنے آپ کو خودکش جیکٹ کے ذریعے اڑا لیا۔ سابق چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کہتے ہیں کہ دہشت گرد 45 منٹ تک لوگوں کو چن چن کر مارتے رہے، اِن دہشت گردوں کی تعداد 12 سے زائد بتائی جاتی ہے جو گاڑیوں میں سوار ہو کر فرار ہوگئے اور صرف دو خودکش حملہ آور اپنی خودکشی کا شکار ہوئے ۔شرم کا مقام ہے کہ ایک نوجوان خاتون وکیل کی گردن میں گولی ماری گئی۔ اِس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول نہیں کی اور کہا کہ یہ بھارت کی کارروائی ہوسکتی ہے ایک نئی تنظیم احرارِ الہند نے اِس کی ذمہ داری قبول کرلی، اس پر اگرچہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ ان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ طالبان کو اِس کی مذمت کرنا چاہئے اور اِن کو تلاش کر کے پاکستان کے حوالے کرنا چاہئے اس پر جواب الجواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ اُن کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ پتہ چلائیں کہ کام کس کا ہے بلکہ یہ کام پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کا ہے۔

انہوں نے اِس حملے کی مذمت کرنا بھی گوارا نہیں کی۔ اِس کے باوجود حکومت نے طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کرلیا۔ اگرچہ اسلام آباد کے بعد ہنگو میں بھی سیکورٹی فورسز پر حملے کئے گئے، پھر 5 مارچ کو فوج پر حملہ کیا گیا جس کی ذمہ داری ایک اور نئی تنظیم انصار المجاہدین نے لے لی، جو اگرچہ بلوچستان میں حملے میں ملوث تھی اور ایران میں مداخلت کرتی ہے لیکن اِس دفعہ اس نے خیبرپختونخوا میں فوج کو نشانہ بنایا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات اور حملے جاری ہیں، اگرچہ وزیراعظم پاکستان نے واضح طور پر کہا تھا کہ حملے اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ جو دونوں ساتھ ساتھ چل پڑے ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ اسلام آباد پر حملے کا خطرہ نہیں انہوں نے مناسب اقدام اٹھالئے ہیں۔

اُن کا بیان درست ثابت نہیں ہوا اور اُن کے سیکورٹی نظام کی قلعی کھل گئی۔ اس پر اُن سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں، ہمارے خیال میں یہ ذرا جلدی ہوگا۔ چوہدری نثار انتہائی تندہی سے بگڑے ہوئے نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پچھلی حکومت نے ہر چیز کی قیمت لگائی ہوئی تھی۔ اس دور میں اتنے حملے ہوئے مگر کوئی سیکورٹی پلان نہیں بنا، اُن کے دور میں پاسپورٹ کا حصول بھی کرپشن کے لئے تاخیر کا حربہ استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک راشی سے کسی نے اسکی حالت خوشی کے دوران پوچھا کہ آپ رشوت کیسے لیتے ہیں، اس نے کہا کہ ہم کام میں تاخیر کرتے ہیں، لوگوں کو بے یقینی ہوتی ہے یا جلدی ہوتی ہے، اس لئے وہ ہمیں رشوت دے دیتے ہیں، مگر چوہدری نثار نے پاسپورٹ کے سلسلے میں صحیح افسر کا چناو کیا، سلطان سکندر ڈی جی پاسپورٹ نے دن رات ایک کرکے متعین شدہ وقت میں پاسپورٹ کا حصول ممکن بنا دیا۔

اسی طرح چوہدری نثار جانفشانی سے دہشت گردوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ٹوٹے پھوٹے، ٹکڑے ٹکڑے، بکھرے نظام کو یکجا، یکسو اور کارآمد بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے بعد ساری دُنیا میں پاکستان میں سب سے زیادہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں اور آپس میں اِن کا کوئی رابطہ نہیں وہ ایک سیکریٹریٹ بنا کر انٹیلی جنس اداروں کو مربوط نظام کے تحت لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ ایک تیز رفتار فورس بنانے کا اعلان کرچکے ہیں اور یہ بھی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر طالبان نے ہم پر حملہ کیا تو ہم بھی اُن کے خلاف جوابی حملہ کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ 23 ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے بعد ایئرفورس نے ڈرون کی مدد سے جو حملے کئے وہ انتہائی موثر ثابت ہوئے اور طالبان مذاکرات پر بظاہر آمادہ نظر آئے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں یہ فریب ہے کہ وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں وقت کا حصول ان کی منشا نظر آتا ہے۔ یہ بات وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کہی کہ اگر طالبان کے خلاف مارچ میں آپریشن نہیں کیا گیا تو اپریل اور مئی میں اس لئے نہیں کئے جاسکیں گے کہ افغانستان میں الیکشن ہورہے ہوں گے اور اگر مہاجرین کے قافلے وہاں پہنچے تو حامد کرزئی الیکشن ملتوی کرسکتے ہیں، پھر جون میں رمضان آجائے گا تو حملے نہیں کئے جائیں گے، اس کا کیا مقصد ہوا کہ اگر آپریشن ہونا ہے تو ابھی ہونا ہے۔ پھر یہ حملے کیوں نہیں روک رہے ہیں، نئے نئے گروپ میدانِ عمل میں آرہے ہیں، اُن کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ احرارِ الہند نامی تنظیم کے ارکان کو اسلام آباد میں آس پاس ہی ڈھونڈنا چاہئے اور انصار المجاہدین جو پاکستان میں اپنی کارروائی کررہی تھی اُن کا پتہ چلانا بھی ممکن ہے۔ یہ کام اب کر ڈالنا چاہئے۔

دوسری طرف مذاکرات کے سلسلے میں اسٹرٹیجی ہے، اس سے رجوع کرنا چاہئے کیونکہ یہ درست نہیں تھا کہ پاکستان کا وفد اکوڑہ خٹک جا کر مولانا سمیع الحق سے ملتا، مولانا سمیع الحق کا ہم احترام کرتے ہیں مگر اسٹیٹ کرافٹ یا راج نیتی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اسلام آباد آتے، اِس سے ریاست کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔تاہم نتائج اچھے نکلے کہ طالبان اور حکومت ڈائریکٹ مذاکرات پر راضی ہوگئے، گمان یہ ہے کہ طالبان نے ایسے شواہد دیدئے ہیں جس سے اس گروپ کی نشاندی ہوگئی ہے جس نے اسلام آباد اور ہنگو میں حملے کئے، اسکے باوجود ہمارا نہیں خیال کہ طالبان اور وہ عناصر جو غیر ملکی امداد کے سہارے چل رہے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرکے امن قائم کریں گے۔ وہ خود یا اُن سے نکلے نئے گروپ بنتے رہیں گے کہ دشمن کا پیسہ ہے اور یہ پیسوں کے پجاری ہیں۔ ان کے خلاف سخت جنگ کرنا ہوگی۔ اگر 26 انٹیلی جنس ایجنسیاں مربوط ہو جائیں تو اِن لوگوں کا پتہ چلانا اور اِن سے قانون کے مطابق نمٹنا مشکل نہیں ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.